از قلم : عبداللقیوم شاکر القاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء نظام آباد
9505057866
یوں تو عالم اسلام کےتمام ہی مسلمان اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ واقعہ معراج میں اللہ تعالی نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز جیسا عظیم الشان تحفہ دیا جس پر صحابہ کرام کی خوشی کی انتہاء نہ رہی اور اللہ سے مانگنے اور رابطہ کا ایک بہترین اور مضبوط ترین راستہ مل گیا یہ سمجھ کر وہ خوش وخرم ہوے زندگی میں نمازوں سے کبھی انہوں نے غفلت نہیں برتی اور اللہ کی رضاکو پالیا یہاں تک کہ رضی اللہ عنھم ورضواعنہ کا پروانہ ان کو مل گیا
اب رہتی دنیا تک کے مسلمانوں کے لےء ان صحابہ کرام کو معیارحق بنادیا گیا اللہ پاک ہم سب کو دین متین کے اس عظیم الشان فریضہ کو سمجھنے اور درست طریقہ پر اخلاص کے ساتھ نمازوں کا اہتمام کرنے کی توفیق عطاء فرماے میں اس وقت ایک دوسری جانب امت مسلمہ کی توجہ کو مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ موجودہ کٹھن اور صبر آزما حالات میں واقعہ معراج سے ہمیں کیا درس لینا چاہہیے اس جانب شاید اہل علم کی نظر گیء ہوں گی اور یقینا گئ لیکن عمومی اعتبار سے قوم مسلم کو اس چیز سے واقف کرانا ضروری ہے اس وجہ سے میں واقعہ معراج کو اس زاویہ سے دیکھنے اورپیش کرنے کی کوشش کی ہے اللہ کرے کہ ہمیں سمجھ میں آجاے
حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو وحی کے ذریعہ دین کہ دعوت اور لوگوں میں اس کی تبلیغ کا حکم دیاگیا جس کے نتیجہ میں آپ نے گھرگھر دین کا پیغام لے کر جاتے جس کے مقدر میں ہوتا وہ قبول کرکے مشرف بہ اسلام ہوجاتا اور جس کی تقدیر میں نہ لکھا ہوتا وہ اس پیغام حق کو قبول کرنے سے انکار کردیتا اور پرانی روش باپ داداؤں کے دین پر ہی جما رہتا اس راہ میں آپ کو کئ ایک مصیبتوں کا سامناکرنا ہڑا اپنوں اور پرایوں کی کڑوی کسیلی سننی پڑی حتی کہ ضرب والم سے بھی گذرنا پڑا گویا ہرقسم کی تکالیف ومصائب سے آپ کوگذرنا پڑاجس کی ایک طویل ترین تاریخ ہے
میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ دعوت وتبلیغ کے آغاز سے لے کر واقعہ معراج تک آپ پر مسلسل آزمائشوں کا سلسلہ جاری رہا غموم وہموم کے واقعات بھی پیش آے اسی سال آپ کی اہلیہ محترمہ اور چچا محترم کا یکے بعد دیگرےوصال بھی ہوا جس سے آپ نڈھال ہوگےء تھے مزید برآں طائف میں جب دین کا پیغام لے کر پہونچے تو ان کے روییے نے تو آپ کو مزید توڑ ڈالا تھا بہرحال جب ابتلای وآزمائش کے تمام مراحل سے گذرگےء اور امتحان کے تمام راستے طےء کرچکے اللہ کی خاطر مشقتیں اٹھانے اور دین کی خاطر تکلیفیں برداشت کرنے کے تمام مراحل مکمل ہوچکے اور ان میں آپ سوفی صد کامیاب رہے تو اللہ پاک نے رجب المرجب کی 27/ ویں تاریخ نبوت کے دسویں سال آپ کو معراج پربلواکر عزتوں رفعتوں اور بلندیوں کی انتہاء پر پہونچاکر تسلی اور تشفی کاسامان فراہم کردیا اور اتنا بلند کیا کہ جبرائیل علیہ السلام بھی نیچے رہ گئے
جس کا تفصیلی واقعہ ہے غور کرنے سے معلوم یہ ہوتاہے کہ اکثر وبیشتر سیرت نگاروں نے واقعہ معراج کو ترتیب کے اعتبار سے طائف کے واقعہ کے بعد نقل کیا اگر یہی ترتیب درست ہے تو پھر اس میں ایک لطیف نکتہ اور باریک بینی یہ ہے کہ طائف کے حوصلہ شکن اور دل آزار احوال سے گذرنے قسم قسم کی تکالیف کاسامنا کرنے کے بعد آپ نے بارگاہ ایزدی میں کہا تھا
کہاے اللہ اگر آپ مجھ سے ناراض نہیں ہیں تو مجھے دنیاکی ان ساری تکالیف اور مجھ پر آنے والے مختلف حالات لوگوں کی جانب سے ہونے والی دل شکنی ودل آزاری کی کوی پرواہ نہیں ہے تو حق تعالی نے اپنے ناراض نہ ہونے کااطمینان دلانے اور آپ کے دل بے تاب کو سکون بخشنے اور دل مضطر کو راحت دینے کے لےء آپ کو عرش پر بلوالیا آپ آپ کے مقام ومرتبہ کے مناسب اکرام واعزاز کی ایک جھلک دکھلاکر بتلادیا کہ آپ کے ساتھ آخرت میں کیا کیا جانے والا ہے اب ہم مسلمانوں کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے
کہ آج جوحالات ایمان والوں کے ساتھ پےء درپےء اورمسلسل آرہے ہیں ہمیں ان حالات کی فکر کرنے اور ڈرنے یا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمیں اپنے پروردگار کو راضی کرنے کی ضرورت ہے اگر وہ ہم سے ناراض نہیں ہے تو پھر ہمیں بھی دنیا کے ہموم وغموم کی چنداں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن دوستو حالات بتارہے ہیں کہ وہ پاک پروردگارہم سے ناراض ہیں تب ہی تو حکومتی سطح پر معاشی سطح پر دنیاکی ہر لائن سے ہم حالات میں گھرے ہوے نظر آرہے ہیں
اگر ہم نے بھی ان حوصلہ شکن حالات میں صرف اپنے پروردگار کو راضی کرنے کی فکر کرلیں اس کی نافرمانیوں سے اپنے آپ کو بچالیں نمازوں کا اہتمام زندگیوں میں آجائیں تو کوی بعید نہیں کہ اللہ ہمیں بھی اطمینان دلانے کے لےء دنیا کے حالات کو لمحوں میں بدل سکتےہیں
