تلنگانہ میں بی جے پی کومستقبل میں اپوزیشن پارٹی کا درجہ دلانے کی کوشش
کانگریس کے ایم ایل سی ٹی جیون ریڈی کا الزام۔ کے سی آر پر شدید تنقید
جگتیال 22 مارچ
( زین نیوز )
حلقہ گرائجویٹ کے رکن قانون ساز کونسل و سینئر کانگریس قائد ٹی جیون ریڈی نے آج چیف منسٹر کے چندر شیکھر را پر طنز کیا اور الزام لگایا کہ موخر الذکر کسانوں کو ہراساں کررہے ہیں ۔جگتیال میں میڈیا نمائندوں سے بات چیت کر تے ہوئے انہوں نے پیشین گوئی کی کہ ی ٹی آ رایس حکومت کا آخری سالانہ بجٹ ہے
۔ٹی آر ایس حکومت کے آنے والے مالی سال 2023-2024 میں اقتدار میں آنے کا امکان نہیں ہے۔اور ہریش راؤ کا پیش کردہ بجٹ آخری بجٹ ہوگا
جیون ریڈی نے کہا کہ مرکز پر جتنا دباؤ ہو سکتا ہے۔ ہم بھی آپ کے ساتھ آئیں گے۔ لیکن یہ کون جانتا ہے کہ وہ دہلی جا کرآپ بال پکڑیں گے یا اس کی ٹانگیں؟
کانگریس پارٹی دھان کی خریداری کے مسئلہ پر مرکزی حکومت کے ساتھ اس لڑائی میں چیف منسٹر کوا پنا تعاون دینے کے لیے تیار ہے اگر چیف منسٹر وز یر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے وقت ان کی قدم بوسی کی یقین دہانی کرواتے ہیں تو ۔
انہوں نے کہا کہ "لوگ ریاست میں مخالف تلنگانہ بی جے پی پارٹی پر بھروسہ نہیں کرتے اور تلنگانہ کی عوام بی جے پی کو ووٹ نہیں دے گی انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ٹی آرایس نے حریف بی جے پی کے تین ایم ایل ایز کو حالیہ بجٹ اجلاس سے معطل کر دیا ہے تا کہ مستقبل میں اسے اپوزیشن پارٹی کا درجہ دلایا جا سکے۔

مسٹر ریڈی نے کہاکہ اپنی سیاست کو ایک طرف رکھیں انہوں نے مرکزی حکومت کو کسان مخالف حکومت قرار دیا اور الزام لگایا کہ بی جے پی ایک ایسی پارٹی ہے جو صرف کارپوریٹ کمپنیوں کی حمایت کرتی ہے ۔
جیون ریڈی نے الزام لگایا کہ چیف منسٹر نے کسانوں کو 75,000 روپے تک کے فصل قرض کی معافی کوفراموش کر دیا ۔انہوں نے چیف منسٹر سے مطالبہ کیا کہ وہ بینکوں کے ضامن کے طور پر کام کرتے ہوئےکسانوں کو نئے قرضے فراہم کریں۔انہوں نے طنز کیا کہ کے سی آر واحد چیف منسٹر ہیں جنہوں نے ریاستی سطح کے بینکرس اجلاس میں شرکت نہیں کی ۔
انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کی طرف سے اس کی کاشت نہ کرنے کی اپیل کی وجہ سے کسانوں نے دھان کی اصل سالانہ مقدار کا صرف 50 فیصد کاشت کیا ہے اور مزید کہا کہ ریاست کو اس سال ایک کروڑ میٹرک ٹن کے مقابل صرف 50لاکھ میٹرک ٹن دھان کی پیداوار حاصل ہورہی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سال ریاست میں 10,000 کروڑ روپے کے دھان کی کاشت میں کمی واقع ہوئی ہے۔
مسٹر جیون ریڈی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ریاستی حکومت فصل کی چھٹی کا اعلان کرنے کے بعد کسانوں کو 10,000 روپے فی ایکڑ معاوضہ فراہم کرے اور بار یہ مالیاتی سال کسانوں کو 1 لاکھ روپے کے فصل قرض کو معاف کرے