یوپی : نعش کے ساتھ احتجاج کرنا ریاست میں قابل سزا جرم

تازہ خبر قومی
نعش کو سڑک پر بھی رکھنا جرم ہوگا،۔آخری رسومات کے لیے ہدایات جاری
لکھنؤ:۔26؍ستمبر
(زین نیو ز ڈیسک)
اتر پردیش کی یوگی حکومت نے سڑک پر یا عوامی مقام پر حادثات یا مجرمانہ معاملات میں لاشوں کے ساتھ احتجاج کرنے والوں کے خلاف سخت قوانین بنائے ہیں۔ اب یہ ریاست میں قابل سزا جرم ہوگا۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ نے نعش کی باوقار آخری رسومات کے لیے ہائی کورٹ میں دائر ایک PIL پر دیے گئے حکم کی تعمیل میں ایک SOP تیار کیا ہے۔
اس کے تحت اگر لواحقین خود یا کوئی بھیڑ جمع کرکے نعش کو سڑک یا عوامی مقام پر رکھ کر مظاہرہ کرتے ہیں تو اسے میت کی توہین سمجھتے ہوئے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
ایس او پی کے مطابق پوسٹ مارٹم کے بعد نعش لواحقین کے حوالے کرتے وقت تحریری رضامندی لی جائے گی کہ وہ لاش کو پوسٹ مارٹم ہاؤس سے براہ راست اپنے گھر لے جائیں گے اور مذہبی طریقے کے مطابق تدفین کے مقام پر لے جائیں گے۔
 رسومات اس دوران وہ سڑک کے درمیان کہیں بھی لاش نہیں رکھیں گے، کسی جماعت یا تنظیم کی مدد سے بھیڑ جمع نہیں کریں گے،ہجوم یا احتجاج نہیں کریں گے۔ اسی طرح اگر کوئی گروہ یا تنظیم میت کے ساتھ مظاہرہ کرے گا اور امن و امان کے خلاف کام کرے گا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
نعش کو رات کو جلانے کے لیے ایس او پی جاری۔ہاتھرس واقعہ کے بعدنعش کو رات کے وقت جلانے کے لیے ایس او پی میں قوانین بنائے گئے ہیں۔ اگر کسی میت کو رات کو دفنانا ہو تو پہلے گھر والوں سے اجازت لینی پڑتی ہے۔ یہی نہیں اس پورے عمل کی ویڈیو گرافی بھی کی جائے گی۔
 اس کے ساتھ ضلعی انتظامیہ اور لواحقین کے درمیان رابطے اور پیغامات کا ڈیٹا بھی ایک سال تک محفوظ رکھنا ہوگا۔ایس او پی میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر لواحقین کسی بھی حالت میں میت لینے سے انکار کر دیں تو ایسی صورت میں کیا کرنا ہے۔ سب سے پہلے انتظامی اہلکار اہل خانہ کو منانے کی کوشش کریں گے۔
 اس کے باوجود اگر اہل خانہ راضی نہیں ہوئے تو مقامی لوگوں کا ایک گروپ بنا کر ڈی ایم کی ہدایت کے مطابق پنچنامہ بھرتے ہوئے لاش کا آخری رسومات کیا جائے گا۔ ایس او پی میں نامعلوم نعشوں کی تدفین کا طریقہ کار بھی طے کیا گیا ہے۔