گستاخ رسول ﷺ ۔نوپور شرما کے خلاف ملک بھر میں زبردست احتجاج۔گرفتاری کا مطالبہ

تازہ خبر قومی

پریاگ راج میں نماز جمعہ کے بعد پتھراؤ،
رانچی میں مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپ۔فائرینگ

نئی دہلی : 10؍جون
(زیڈ ایم این ایس)
پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی اور متنازعہ تبصرے کے بعد نکالے گئے بی جے پی لیڈر نوپور شرما کے خلاف جمعہ کو ملک بھر میں احتجاج شروع ہوا۔نوپور شرما کے متنازعہ بیان پر ملک بھر میں زبردست ردعمل دیکھنے میں آیا۔ پہلے تو پرامن مظاہرے ہوئے لیکن کچھ ہی دیر میں ہنگامہ شروع ہو گیا۔ رانچی میں پولیس کو گولی چلانی پڑی، اتر پردیش میں پتھراؤ کی اطلاع ہے۔اور پولیس کی جانب سے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔

اتر پردیش، دہلی، کرناٹک، بنگال کے کئی شہروں میں نماز جمعہ کے بعد لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور نوپور شرما کے خلاف نعرے لگائے۔دہلی، کولکتہ، پریاگ راج‘ حیدرآباد اور ملک کے دیگر مقامات پر پیغمبر اسلام کے بارے میں تبصرے پر تنازعہ کو لے کر بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔

دہلی میں جمعہ کی نماز کے بعد جامع مسجد کے باہر احتجاج شروع ہوا جس میں نوپور شرما کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔نوپور شرما اور لیڈر نوین جندال کے اشتعال انگیز ریمارکس کے خلاف لوگ بڑی تعداد میں جمع ہوئے۔ جامع مسجد کے شاہی امام نے کہا کہ مسجد کی طرف سے احتجاج کی کوئی کال نہیں دی گئی۔

دہلی وسطی ضلع کی ڈی سی پی شویتا چوہان نے کہا ہے کہ تقریباً 1500 لوگ جامع مسجد میں نماز ادا کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ نماز کی ادائیگی کے بعد تقریباً 300 افراد نے سڑکوں پر احتجاج شروع کر دیا۔ یہ لوگ نوپور شرما اور نوین جندال کے بیان کی مخالفت کر رہے تھے۔ شویتا چوہان نے کہا کہ 10-15 منٹ کے اندر حالات پر قابو پالیا گیا۔ لوگوں نے بغیر کسی پیشگی اجازت کے سڑکوں پر مظاہرے کئے۔ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

بی جے پی کے معطل لیڈر نوپور شرما اور نوین جندال کے متنازعہ بیان پر مغربی بنگال کے ہاوڑہ میں زبردست احتجاج کیا گیا۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔
کولکتہ میں، 300 سے زیادہ لوگ نماز کے بعد پوسٹر وغیرہ کے ساتھ جمع ہوئے جس میں نوپور شرما کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔کولکتہ کے پارک سرکس میںلوگوں کا ہجوم جمع ہوا اور نوپور شرما اور نوین جندال کے متنازعہ بیانات کے خلاف نعرے لگائے۔

 

تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں مکہ مسجد کے باہر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے اور بی جے پی کی معطل لیڈر نوپور شرما کے خلاف نعرے لگائے۔ بعد میں پولیس کی مداخلت کے بعد ہجوم منتشر ہوگیا۔ علاقے میں پولس فورس اور سی آر پی ایف کے جوانوں کو تعینات کیا گیا ہے۔
رضا اکیڈمی کی قیادت میں گلبرگہ میں بی جے پی کی معطل لیڈر نوپور شرما کے متنازعہ ریمارکس کے خلاف مسلم چوک پر مظاہرہ کیا۔

وہیںاتر پردیش کے پریاگ راج، سہارنپور، بارہ بنکی، مرادآباد، اناؤ، دیوبند سمیت کئی شہروں میں نماز جمعہ کے بعد مظاہرے کیے گئے احتجاج کے دوران اتر پردیش کے کئی شہروں میں پتھراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات پیش آئے۔، پریاگ راج میں پتھراؤ میں ڈی ایم، ایس ایس پی، اے ڈی جی، آئی جی زخمی ہوئے اور ایس پی کی گاڑی کی توڑ پھوڑ کی گئی۔ سڑکوں پر جلاؤ گھیراؤ ہے۔ حالات اتنے خراب ہوئے کہ اے ڈی جی کو بندوق اٹھانی پڑی۔ نیم فوجی دستوں کے کچھ عہدیدار زخمی بھی ہوئے۔

پریاگ راج میں مظاہرین نے پی اے سی کے ایک ٹرک کو بھی نذر آتش کردیا۔ کئی مقامات پر پولیس کو حالات پر قابو پانے کے لیے لاٹھیچارج کرنا پڑا۔

سہارنپور کی جامع مسجد سے جمعہ کی نماز کے بعد نکلنے والے نمازیوں نے اچانک اللہ ہو اکبر کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔ جلد ہی ہجوم مشتعل ہو گیا اور پتھراؤ شروع کر دیا۔ پولیس کو لاٹھی چارج بھی کرنا پڑا۔ تاہم اب سب کچھ کنٹرول میں ہے۔

