گجرات میں پولیس کی جانب سے سرعام برقی کھمبے سے باندھ کر نوجوانوں کی پٹائی

تازہ خبر قومی
ہاتھ جوڑ کر ہندو برادری کے لوگوں سے معافی مانگنے لگوائی
احمد آباد: 5؍اکتوبر
(زیڈ این ایم ایس)
گجرات کے کھیڑا ضلع کے تحت ادھیلا گاؤں کے گربا میں پتھراؤ کے بعد پولیس نے 9  مشتبہ افراد کو  حراست میں لے لیا۔ اس کے بعد پولیس ملزمان کو گاؤں لے گئی اور انہیں برقی کھمبے سے باندھ دیا اور سرعام باری باری نوجوانوں کی پٹائی کی۔ اس کے بعد ملزمان سے ہاتھ جوڑ کر ہندو برادری کے لوگوں سے معافی بھی مانگنے لگوائی۔
جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پلٹ فارم پر تیزی سے وائرل ہورہی ہے ۔ ویڈیو میں تین گرفتار نوجوانوں کو تقریب کے مقام کے قریب ایک پولیس وین سے باہر لاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔پولیس اس معاملے میں گرفتار مشتبہ حملہ آوروں کو گاؤں کے چوک میں ایک بجلی کے کھمبے سے باندھ کر پوری عوام سامنے کمر سے نیچے ڈنڈے سے مارتے ہوئے نظر آتا ہے
ویڈیو کلپ میں بچوں سمیت گاؤں کے لوگ پولیس کی کارروائی کو دیکھتے ہوئے اور جب ملزمان کی پٹائی کی گئی تو خوش ہو رہے ہیں۔اور بھارت ماتا کی جئے اور وندے ماترم کے نعرے لگاتے رہے۔ویڈیوز میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ ملزم پولیس عہدیداروں کے کہنے کے بعد موقع پر جمع ہونے والے لوگوں کے ایک بڑے گروپ سے معافی بھی مانگتا ہے۔

جب میڈیا نےپولیس کی جانب سے نوجوانوں کی پٹائی کے ویڈیو کے وائرل ہونے کے تعلق سے دریافت کیا تو احمد آباد رینج کے انسپکٹر جنرل وی چندر شیکھر نے کہا کہ انہیں ایسا کوئی ویڈیو کلپ نہیں ملا ہے۔ انہوں نے کہاکہاکہ اگر پولیس کی جانب سے قانون کی کوئی خلاف ورزی ہوئی ہے تو وہ اس کی تحقیقات کرے گی۔
واضح رہے کہ3 اکتوبر کو وڈودرا کے ساولی قصبے کی سبزی منڈی میں میلاد النبیؐ کے پیش نظر جھنڈے لگانے پر ہندو برادری نے اعتراض جتایا تھا۔ جس کے بعد دو برادریوں کے درمیان لڑائی چھڑ گئی۔درگا پوجا پنڈال پر پتھراؤ کے الزام میں 43 لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے اور 40 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جھگڑا مذہبی پرچم لگانے پر ہوا۔ اس کے بعد پتھراؤ کیا گیا۔
گرفتار ملزمان کے خلاف تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعات کے تحت قتل کی کوشش، ہنگامہ آرائی، غیر قانونی اجتماع اور رضاکارانہ طور پر نقصان پہنچانے سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
معروف صحافی رعنا ایوب نے ٹویٹ کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات سے ایک انتہائی پریشان کن ویڈیو۔ مسلمان مردوں کو کھمبے سے باندھ کر، رحم کی بھیک مانگتے ہوئے سرعام کوڑے مارے۔ ایک ہجوم خوش ہے، قوم پرست نعرے لگاتے ہوئے جشن منا رہا ہے کیونکہ پولیس والوں کی موجودگی میں انہیں بے دردی سے مارا گیا
انجلی بھردواج نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ اس ویڈیو میں موجود ہر پولیس اہلکار کی شناخت کر کے کیفر کردار تک پہنچنا چاہیے۔ ان کی حوصلہ افزائی کرنے والے ہجوم کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب تک ایسے پولیس والوں کا احتساب نہیں ہوتا، اس ملک میں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