جابرحکمرانی کو جائز قرار دینے کے پوشیدہ منصوبہ کے تحت وہ آئین کو تبد یل کر نے کی کوشش
حیدرآباد۔4؍فروری
(ایجنسیز )
صدر ٹی جے ایس پروفیسر کو دنڈارام نے چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ سے استفسار کیا کہ آئین میں تبدیلی کر کے کونسا دستور لانا چاہتے ہیں اس کی وضاحت کریں۔ کے سی ار کے آئین میں تبدیلی سے متعلق شوشہ پر مختلف حلقوں سے تنقید کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ تازہ ترین طور پر صدر ٹی جے ایس پروفیسر کو دنڈ ارام نے بھی کے سی ار پر برہمی کا اظہار کیا ہے ۔
انہوں نے خبر دار کیا کہ اگر آئین میں تبدیلی کی بحث دوبارہ چھیڑنے کی کوشیش کی جاتی ہے تو پھر شدید احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ جاننے کی کوشیش بھی کی کہ جس دستور کو کافی جدو جہد کے ذریعہ لایا گیا کے سی آر اس کوبد ل کر کونسا آئین لانا چاہتے ہیں اس کی وضاحت کریں۔انہوں نچیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی سازشوں کے خلاف احتجاج میں شدت پیدا کرنے کا انتباہ دیا۔
اس سے قبل 17 3 جی او میں ترمیم کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ایک ایسے چیف منسٹر کو جن کی جاگیردارانہ ذہانت ہوا آئین کے مطلب کا انہیں سمجھ میں آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جابرحکمرانی کو جائز قرار دینے کے پوشیدہ منصوبہ کے تحت وہ آئین کو تبد یل کر نے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پروفیسر کوڈانڈا رام نے مزید کہا کہ چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ تلنگانہ میں پہلے ہی من مانی اضلاع بنا چکے ہیں اب وہ اپنی ان غلطیوں کی پردہ پوشی کیلئے مقامی و غیر مقامی کا راگ الاپ رہے ہیں۔
پروفیسر کو دنڈارام نے اس بات پرتشویش کا اظہار کیا کہ بی اد317 کے ذریہ1 37اور124 جی اوز کے نقصان پہنچانے کا الزام لگایا اور برہمی ظاہر کی کہ حکومت 17 3 جی او کے ذریعہ اساتذہ کے حقوق پیروں تلے روندنے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی ربط وضبط کے بغیر مذکورہ جی او پرمل کرنا افسوس ناک امر ہے۔ یہ جی اپنے آبائی اضلاع میں کام کرنے کا موقع تک نہیں دیتا۔ پروفیسر کو نڈ ارام نے کہا کہ ضلع واری اساس پر کئی جائیداد میں میں ملازمین کوفوری طور پر ان کے اضلاع کومختص کرنے کا مطالبہ کیا۔