اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن مظفر نگر کے زیراہتمام مشاعرہ کا انعقاد
دیوبند،23؍جولائی
(رضوان سلمانی)
اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن مظفر نگر کے زیراہتمام گذشتہ شب کونگر پٹی سوجڑو میں مشاعرہ منعقد ہوا جس کی صدارت حاجی سلامت راہی نے کی اور نظامت ماسٹر الطاف مشعل نے کی۔ماسٹر رئیس الدین رانا کی سرپرستی میں مشاعرہ منعقد ہوا۔ دیر رات تک شعراء نے اپنے بہترین اشعار پڑھ کر سامعین کو محظوظ کیا۔
گاؤں شہر کے سینکڑوں معززین اور دیگر سامعین نے شعراء کو داد تحسین سے نوازا۔ مشاعرے کی شمع صدرِ مشاعرہ اور تنظیم کے عہدیداران نے روشن کی۔اس موقع پر اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن مظفر نگر کے ضلع صدر کلیم تیاگی نے تمام شعراء اور سامعین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشاعرے اردو زبان کی ترویج و اشاعت کا بہترین ذریعہ ہیں۔
مشاعرہ کے ذریعے انسان تفریح کے ساتھ ساتھ اردو زبان سے بھی واقف ہوتا ہے اور اس کی خوبصورتی سے بھی متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو مکمل طور پر ہندوستانی اور ہماری مادری زبان ہے ۔ اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو اردو رسم الخط سے روشناس کرانے کی پوری کوشش کرنی چاہیے۔
مشاعرہ کا آغاز ڈاکٹر تنویر گوہر کی حمد اور تحسین ثمر کی نعت پاک سے ہوا۔ اس کے بعد حاجی محمد احمد نے وطن کی شان میں بہترین ترانہ پیش کیا جسے سب نے خوب سراہا۔منتخب اشعار پیش خدمت ہیں۔
مسئلے کا حل نکالا جائے گا۔شہر سے پاگل نکالا جائے گا ڈاکٹر تنویر گوہرؔ
ضبط کی قید میں رہنا کوئی آسان نہیں۔مستقل درد سے پتھر بھی چٹخ جاتے ہیں سلیم احمد سلیمؔ
تجھے کیوں معاف کر دوں مجھے یہ بتا نگہباں۔ترے گلستاں میں ہوتے مرا آشیاں جلا ہے محمد احمد خاں احمدؔ مظفرنگری
کبھی صورت سے تو سیرت کا اندازہ نہیں ہوتا۔یہاں تو مور کو بھی سانپ کھاتے دیکھتا ہوں میں ارشد ضیاؔ مظفرنگری
ہم سے وہ شخص محبت کی سند مانگتا ہے۔جس کے ہاتھوں سے پئے زہر کے پیالے ہم نے نوید انجمؔ
ٖپرُخطر راہوں میں بے خوف میں چلتا رہا۔ماں دُعا دیتی رہی خطرہ جو تھا ٹلتا رہا الطاف مشعلؔ
ہے آندھیوں کا بہت زور جس طرف دیکھو۔ہمیں چراغ جلانا ہے کیا کیا جائے شاہزیب شرفؔ
راہ کی دشواریوں کا کر نہ راہیؔ تو ملال۔ہو نہ جب تک، عزم محکم منزلیں ملتی نہیں سلامت راہیؔ
جدائی اپنے بچوں کی اسے بیحد ستاتی ہے۔وہ مفلس پیٹ کی خاطر مگر گھر چھوڑ دیتا ہے تحسین ثمر ؔ چرتھاولی
پھل پھول اور طاہر کتنے ہیں،گلشن میں مناظر کتنے ہیں۔اس دیش کے نیتا اے بھائی، مت پوچھ کے شاطر کتنے ہیں تحسین قمر ؔاساروی
عزم دل کے ساتھ ہی رکھئے گا نگاہِ معتبر۔تب گوہر مل پائے گا گہرئیوں کے درمیاں خرّم ؔصدیقی
اس کے علاوہ نوجوان شاعر محمد ناظم ادیبؔ نے بھی اپنے اشعار سے نوازا۔آخر میں مشاعرہ کنوینر رئیس الدین رانا نے سبھی کا شکریہ ادا کیا۔
مشاعرے میں اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن سے اسعد فاروقی، تحسین علی ،بدرالزماں خان، شمیم قصار، شہزاد علی، اوصاف احمد اور دیگر معززین میں حاجی ظفریاب خان، انجینئر اسعد پاشا، ماسٹر عابد علی، ماسٹر یاسین احمد، ندیم ملک، صدام علی رانا ، ایم وسیم ندوی، ڈاکٹر رضوان، وسیم رانا، نسیم رانا، مولانا فیصل، مشیر رانا، معروف رانا، رضوان رانا، محمد انس، محمد فرحان، محمد فیروز، مہر تیاگی، فہیم احمد، مہریاب رانا، محمد یونس اور امیر اعظم وغیرہ شامل تھے۔