جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کیا سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیر مقدم
دیوبند، 19؍ فروری
(رضوان سلمانی)
سی اے اے اور این آرسی کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف وصولی کے نوٹس جاری کرنے پر سپریم کورٹ کے ذریعہ اترپردیش کی یوگی حکومت کو سخت پھٹکار لگائے جانے کا جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی نے خیر مقدم کیا اور اسے بڑی پیش رفت بتایا اور کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلہ نے ثابت کردیاہے جمہوری ملک میں حکومتوں کی زبردستی اور تانا شاہی نہیں چل سکتی ہے۔
آج یہاں اپنی رہائش گاہ پر مقامی نامہ نگاروںسے گفتگو کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ سی اے اے اور این آرسی کو لیکر جو لوگ آئینی دائرہ میں رہ کر احتجاجی مظاہرے کررہے تھے اترپردیش کی یوگی حکومت نے ان کے خلاف وصولی کے نوٹس جاری کئے تھے جو سراسر غلط اور حکومت کا غیر آئینی اقدام تھا،
انہوں نے کہاکہ میرٹھ سمیت متعدد شہروں میں پولیس نے اس طرح کی کارروائی کی ہے، جس کی جمعیۃ علما ء ہند نے اس وقت کی بھی مخالفت کی تھی اور اب سپریم کورٹ کے فیصلہ سے ثابت ہوگیاہے کہ یوگی حکومت کی یہ کارروائی ایک فرقہ کے خلاف شکنجے کسنے جیسی تھی۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں امید ہے کہ جلدی ہی اس طرح کے متنازعہ قوانین واپس لئے جائینگے اور مصیبت کے دروازے بند ہونگے،
مولانا ارشد مدنی نے کہاکہ جمعیۃ علماء ہند ہمیشہ مظلومین اور متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے اور ملک کے امن و بھائی چارے کو مضبوط بنانے اور جمہویت کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کررہی ہے، انہوں نے کہاکہ سی اے اے اور این آرسی کے سلسلہ میں جو جائیدادیں ضبط کرنے کے متعلق یوگی حکومت نے یکطرفہ فیصلہ صادر کیا تھا وہ جمہوریت کے خلاف تھا ، جس پر سپریم کورٹ نے حکومت کو سخت ہدایت دی،سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ایک بہترین پہل ہے اور حکومت کی غیر آئینی کارروائیوں کے خلاف نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
مولانا سید ارشد مدنی نے کہاکہ اس فیصلہ سے جمہوریت کو تقویت ملے گی۔ واضح رہے سپریم کورٹ نے سی اے اے کے خلاف سال 2019-20 میں احتجاج کرنے والوں کے خلاف جائیدادیں ضبط کرنے کے نوٹس جاری کئے تھے ،جس پر سپریم کورٹ نے سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے یوگی حکومت کو پھٹکار لگائی تھی،جس کے بعد یوگی حکومت نے تمام 274 افراد کے خلاف جاری نوٹسوں کو واپس لے لیا،جس کا احتجاج کرنے والوں کے ساتھ ساتھ سماجی و ملی رہنماؤں نے خیر مقدم کیاہے۔