امروہہ: 23؍فروری
(ایجنسیز)
اُترپردیش کے امروہہ کے قریب حسن پورٹاون سے متصل باون کھیڑی قتل معاملےکی ملزمہ شبنم کی پھانسی ایک بار پھر ٹل گئی ہے۔ شبنم کی پھانسی کو لے کر منگل کو ضلع جج کی عدالت میں سماعت ہوئی ضلع عدالت نے استغاثہ سے قاتل شبنم کی تفصیل طلب کی تھی، لیکن شبنم کے وکیل کی طرف سے گورنر کو دی گئی عرضی داخل کردی گئی ہے پھر سے رحم کی درخواست داخل ہونے کے سبب پھانسی کی تاریخ مقرر نہیں ہوسکی ہے۔ پہلے ہی مانا جارہا تھا کہ ضلع جج کی عدالت میں شبنم کی رپورٹ سونپی جائے گی اور اگر اس رپورٹ میں کوئی عرضی زیر التوا نہیں پائی گئی تو شبنم کی پھانسی کی تاریخ طئے کی جاسکتی ہے۔ لیکن شبنم کےوکیل نے کچھ دن پہلے ہی پھر سے رحم کی درخواست کے لئے گورنر سے گہار لگاتے ہوئے ضلع جیل رام پور انتظامیہ کو رحم کی
درخواست سونپی تھی۔ آج سماعت میں اسی کا ذکر آیا، جس کے سبب پھانسی کی تاریخ مقرر نہیں ہوسکی۔واضح رہے کہ امروہہ کے قریب حسن پورٹاون سے متصل باون کھیڑی کے عوام کو آج بھی یہ لرزہ خیز واقعہ یاد ہے جو 14,15اپریل کے درمیان شب پیش آیا جس دن شبنم نے اپنے عاشق سالم کے ساتھ مل کر اپنے والد ماسٹر شوکت ‘ والدہ ہاشمی‘ برادران انیس‘ رشید‘ بھاوج انجم‘ اور بہن رابعیہ کو دیوانہ وار حملہ کرتے ہوئے بے دردی کے ساتھ قتل کیا تھا۔ اس معاملے میں نچلی عدالت سے لے کر سپریم کورٹ تک نے دونوں کی پھانسی کی سزا برقرار رکھی تھی۔ دسمبر 2020 میں سپریم کورٹ نے اس کی ازسر نو داخل کی گئی عرضی بھی خارج کردی تھی۔ اس کے بعد صدر جمہوریہ نے بھی شبنم کی رحم کی درخواست کو خارج کردیا۔ حالانکہ، نینی جیل میں بند سلیم کی رحم کی درخواست پر ابھی فیصلہ ہونا ہے۔