خاندان نے ہندو دیوتاؤں کو بدھا اور ڈاکٹر امبیڈکر سے بدل دیا
بنگلور:۔22؍ستمبر
(زین نیوز ڈیسک)
کرناٹک ریاست سے ایک چونکا دینے والی خبر سامنے آئی جہاں چھوت چھات کا معاملہ پیش ا ٓیا ایک دلت لڑکے کی جانب سے ہندو دیوتاؤں کی مورتی کو چھونے پر اسے چرمانہ عائد کیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق کرناٹک کے کلور میں، ایک درج فہرست ذات کے لڑکے کے خاندان کو 60 ہزار جرمانہ کیا گیا کیونکہ لڑکے نے ہندو دیوتاؤں کی مورتی کو چھوا تھا۔
اس واقعہ کے بعد خاندان نے اپنی عزت برقرار رکھنے کے لیے اپنے گھر میں ہندو دیوتاؤں کی مورتیوں کی جگہ بدھا اور ڈاکٹر امبیڈکر کی تصویریں لگا دیں۔جس کی ویڈیو ٹویٹر پردلت دستک یوٹیوب میڈیا چیانل کی جانب سے شیئر کی گئی ہے۔ جس میں دیکھا جاسکتا ہے دلت خاندان اپنے گھر میںرکھے ہوئے دیوی دیوتاؤں کی مورتیوں کو ہٹا کر بد ھا اور ڈاکٹر امبیڈ کر تصویر لگا رہے ہیں
Karnataka: Scheduled Caste family replaced Hindu deities with the Buddha and Dr. Ambedkar after Rs 60k fine was imposed on their son for touching the Hindu God's idols pic.twitter.com/qEXYvjokAi
— Dalit Desk | दलित डेस्क (@dalitdesk) September 21, 2022
ویڈیو کے مطابق یہ واقعہ 21؍ستمبر کا ہے۔ ویڈیو میں ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ہمارے لئے کوئی بھگوان نہیں ہے صرف ڈاکٹر بی آر مبیڈ کر ہی ہمارے بھگوان ہیں۔اس واقعہ کی بات سے سوشل میڈیا پر صارفین کے مختلف رد عمل آئے ہیں ایک صارف نے لکھا کہ جب مذہب جبر کا آلہ بنے گا تو پیچھے دھکیل دیا جائے گا۔
سابق میں اس طرح کے واقعات کرناٹک میں پیش آچکے ہیں کوپل ضلع میں ایک تین سالہ بچے کے مندر میں داخل ہونے کے بعد ایک دلت خاندان پر 25,000 روپے جرمانہ عائد کیے جانے کے کچھ ہی دنوں کے اندر، اسی ضلع میں ایک 24 سالہ دلت نوجوان کو مندر کے احاطے میں داخل ہونے پر 11,000 روپے کا جرمانہ کیا گیا۔
پولیس نے تعزیرات ہند کی دفعہ 504 اور 149 اور درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) ایکٹ 1989 کی کئی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ اس واقعہ میں پجاری بسواراج سمیت نو لوگوں کو نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے رواج اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ متاثرین انصاف کے حصول سے بھی ڈرتے ہیں۔
