مولوی قاضی ابومہک شیخ محمد علی رشادی سکریٹری لجنت العلماء ویلفئر سوسائٹی کڈپہ کا خطاب
—––——-–—————————
حافظ نور اللہ کی اطلاع کے مطابق لجنت العلماء ویلفئر سوسائٹی کڈپہ کے بانی و سکریٹری مولانا مولوی قاضی ابو مہک شیخ محمد علی رشادی صاحب نے اپنے صحافتی خطاب میں کہا ہندوستان کی آزادی علماء ہند کی کوشیشوں اور قربانیوں کا نتیجہ ہے.تاریخ شاہد ہے جہاں ملک کی آزادی کا تصور مدارس نے پیش کیاتووہیں انگریزی تسلط کے خاتمہ کی قیادت علماءکرام نے کی جن میـں جنگ آزادی کے بانی شاہ ولی اللہ محدث دہلوی.بدرالدین طیب جی.علماءصادق پور.مولانا ضامن علی شھید.
مولانا قاسم ناناتوی.شاہ عبدالغنی.مولوی احمداللہ مدراسی.حکیم اجمل خان.مولانا برکت اللہ بھوپالی. مولانا محمدعلی جوھر.شوکت علی.اشفاق اللہ خان.مولانا عبیداللہ سندھی.قاری عقیل الرحمن.مولانا ولایت علی.مولانا یحی عظیم آبادی.مولانا وحید احمد مدنی.مولانا عزیز گل پیشاوری.حکیم نصرت حسین.مفتی کفایت اللہ دہلوی.مولانا عبدالباری بدایونی.مولانا لیاقت علی.مولانا حسرت موہانی.مولاناظفر علی خان.مولانا سید حسین احمد مدنی.مولانا رشید احمد گنگوہی.عبدالغفار خان.وغیرہ نہ ہوتے تو جنگ آزادی کی صبح ہونے میں بڑی تاخیر ہوتی.
انگریز ہندوستان میں تجارت کی غرض سے آکر ہندوستان پر قبضہ کرلیا ہندوستانیوں کو غلام بنالیا.انگرزوں کی غلامی میں جینے والے لوگوں کو للکار کر ہندوستان کو آزاد کرانے کئلے .انگریزوں سے مُلک کو بچانے کئلے جہاد کا فتوی دیکر خود میدان جنگ میں آکر جانوں کی قربانی پیش کرنے والے سب سے پہلے ہندوستان کے علماء تھے.شمال کا کوئی درخت ایسا نہیں تھا جس پر علماء کو پھانسی نہ دی گئی ہو.
سب سے پہلی انگریزوں کے خلاف منظم جنگ نواب سراج الدولہ کے نانا علی وردی خان نے 1754ء میـں کی اور انگریزوں کو شکشت دی.کلکتہ کا ڈئمنڈ ہاربر.اور فورٹ ویلیم انگریزوں کا مرکز تھا.علی وردی خان نے فورٹ ویلیم پر حملہ کرکئے انگریزوں کو بھگایا انگریز ڈئمندہاربر میـں پناہ لینے پر مجبور ہوئے.
اور ایک طرف مرد مجاھد شیر میسور ٹیپو سلطان ملیں گے.جن کا یہ قول اج بھی چار دانگ عالم میں مشہور ہے”” گیدڑ کی سوسولہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے””ایک طرف مالٹا کی جیل میں تحریک ریشمی رومال کے بانی شیخ الہند موانا محمود الحسن نظر آئیں گےانکو انگریزوں نے ہر طرح کی سہولت پہچانے کا لالچ دیکر جب اپنے حق میں ان سے فتوی چاہا تو.مولانا نے انکی پیش کش ٹھکرانے کا ساتھ یہ کہا کہ”جو سر خدا کے حضور میں جھکتا ہے وہ سر دنیاں کےذلیل کتوں کے سامنے کبھی نہیں جھک سکتا!.
اور ایک طرف قائد انقلاب علامہ فضل حق خیرابادی نے دہلی کی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز کے بعد انگریز مظالم کے خلاف ایسی جامع تقریر کی جس سے جذبہ حریت کے ساتھ نوے ہزار مسلمانوں کی فوج دہلی میں جمع ہوگئی اور آزادی کا نقارہ بجا دیاجس سے آگرہ.دہلی.میرٹھ.شاہ جہان پور اور لکھنو میدان جنگ میں بدل گئےانگریزی حکومت بوکھلا اٹھی اور سامراجیت کے ایوانوں میں زلزلہ پیدا ہوگیا.اور انگریز دنگ رہ گیا کہ مسلمان سویا تھا کیسے جگ گیا. ہندو مسلم اتحاد بناکر گنگا جمنی تھذیب کے ساتھ سب ملکر انگریزوں کو ہندوستان سے بھگایا.اپنے ملک کو آزادی ملی.یہ آزادی کئلے ہمارے اسلاف نے بڑی قربانیاں دئی ہیـں.