فیمس ہیلتھ کیئر سینٹر کے افتتاح کے موقع پر ڈاکٹر انورسعید کا اظہار خیال
دیوبند،5؍ ستمبر
(رضوان سلمانی)سانپلہ روڑ پر واقع فیمس ہیلتھ کیئر سینٹر کا افتتاح سی سی آئی ایم کے سابق رکن اور جامعہ طبیہ دیوبند کے سکریٹری ڈاکٹر انور سعید کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ اس دوران علاقہ کے ڈاکٹر اور سرکردہ افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر انور سعید نے اسپتال کے بانی ڈاکٹر محمد ذیشان سیفی اور ڈاکٹر محمد عارف رائو کو ہسپتال کھولنے پر مبارک باد دیتے ہوئے کہاکہ اس ہسپتال سے علاقہ کے لوگوں کو بڑا فائدہ پہنچے گا ۔ موجودہ وقت میں میڈیکل اور ہیلتھ فیلڈ کے ذریعہ سے عوامی خدمات انجام دینا قابل ستائش قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ضرورت مندوں کو وقت پر بہتر طبی امداد فراہم کرانا نہایت نیک عمل ہے۔ انسانی خدمات عظیم کار خیر ہے۔ ڈاکٹر انور سعید نے کہا کہ ڈاکٹری کے پیشے سے وابستہ افراد کو چاہئے کہ وہ انسانیت کی بنیاد پر مریضوں کے ساتھ حسن سلوک اور بہتر معاملہ کریں۔انہوں نے کہا کہ اس مہنگائی کے دور میں مریضوں اور تیمارداروں کے ساتھ ڈاکٹروں کا حسن سلوک بہتر ہونا چاہئے ہمیں اس کا پورا خیال رکھنا چاہئے۔
ڈاکٹر انور سعید نے کہا کہ ڈاکٹری کے پیشہ میں ایمانداری اور دیانت داری کے ساتھ خدمت کرنے کا جذبہ ہونا چاہئے جو یقینا عوامی مقبولیت اور فلاح وبہبود کا ضامن ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ڈاکٹر سے بڑی امیدیں وابستہ رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مریض کسی ڈاکٹر کے پاس علاج کے لئے جاتا ہے تو اس اعتماد کے ساتھ جاتا ہے کہ ڈاکٹر اس کے علاج میں معقول احتیاط برتے گا ،
اگر ڈاکٹر اپنے فرض کی تکمیل میں کوئی لاپرواہی کرتا ہے جس کے نتیجے میں مریض کو کوئی نقصان ہوجاتا ہے تو ڈاکٹر کے لئے یہ اچھا نہیں ہے۔ اگر ڈاکٹر معقول احتیاط برتتے ہوئے علاج کے لئے قابل قبول طریقہ سے کسی مریض کا علاج کرتا ہے اورمریض کا علاج کرنے میں اپنے علم اورمہارت کا استعمال کرتاہے تو اس سے مریض کو بڑا فائدہ ہوگا۔
ڈاکٹر انور سعید نے کہا کہ جب کوئی ڈاکٹر کسی مریض کو طبی خدمات دینے اور علاج کرنے کو تیار ہوتاہے تو وہ ان باتوں کا خیال رکھیں کہ اس کے پاس علاج کے لئے معقول مہارت اور علم ہو ، ڈاکٹر کی یہ ڈیوٹی ہے کہ مریض کو کیا علاج دیا جائے اور اس علاج کو دینے میں احتیاط برتنا بھی ڈاکٹر کی ڈیوٹی ہے۔ ڈاکٹر انور سعیدنے کہا کہ اسپتال اور ڈاکٹرس ایک ہی سکے کے دو رخ ہوتے ہیں ، کوئی بھی ایک دوسرے کے بغیر کام کاج نہیں کرسکتا۔
ڈاکٹرس اپنی لگن اور اپنے کام پر توجہ دینے کی وجہ سے شاید پوری طرح آگاہ نہ ہو لیکن سماج میں ان کا زبردست احترام کیا جاتا ہے، گزشتہ کورونا کے دورمیں لوگوں کو تحفظ فراہم کرانے میں ان کے عزم کی بدولت اس احترام میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اسپتال کو اس طرز عمل میں ایک فطری توسیع کرنے والا بننا چاہئے ۔ انہوںنے کہا کہ ڈاکٹر س کی ہمیشہ یہی کوشش ہوتی ہے کہ مریض کو شفا حاصل ہو ، انہوں نے کہا کہ یہ برادری بلاتفریق مذہب وملت اور ذات کے سبھی مریضو ں کو یکساں علاج کرتا ہے، اس برادری سے گنگا جمنی تہذیب کی روشن مثال بھی ملتی ہے۔
ڈاکٹر انور سعید نے اسپتال کے بانی کو مبارک باد دیتے ہوکہ کہا کہ جس علاقہ میں اس اسپتال کی شروعات کی گئی ہے ، امید ہے کہ یہاں پر لوگوں کو سستا اور اچھا علاج مہیا ہوسکے گا۔ معروف ڈاکٹر شمیم دیوبندی اور ڈاکٹر ایس اے عزیز نے بھی اسپتال کے بانی ڈاکٹر محمد ذیشان سیفی اور ڈاکٹر محمد عارف رائو کو اسپتال کھولنے پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ان دونوں ڈاکٹرس کا ایک اچھا قدم ہے ، امید کی جانی چاہئے کہ اس اسپتال سے علاقہ کے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔
ہسپتال کے بانی ڈاکٹر محمد ذیشان سیفی اور ڈاکٹر محمد عارف رائو نے سبھی مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا اسپتال کھولنے کا مقصد صرف یہی ہے کہ ہم یہاں پر اس مہنگائی کے دور میں مریضوں کو سستا علاج مہیا کراسکیں۔ اس دوران اسپتال کی جانب سے مفت طبی کیمپ کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں سیکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے شوگر ودیگر امراض کی جانچ کرائی۔ اس موقع پر محمد غزالی صدیقی، ڈاکٹر شمیم، ڈاکٹر کوہلی، ڈاکٹر ایس اے عزیز، ڈاکٹرایچ آر عادل سمیت علاقہ کے سیکڑوں افراد موجود رہے۔