یونانی طب کی اہمیت وفروغ سے متعلق چھ روزہ سی ایم ای تقریبات کا انعقاد

تازہ خبر قومی

 مرکزی و صوبائی حکومت طب یونانی کے فروغ کیلئے بہترین اقدامات کر رہی ہیں۔ڈاکٹر انور سعید

دیوبند،9؍مئی
(رضوان سلمانی)
یونانی طب کی اہمیت اور اس کے فروغ سے متعلق چھ روزہ سی-ایم-ای تقریبات اسٹیٹ یونانی میڈیکل کالج پریاگ راج کے حکیم احمد حسین آڈیٹوریم میں منعقد کی گئیں جس میں پورے ملک سے اطباء اور یونانی طب کے ماہرین نے شرکت کی ۔یہ تقریبات آئندہ 14؍مئی تک جاری رہیں گی۔اس باوقار پروگرام کی صدارت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق پرو وائس چانسلر بریگیڈئر سید احمد علی نے کی ۔

ان چھ روزہ تقریبات میں جامعہ طبیہ دیوبند کے سکریٹری اور یونانی طب کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے والی شخصیت ڈاکٹر انور سعید نے مہمان ذی وقار کی حیثیت سے شرکت کی۔اس پروگرام کی افتتاحی تقریب میں اجمل خاں طبیہ کالج ،مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی پرنسپل وسابق ڈین ڈاکٹر شگفتہ علیم نے مہمان خصوصی کے طور پر موجود رہیں۔

ان کے علاوہ این سی آئی ایس ایم نئی دہلی کے چیئرمین وید جینت دیو پجاری ،بورڈ آف یونانی سدھ ،سووار گپا،این سی آئی ایس ایم نئی دہلی کے صدر ڈاکٹر کے جگن ناتھن،آیوروید سروز لکھنؤ کے ڈائریکٹر پروفیسر ایس این سنگھ،یونانی سروز لکھنؤکے ڈائریکٹر ڈاکٹر ایم سکندر حیات صدیقی اور آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس نئی دہلی کے سکریٹری جنرل اور سی سی آر یو ایم کے سابق ڈی جی ڈاکٹر محمد خالد صدیقی گیسٹ آف آنر کے طور پر موجود رہے۔

علاوہ ازیں سی سی آئی ایم نئی دہلی کے سابق ممبر ،آیوروید و یونانی طبی چکتسا پدتھی بورڈ لکھنؤکے موجودہ ممبر وسابق چیئرمین نیز جامعہ طبیہ دیوبند کے سکریٹری ڈاکٹر انور سعید اور آیوروید ویونانی طبی چکتساپدھتی بورڈ لکھنؤ کے رجسٹر ار ڈاکٹر اکھیلیش کمار ورما مہمان ذی وقار کے حیثیت سے شریک رہے ۔پروگرام میں موجود تمام شخصیات نے یونانی طب کی افادیت اور اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔

اس موقع پر ڈاکٹر انور سعید نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ یہ قدیم و دیرینہ مسلمہ امر ہے کہ طب یونانی ایک ایسا طریقہ علاج ہے جو صرف شافی ہی نہیں بلکہ مضمرات سے بھی پاک ہے لیکن گزشتہ نصف صدی میں ماضی کی حکومتوں نے یونانی طب کے فروغ اور اس کی ترویج وترقی کے لئے کوئی قابل ذکر اقدام نہیں کیا جبکہ موجودہ مرکزی اور صوبائی حکومت مسلسل طب یونانی کے فروغ کے لئے جو بہترین اور بروقت اقدامات کر رہی ہیں وہ نہ صرف قابل ستائش ہیں بلکہ ان کی اپنی تاریخی حیثیت ہے ۔

 

انہوں نے کہا کہ این سی آئی ایس ایم نئی دہلی کا قیام دیسی طبوں کے فروغ کے لئے ایک شاندار اور فعال کاؤنسل ہے جس کے لئے ہم سب وزیر اعظم عالی جناب نریندر مودی جی کے شکر گزار ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس کاؤنسل نے چیئرمین دیو پجاری جی اور دیگر معزز اراکین کی سرپرستی میں دیسی طبوں کو ملکی اور غیر ملکی سطح پر نمایاں شہرت اور امور انجام دینے کا کام کیا ہے ۔

ڈاکٹر انور سعید نے کہا کہ طب یونانی بھی ایک قدیم ہندوستانی طب ہے جو موجودہ حکومت کے زیر سایہ اپنے بہتر مستقبل کی طرف دیکھ رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ تمام اراکین طب یونانی اترپردیش سرکار اور مرکزی حکومت کے ان اقدامات کے لئے جو انہوں نے طب یونانی کے فروغ کے لئے انجام دئیے ہیں شکریہ ادا کرتے ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ آنے والے وقت میں مرکزی اور صوبائی حکومتیں خاص طور پر دہلی کی حکومت اپنی آیوش وزارتوں کے تحت طب یونانی سے متعلق درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے خصوصی توجہ فرمائیں گی۔

اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر انور سعید نے اسٹیٹ یونانی میڈیکل کے انتظامیہ کو ان پر وقار تقریبات کے انعقاد کے لئے مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ علم کے دریا مسلسل بہتے رہنے چائیں۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے پروگرام یونانی طب اور دیگر طبوں کے فروغ اور تشہیر کا بہترین ذریعہ ہیں۔