نئی دہلی : 26؍اپریل
(اے ایم این ایس)
پاکستان کے مالیاتی دارالحکومت کراچی یونیورسٹی کے کیمپس میں منگل کو ایک کار میں ہونے والے خوفناک دھماکے میں تین چینی شہریوں سمیت کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے۔ مرنے والے چینی شہریوں میں سے دو خواتین ہیں۔
اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی میں دھماکا چینی ساختہ کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے قریب ایک وین میں ہوا۔ اسی دوران سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق کراچی یونیورسٹی میں حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کرلی ہے میں چینی شہریوں کو نشانہ بناتے ہوئے خودکش حملہ پاکستان کے شہر کراچی میں چینی شہریوں کو نشانہ بناتے ہوئے خودکش حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں 4 افراد مارے گئے۔ یہ اطلاع میڈیا رپورٹس میں دی گئی ہے
https://twitter.com/Natsecjeff/status/1518921791774892039
ڈان نیوز ٹی وی کے مطابق ایک پاکستانی علیحدگی پسند گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
پولیس اور ریسکیو اہلکار جائے حادثہ پر پہنچ گئے ہیں۔ ٹیلی ویژن فوٹیج میں ایک سفید وین کو آگ کے شعلے میں دیکھا گیا جس کی باقیات سے دھویں کے بادل اٹھ رہے تھے۔
کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن نے دی نیوز ویب سائٹ کو بتایا کہ یہ فدائین حملہ تھا اور یہ برقعہ پوش خاتون نے کیا۔ ہلاک ہونے والوں میں تین چینی خاتون پروفیسر، ان کا ڈرائیور اور گارڈ شامل ہیں۔ دو زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔
نبی نےکہاکہ ایسا لگتا ہے کہ فائرنگ واقعہ کے بعد ہوئی ہے۔ دھماکے کے بعد رینجرز کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔ اس کے چار افراد زخمی ہوئے ہیں اور انہیں گولیاں لگی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اس خاتون کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے جو کیمپس میں ہی موجود تھے۔ ہم ان لوگوں کی تلاش میں ہیں۔
اطلاعات کے مطابق بلوچ لبریشن فرنٹ نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ اسی تنظیم نے گزشتہ ماہ گلگت میں آرمی بیس پر حملہ کیا تھا۔ اس میں 22 فوجی اور 4 عام شہری مارے گئے۔
جیو نیوز کے مطابق یونیورسٹی کیمپس کے بالکل سامنے والے حصے میں ایک کار کھڑی تھی۔ بہت سے طلباء اس کے قریب موجود تھے جبکہ کچھ طلباء کے والدین بھی داخلے کے عمل کی وجہ سے وہاں موجود تھے۔ اس کے سامنے ایک آڈیٹوریم ہے، اسے کنفیوشس ہال کہتے ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق بم جس گاڑی میں موجود تھا اس میں کچھ لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔
، سینئر پاکستانی صحافی اسد علی طور نے پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ کراچی یونیورسٹی کیمپس میں جس گاڑی میں دھماکہ ہوا اس میں ایک خاتون بھی تھی۔ باہر آنے کے بعد پھٹ گیا۔ ہلاک ہونے والے چار افراد میں سے تین چین کی خواتین شہری ہیں۔ چوتھا شخص اس کا پاکستانی ڈرائیور بتایا جاتا ہے