گوشت کے حلال و جھٹکےسے گاہکوں کو آگاہ کروانےکا لزوم ۔ریسٹورنٹس کے باہراب وضاحتی تحریر آویزاں کرنا لازمی

تازہ خبر قومی

نئی دہلی : 28 / ڈسمبر
دہلی میں گوشت پکوان کرنے والے ریسٹورینٹ کیلئے اب تحریر کی شکل میں یہ وضاحت کرنا لازمی ہوجائے گا کہ ریسٹوران میں گوشت حلال استعمال کیا جارہا ہے یا جھٹکے کا(حرام) اس سے گاہکوں کو واقف کروا نے کیلئے ریسٹوران کے باہر وضاحت کے ساتھ تحریر کا آویزاں کرنا لازمی ہوگا۔ جنوبی دہلی نگرنگم کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے اس سے متعلق ایک تجویز کی منظوری دی ہے۔اس مسودہ تجویز بہت جلد معتمدی مقننہ کے حوالے کیا جائے گاتاکہ ایوان میں اس کی منظوری ہو جس کے بعداسے باضابطہ قانونی موقف ملےجوں ہی ایوان سے تجویز کومنظوری ملتی ہے اس کے فوری بعد نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا ۔ حالانکہ اس پورے عمل کی تکمیل میں ایک سے دو مہینے لگنے کا امکان ہے۔جنوبی ایم سی ڈی کے قاید نریندر چاولا نے بتایا کہ گوشت کا خہاں تک تعلق ہے یہ مذہب سے جڑاہوامعاملہ ہے۔ کسی کو جھٹکے کا پسند ہے تو کسی کو ذبیحہ پسندہے۔اس لئےگاہک کو اس کے مذہبی عقیدہ کے مطابق گوشت کے حلال ہونے یاجھٹکے کے تعلق سے معلومات حاصل کا اختیار ہے۔ ساتھ ہی مالکین ریستوران و اس کے انتظامیہ پر بھی اس کی وضاحت لازمی ہے جو ان سے اشیاء کے عوض پیسے لیتے ہیں۔ یہ لوگوں کو جاننے کا حق ہے۔ سکھ طبقہ کی جانب سے یہ مطالبہ برسوں سے کیا جارہا تھا ۔ ان کے یہاں یہ ضابطہ ہے کہ وہ زبیح شدہ گوشت نہیں کھا سکتے ۔انہوں نے کہا کہ اس میں تنازع کچھ نہیں ہے ۔ یہ بنیادی حق ہے جاننے کا کہ جو کھا رہے ہیں وہ کیا ہے۔امکان ہے کہ ایوان سے پاس ہونے کے بعد سرکاری اعلامیہ جاری ہوجائے گا ۔کئی اسلامی ممالک میں گوشت کے حلال سرٹیفکیٹ حکومت کی طرف سے جاری کیاجاتاہے ۔ ہندوستان میں ویسے تو فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈس اتھاریٹی آف انڈیا تقریبا سبھی پروسیسڈ فوڈ پر سرٹیفکیٹ دیتا ہے ، لیکن حلال کیلئے یہ کام نہیں کرتا ۔ بلکہ یہاں پر حلال سرٹیفکیشن کیلئے الگ الگ ادارے کار کرد ہیں ان میں حلال انڈیا پرائیویٹ لیمیٹڈ ، حلال سرٹیفکیشن سروسیز انڈیا پرائیویٹ لیمیٹڈ اور جمعیت علما ہند حلال ٹرسٹ قابل ذکر ہیں۔