جے پور: 27؍جولائی
(زیڈ این ایم ایس)
پاکستانی خواتین ایجنٹس نے ایک بار پھر بھارتی جوان کو ہنی ٹریپ میں پھنسا دیا۔ یہ جوان ان کے ساتھ واٹس ایپ چیٹ اور ویڈیو کال کے ذریعے رابطے میں تھا اور حساس معلومات بھیج رہا تھا۔ ملزم فوجی عہدیدار شانتی موئے رانا کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ہندوستانی فوج کے ایک جوان، شانتی موئے رانا (24)، مغربی بنگال کے رہائشی ہے ، کو ایک خاتون ایجنٹ کے ذریعے ہنی ٹریپ کرنے کے بعد خفیہ ویڈیوز اور دستاویزات شیئر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا، اعلیٰ حکام نے اس بات کی بدھ کو یہاں تصدیق کی۔یہ جوان جے پور چھاؤنی میں تعینات تھا۔ سی آئی ڈی انٹیلی جنس کافی عرصے سے اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے تھی۔ پاکستانی ایجنٹوں نے رقم کا لالچ دے کر اس سے بھارتی فوج سے متعلق معلومات حاصل کیں۔ سی آئی ڈی نے انہیں 25 جولائی کو حراست میں لیا تھا، ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سی آئی ڈی انٹیلی جنس ٹیم نے ملزم کو گرفتار کیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ فوج کی اسٹریٹجک اہمیت کی دستاویزات اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستانی خاتون ایجنٹ کے ساتھ شیئر کی ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس امیش مشرا نے کہا کہ پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے راجستھان میں جاسوسی کی سرگرمیوں کی سی آئی ڈی انٹیلی جنس آپریشن سرحد کے تحت مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ اس نگرانی کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ فوجی جوان شانتی موئے رانا سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستانی انٹیلی جنس ہینڈلرز سے مسلسل رابطے میں تھا۔
ڈی جی انٹیلی جنس امیش مشرا نے بتایا کہ فوج اور پولیس کی پوچھ گچھ کے دوران 24 سالہ شانتی موئے نے اعتراف کیا کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستانی انٹیلی جنس ایجنٹوں کے ساتھ طویل عرصے سے رابطے میں تھا۔ مغربی بنگال کے ضلع بنکورہ کے کنچن پور کے رہنے والے شانتی موئے نے مارچ 2018 سے ہندوستانی فوج میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اور کافی عرصے سے واٹس ایپ چیٹ اور واٹس ایپ آڈیو اور ویڈیو کالنگ کے ذریعے خواتین پاک ایجنٹس سے رابطے میں تھا۔
جب انٹیلی جنس جے پور کی ٹیم نے اس جوان کی سرگرمیوں کی نگرانی کی تو وہ ہنی ٹریپ اور پیسوں کے لالچ میں سوشل میڈیا کے ذریعے پاک خاتون ایجنٹ کے ساتھ ملٹری کی اسٹریٹجک اہمیت کی معلومات شیئر کرتا پایا گیا۔ 25 جولائی کو شانتی موئے رانا کو حراست میں لے لیا گیا۔
مشرا نے مزید کہا کہ ایک گرنور کور عرف انکیتا نے اپنی شناخت شاہجہاں پور، اتر پردیش کی رہنے والی بتائی اور کہا کہ وہ وہاں ملٹری انجینئرنگ سروس میں کام کرتی ہے۔ ایک اور لڑکی نے اپنا تعارف نشا کے طور پر کرایا اور کہا کہ وہ ملٹری نرسنگ سروس میں کام کر رہی ہے۔ اس شخص کو ہنی ٹریپ کرنے کے بعد لالچ دے کر انہوں نے فوج سے متعلق خفیہ دستاویزات کی تصاویر اور جنگی مشقوں کی ویڈیوز مانگی اور بدلے میں بڑی رقم کا وعدہ کیا۔
اس لیے ملزم جوان نے اپنی رجمنٹ کی خفیہ دستاویزات اور ویڈیوز پاکستانی خواتین ایجنٹوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے بھیجیں جس کے لیے پاکستانی خاتون ایجنٹ نے اس کے بینک اکاؤنٹ میں رقم بھیجی۔
ڈی جی مشرا نے کہا کہ ملزم سے پوچھ گچھ اور موبائل فون کے تکنیکی تجزیہ میں حقائق کی تصدیق کے بعد ملزم کے خلاف گورنمنٹ سیکریٹ ایکٹ 1923 کے تحت مقدمہ درج کرکے گرفتار کرلیا گیا ہے۔
نٹلیجنس نے جوان کے موبائل اور دیگر ڈیجیٹل آلات کو اپنے قبضے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہے۔ شانتی موئے نے بتایا کہ لڑکی اسے پھنسانے کے لیے ویڈیو کال کرکے اس کے مقام کے بارے میں معلومات حاصل کرتی تھی۔