اے ڈی جی لا اینڈ آرڈر پرشانت کمار نے کہا کہ سہارنپور میں بھیڑ زیادہ ہو گئی تھی، لیکن اب حالات کو قابو میں کر لیا گیا ہے۔ سہارنپور میں پولیس نے 21 فسادیوں کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے اپیل کی ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کوئی بھی جھوٹی خبر پوسٹ نہ کریں بصورت دیگر سخت کارروائی کی جائے گی۔ کلاک ٹاور پر نماز کے بعد کچھ لوگ جمع ہوگئے جنہیں پولیس نے فوری طور پر منتشر کردیا۔ ملزمان کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔

بھیم آرمی چیف ستپال تنور نے نوپور شرما کی زبان کاٹنے والے کو ایک کروڑ انعام دینے کا اعلان کیا
۔کرناٹک میں نوپور شرما کا پتلا لٹکا دیا گیا۔ جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ ہوئی۔

جمعہ کو کرناٹک کے بیلگاوی میں فورٹ روڈ پر واقع ایک مسجد کے قریب بی جے پی کی نوپور شرما کا مجسمہ بجلی کے تار سے لٹکا ہوا پایا گیا۔ گستاخ رسول ﷺ کو پھانسی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجیوں نے نوپور شرما کےعلامتی پتلے کو پھانسی دیکر لٹکادیا ۔تاہم بعدمیں پولیس نے میونسپل کارپوریشن کے ساتھ مل کر اسے فوراً ہٹا دیا۔۔

جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ ہوئی۔جمعہ کو رانچی میں نماز کے بعد پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے۔ پولیس کے مطابق مظاہرین نے پتھراؤ اور آتش زنی کا سہارا لیا۔ صورتحال کو سنبھالنے کے لیے پہنچی پولیس پر بھی پتھراؤ کیا گیا۔ کئی پولیس عہدیدار زخمی ہوئے ہیں۔ ایک نوجوان کی موت ہو گئی ہے۔ 12 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس نے بھیڑ کو سنبھالنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ کئی شہروں میں ہنگامہ کرنے والوں اور پتھراؤ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ اے سی ایس (ہوم) اونیش اوستھی، قائم مقام ڈائریکٹر جنرل آف پولیس، اے ڈی جی (لا اینڈ آرڈر) پولیس ہیڈ کوارٹر سے صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔

نوئ ممبئی، مہاراشٹر میں ایک مخصوص کمیونٹی کی خواتین نے احتجاج کیا۔ بی جے پی کی معطل لیڈر نوپور شرما کے خلاف خواتین نے ریلی نکالی اور مارچ کیا۔

مہاراشٹر کے سولاپور میں بی جے پی کی معطل لیڈر نوپور شرما کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ نوپور شرما کے متنازعہ بیان سے مسلم طبقہ ناراض ہے اور سابق بی جے پی لیڈر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔اگرچہ بی جے پی نے اشتعال انگیز ریمارکس کرنے والے لیڈروں کو معطل کر دیا اور شرما نے معافی بھی مانگی، مظاہرین نے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

سری نگر اور کشمیر کے کئی دیگر شہروں میں نوپور شرما کے ریمارکس کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ یہاں بھی نماز کے بعد ہی مظاہرے شروع ہوئے۔ کئی پوسٹرز بھی دیکھے گئے، جن میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پیغمبر اسلام کی توہین کرنے والوں کا سر قلم کیا جائے۔

پنجاب کے شاہی امام کی طرف سے پنجاب بھر میں لدھیانہ کی جامع مسجد میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے جس میں پیغمبر اسلام کی بے حرمتی کرنے والوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ شاہی امام مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی کیااپیل پر احتجاج منظم کیا گیا۔ نماز جمعہ کے بعد مجلس احرار اسلام ہند کی جانب سے نوپور شرما اور نوین جندال کے پتلے جلائے گئے۔ مظاہرین کا کہنا تھاکہ نبی کریم ﷺکی شان میں گستاخی برداشت نہیں کی جا سکتی۔

 شاہی امام مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی نے کہا کہ حضرت محمدﷺ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کی جائے گی۔ نوپور شرما اور نوین جندال نے اپنے غرور کے خلاف نازیبا ریمارکس کر کے بے شرمی کی تمام حدیں پار کر دیں۔ شاہی امام نے کہا کہ دنیا نے اس معاملے میں بارہا مسلمانوں کو مختلف ممالک میں آزمایا ہے۔ ہر بار یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ مسلمان اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو اپنی جان و مال سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔

شاہی امام پنجاب مولانا عثمان نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ آج تک ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔ یہ جانبداری ہے اور حکومت کو غیر جانبداری سے کام کرنا چاہیے۔ جو لوگ ایسا کر رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو ڈرا سکتے ہیں تو یہ ان کے لیے بہت بڑی غلط فہمی ہے۔

ایک دن پہلے دہلی پولیس نے نوپور سمیت 33 لوگوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کا مقدمہ درج کیا ہے۔ ان کے خلاف ممبئی میں بھی مقدمہ درج ہے۔ تاہم، دہلی پولیس نے انہیں سیکوریٹی بھی فراہم کی ہے کیونکہ انہیں جان سے مارنےکی دھمکیاں مل رہی تھیں۔