پھلواری شریف پی ایف آئی اور ایس ڈی پی آئی سے وابستہ افرادکے گھروں پر چھاپے

تازہ خبر قومی
 نوجوانوں سےپوچھ تاچھ۔ نکسل دہشت گرد فنڈنگ ​​معاملے میں بھی پانچ مقامات پر چھاپے
نئی دہلی: 8؍ستمبر
(زیڈ این ایم ایس)
دارالحکومت پٹنہ کے پھلواری شریف میں جمعرات کی صبح تقریباً 7 بجے سے این آئی اے کی ٹیم نے ملک مخالف سرگرمیوں کے معاملے میں ایس ڈی پی آئی اور پی ایف آئی کے کنکشن سے وابستہ لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں۔ ایک بار پھر این آئی اے نے ایس ڈی پی آئی اور پی ایف آئی کے روابط کے سلسلے میں پھلواری شریف کے گونپورہ کے مکانات پر چھاپہ مارا ہے۔
 اس بار این آئی اے نے پھلواری شریف کے گونپورہ میں رہنے والے محمد امین اور محمد خلیق الزمہ کے گھروں پر چھاپہ مارا ہے۔ چھاپے میں این آئی اے کو کیا ملا اس کی معلومات ابھی تک دستیاب نہیں ہے۔ اتنا ہی نہیں ذرائع کے مطابق این آئی اے کی ٹیم پھلواری شریف میں سمی تنظیم سے وابستہ لوگوں کے تعلقات کی بھی چھان بین کر رہی ہے

دراصل این آئی اے کی ٹیم نے ایس ڈی پی آئی اور پی ایف آئی سے وابستہ دو ملزمین کے گھروں پر چھاپے مارے۔ پٹنہ میں این آئی اے کے چھاپوں کے دوران این آئی اے افسران کی ایک ٹیم بڑی تعداد میں پولیس فورس کے ساتھ مصروف ہے۔ راجدھانی پٹنہ کے پھلواری شریف میں واقع گونپورہ پنچایت کے دو گھروں پر این آئی اے کے چھاپے مارے گئے۔ محمد امین اور محمد خلیق الزمہ گون پورہ کے رہائشی ہیں۔
 محمد امین بی ایڈ کالج میں کلرک کے طور پر کام کرتے ہیں جبکہ خلیق الزمہ زمین کے کاروبار اور دیگر کاروبار سے منسلک ہیں۔ ان دونوں کے خلاف پھلواری شریف تھانے میں پی ایف آئی ایس ڈی پی آئی کی مدعیت میں نامزد ایف آئی آر درج ہے۔واضح کہ اس پورے معاملے میں پھلواری شریف میں 26 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
 این آئی اے نے بہار کے 6 شہروں میں 13 مقامات پر چھاپے مارے۔ این آئی اے نے پٹنہ، دربھنگہ، ارریہ، چھپرا سمیت 6 شہروں میں 13 مقامات پر یہ چھاپے مارے ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ این آئی اے نے پی ایف آئی سے وابستہ لوگوں کے مکانات پر چھاپہ مارا۔ چھپرا کے جلال پور میں سرکاری ٹیچر پرویز عالم کے گھر پر ایس آئی ٹی کی ٹیم نے چھاپہ مارا۔ چھاپوں کے دوران پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ این آئی اے کی ٹیم پرویز عالم کو جلال پور تھانے لے گئی۔۔ وہیں گھر میں پچھلے ایک گھنٹے سے پوچھ تاچھ بھی جاری ہے۔ پرویز کا نام پھلواری تھانے میں درج ایف آئی آر میں سامنے آیا تھا۔ اس وقت این آئی اے نے بتایا تھا کہ ملزم پی ایف آئی کا سرگرم رکن ہے
اس میں پٹنہ کی پھلواری شریف، ویشالی، مدھوبنی، چھپرا، ارریہ، اورنگ آباد، کشن گنج، نالندہ اور جہان آباد شامل ہیں۔ ایس ڈی پی آئی کے ریاستی جنرل سکریٹری احسان پرویز بھی ارریہ کے جوکی ہاٹ میں این آئی اے پہنچ گئے ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ یہ چھاپہ پی ایف آئی ممبران سے ملے دستاویزات کی بنیاد پر مارا جا رہا ہے۔ بہار کے ارریہ کے جوکی ہاٹ میں NIA کے چھاپے جاری ہیں۔ ارتیہ میں احسان پرویز کے گھر پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ احسان کا نام پھلواری شریف کیس میں سامنے آیا تھا۔ احسان ایس ڈی پی آئی کے ریاستی جنرل سکریٹری ہیں۔ اس کے علاوہ دربھنگہ کے سنگھواڑہ اور سیوان میں بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
 میڈیا رپورٹس کے مطابق پٹنہ ٹیرر ماڈیول کیس کا پردہ فاش کرتے ہوئے بہار پولیس نے پی ایف آئی گروپ کے ساتھ مبینہ روابط اور ہندوستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ان کے منصوبوں کے الزام میں تین لوگوں کی گرفتاری کے ساتھ کیا تھا۔ اس معاملہ میں جھارکھنڈ کے ریٹائرڈ پولیس افسر محمد جلال الدین اور اطہر پرویز کو 13 جولائی کو بہار کے دارالحکومت پٹنہ کے پھلواری شریف علاقہ سے گرفتار کیا گیا تھا، جب کہ نورالدین جنگی کو تین دن بعد اتر پردیش کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ نے درخواست پر گرفتار کیا تھا۔ بہار پولیس نے لکھنؤ سے گرفتار کیا۔ جس کے بعد مرغوب دانش، ارمان ملک اور شبیر عالم کو گرفتار کیا گیا۔
نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی بہار میں مسلسل چھاپے مار رہی ہے۔ بدھ کو بھی نکسل دہشت گرد فنڈنگ ​​معاملے میں پانچ مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ ایجنسی نے بہار کے جہان آباد، گیا اور اورنگ آباد اضلاع میں چھاپے مارے۔ اس سے پہلے 3 ستمبر کو این آئی اے نے بہار میں ماؤنوازوں کی بھرتی اور بازیابی کے سلسلے میں کئی مقامات پر چھاپے مارے تھے۔
این آئی اے کے ترجمان نے کہا تھا کہ اورنگ آباد، گیا، روہتاس اور پٹنہ اضلاع میں ملزمان اور مشتبہ افراد کے نصف درجن مقامات پر تلاشی لی گئی۔ ابتدائی طور پر روہتاس پولیس نے 12 اپریل کو کیس درج کیا تھا۔ بعد میں این آئی اے نے 26 اپریل کو دوبارہ ایف آئی آر درج کی۔عہدیدار نے بتایا کہ تلاشی میں ڈیجیٹل آلات اور دستاویزات سمیت مجرمانہ مواد ضبط کیا گیا ہے۔ معاملے میں تفتیش جاری ہے۔
(ایجنسی کے ان پٹ کے ساتھ)