گستاخ رسول ؐ ۔بی جے پی کی قومی ترجمان نوپور شرما پارٹی سےمعطل

تازہ خبر قومی

فی الفور پارٹی کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کا حکم
کسی بھی مذہب کی توہین قبول نہیں۔ پارٹی کا سرکاری طور پر بیان جاری

نئی دہلی: 5؍جون
(زین نیوز)
بی جے پی ہائی کمان نے اتوار کو قومی ترجمان نوپور شرما کو ایک حالیہ ٹی وی مباحثے کے دوران پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی اور ان کے متنازعہ ریمارکس پر معطل کر دیا۔ پارٹی نے دہلی بی جے پی کے میڈیا انچارج نوین کمار جندال کو بھی پارٹی کی بنیادی رکنیت سے نکال دیا ہے۔معطلی کے خط میں پارٹی کی مرکزی ڈسپلنری کمیٹی نے لکھا، "آپ نے مختلف معاملات پر پارٹی کے موقف کے برعکس خیالات کا اظہار کیا ہے۔

آپ کو پارٹی سے اور آپ کی ذمہ داریوں سے فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔” پارٹی نے کہا کہ وہ تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے اور کسی بھی مذہب کے قابل احترام لوگوں کی توہین قبول نہیں کرتی ہے۔

پارٹی ترجمان نوپور شرما کے بیان سے پیدا ہونے والے تنازعہ کے درمیان بی جے پی کے مرکزی جنرل سکریٹری ارون سنگھ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی ایسے کسی بھی خیال کو قبول نہیں کرتی، جو کسی بھی مذہب یا فرقہ سے تعلق رکھتا ہو۔ ترجمان نوین جندال بھی کچھ عرصے سے متنازعہ بیانات کی وجہ سے زیر بحث رہے۔

پارٹی نے کہا کہ بی جے پی ایسے کسی خیال کو نہ تو قبول کرتی ہے اور نہ ہی اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ بی جے پی جنرل سکریٹری کی طرف سے سرکاری طور پر جاری کردہ اس بیان میں کسی بھی واقعہ یا بیان کا ذکر نہیں ہے ۔

قابل ذکر ہے کہ شرما کے بیان کو لے کر مسلم سماج میں غصہ ہے۔ ارون سنگھ نے کہا، ہندوستان کے ہزاروں سالوں کے سفر میں ہر مذہب کو فروغ اور ترقی ملی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی سرو پنتھ سمبھاو میں یقین رکھتی ہے۔ بی جے پی کسی بھی مذہب کے پرستاروں کی توہین قبول نہیں کرتی۔

انہوں نے کہا کہ ملک کا آئین بھی ہندوستان کے ہر شہری سے تمام مذاہب کا احترام کرنے کی توقع رکھتا ہے۔ سنگھ نے کہا، آزادی کے 75 ویں سال میں، اس امرت دور میں ایک بھارت شریشٹھ بھارت کے جذبے کو مسلسل مضبوط کرتے ہوئے، ہمیں ملک کے اتحاد، سالمیت اور ترقی کو اولین ترجیح دینی ہوگی۔

بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما نے ایک ٹی وی بحث کے دوران پیغمبر اسلام محمدﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی ۔جس کے بعدمسلم سماج نے احتجاج شروع کردیا۔ احتجاج ایسا تھا کہ تشدد میں بدل گیا۔ اس کے بعد نوپور شرما کے خلاف مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور دوسرے مذاہب کے خلاف تبصرہ کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

بی جے پی سے نوپور شرما کی معطلی پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ٹویٹ کیا، ”عرب دنیا میں ہونے والے ردعمل نے یقیناً ڈنکا ہو گا۔
سنیچر کو سلطنت عمان کے مفتی اعظم شیخ احمد بن حمد الخلیلی نے ٹوئٹر پر نوپور شرما کے بیان کی مذمت کی تھی۔