پروفیسر گوپی چند نارنگ کے سانحہ ارتحال پر تعزیتی میٹنگ کا انعقاد

ادبستان تازہ خبر

دیوبند، 17؍ جون
(رضوان سلمانی)
اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن مظفرنگر کی جانب سے ایک تعزیتی نشست منعقد ہوئی، جس میں اردو ادب کی معروف شخصیت پروفیسر گوپی چند نارنگ کے سانحہ ارتحال پر رنج وغم کا اظہار کیا گیا۔ اس موقع پر ضلع صدر کلیم تیاگی نے کہا کہ پروفیسر گوپی چند نارنگ کے انتقال سے اردو ادب کا بڑا خسارہ ہوا ہے۔ ان کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ پُر ہونا ناممکن ہے۔

انہوں نے اردو زبان و ادب کی جو خدمات انجام دیں ہیں ان کو کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ ان کو تنقید نگاری، خاکہ نگاری، افسانہ نگاری،لسانیات، اسلوبیات، ساختیات، شعریات اور اقبالیات پر عبور حاصل تھا۔ماسٹر شہزاد علی نے کہا کہ پروفیسر گوپی چند نارنگ غیر معمولی مصنف،ادیب اور نقاد تھے جن کو اردو ادب کی خدمات کے لئے پدم بھوشن، پدم وبھوشن ایوارڈ کے علاوہ متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔

انہوں نے تمام زندگی اردو کی خدمات انجام دیں ہیں جس کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔تحسین علی اساروی نے کہا کہ پروفیسر گوپی چند نارنگ این سی ای آرٹی، این سی پی یوایل اور ساہتیہ اکادمی جیسے بڑ ے اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔

انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے اقبالیات پر فکر انگیز کام کرنے کے لئے ’پریزیڈینٹ گولڈ میڈل‘ سے سرفراز کیا گیا۔ میٹنگ میں موجود محبان اردو نے پروفیسر گوپی چند نارنگ کے انتقال پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور اردو ادب کا بڑا خسارہ بتایا۔ نشست میں کلیم تیاگی، شہزاد علی، تحسین علی اساروی، مولانا طاہر قاسمی، مولانا صداقت قاسمی وغیرہ موجود رہے۔