دوران یاترا راہول گاندھی نے ماں کے جوتوں کی ڈوریاں باندھیں
بنگلور:۔6؍اکتوبر
(زیڈ این ایم ایس)
کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی جمعرات کو پارٹی کی بھارت جوڑو یاترا میں شامل ہوئیں گئیں راہول نے ماں کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر استقبال کیا۔واضح رہے کہ کانگریس کی بھارت جوڑی یاترا فی الحال کرناٹک میں ہے۔
سونیا گاندھی نے یہاں سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور پیدل مارچ میں شامل ہوئیں۔ اس دورے کے ساتھ ہی راہول گاندھی توانائی سے بھرے ہوئے دکھائی دے رہے ہیںتصویرکے ذریعہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ راہل گاندھی اس پیدل سفر میں بھی اپنی ماں کا کس طرح خیال رکھے ہوئے ہیں یاترا کا سب سے خوبصورت اورحسین منظر تھا جب راہول گاندھی نےیاترا کے دوران اپنی ماں سونیا گاندھی کے جوتے کے تسمے باندھتے (شوز) کی ڈوریاں باندھیں۔
راہل گاندھی کے اس قدم کو سراہا جا رہا ہے۔ اس دوران سونیا گاندھی کے چہرے پر خوشی دیکھنے کو مل رہی ہے۔راہل گاندھی پورے سفر میں اپنی ماں اور کانگریس صدر سونیا گاندھی کے ساتھ رہے۔ وقتاً فوقتاً وہ اپنی ماں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلتے ہوئے نظر آتے ہیں
اس سے پہلے سونیا گاندھی نے وجے دشمی پر ایچ ڈی کوٹ اسمبلی حلقہ میں واقع مندر میں پوجا کی۔ کانگریس کا جنوب میں گہرا تعلق ہے۔ سونیا گاندھی کے بعد پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی بھی جمعہ کو اس یاترا میں شامل ہوئیں۔
आज ये वीडियो वायरल है।
अब आईटी सेल का कोई बंदा इस वीडियो को ट्वीट करने वाले तमाम पत्रकारों का स्क्रीनशॉट लो और ट्वीट करो नहीं तो पैसे कट जाएँगे 😬 pic.twitter.com/mvixTdHMJu
— Umashankar Singh उमाशंकर सिंह (@umashankarsingh) October 6, 2022
تقریباً 15 منٹ تک چلنے کے بعد راہل نے سونیا کو واپس کار میں بھیج دیا۔ تاہم کچھ آرام کے بعد سونیا پھر سے واک میں شامل ہوگئیں۔ سونیا ایک ماہ قبل کورونا سے صحتیاب ہوئی ہیں۔ ان کی صحت ابھی پوری طرح ٹھیک نہیں ہوئی ہے۔
سونیا گاندھی کرناٹک میں جاری اس یاترا میں شامل ہونے کے لیے 3 اکتوبر کو میسور پہنچی تھیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ وہاں ایک پرائیویٹ ریزورٹ میں رہ رہی ہیں۔ شاستر پوجا اور وجے دشمی کی وجہ سے 4 اور 5 اکتوبر کو یاترا کو 2 دن کے لیے روک دیا گیا تھا ۔ کہا جارہا ہے کہ کانگریس کی اس یاترا میں ان کی شرکت سے یاترا مزید مضبوط ہوگی۔
اے آئی سی سی کے جنرل سکریٹری انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا نے ٹویٹ کیا کہ سونیا گاندھی نے وجے دشمی کے موقع پر بیگور گاؤں کے بھیمناکولی مندر میں پوجا کی ہے۔ یہ بھی بتایا کہ وہ جمعرات کی صبح یاترا میں حصہ لیں گی۔ کانگریس صدر کی صحت پچھلے کچھ دنوں سے ٹھیک نہیں چل رہی ہے،
اس لیے وہ کچھ دیر کے لیے یاترا میں شامل ہوں گی اور پد یاترا کریں گی۔ اہم بات یہ ہے کہ طویل وقفہ کے بعد سونیا گاندھی پارٹی کے کسی بھی عوامی پروگرام میں شرکت کریں گی۔
واضح رہے کہ کانگریس کا کرناٹک سے گہرا تعلق ہے۔ یہ بھی مانا جاتا ہے کہ جب بھی گاندھی خاندان پر کوئی سیاسی بحران آیا ہے تو جنوبی ہند نے اسے مشکل سے نکالا ہے۔ واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے بھی جنوبی ہند کی سیٹوں سے لوک سبھا کا الیکشن لڑا تھا۔
واضح رہے کہ جب ایمرجنسی کے بعد اندرا گاندھی کی حکومت چلی گئی تھی، تو انہیں 1980 میں لوک سبھا کی محفوظ سیٹ سے جیتنا ضروری تھا۔ ایسے میں انہوں نے کرناٹک کے چکمگلور سے اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا تھا۔
اندرا گاندھی نے آندھرا پردیش کے میدک اور یوپی کے رائے بریلی سے پرچہ نامزدگی داخل کیا تھا۔ تاہم بعد میں انہوں نے رائے بریلی کی سیٹ چھوڑ دی۔
بھارت جوڑی یاترا گزشتہ ستمبر کو تمل ناڈو کے رامیشورم سے شروع ہوئی تھی، جب سونیا گاندھی علاج کے لیے امریکہ گئی تھیں۔ اس کے بعد ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا جس کے بعد انہیں اٹلی جانا پڑا۔
