یوکرین میں پھنسے ہندوستانی میڈیکل طلباء پر حملہ اور تشدد۔ویڈیو شوشیل میڈیا پر وائرل

تازہ خبر عالمی

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا
نئی دہلی:28؍فروری
(اے ایم این ایس)
یوکرین اور روس کے درمیان لڑائی پانچویں روز بھی جاری ہے۔ وہاں رہنے والے کچھ ہندوستانی طلباء ملک واپس آچکے ہیں، لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس دوران کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کرکے مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر یوکرین میں پھنسے ہندوستانی میڈیکل طلباء پر حملہ اور تشدد کی ویڈیو شیئر کی ہے۔

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے مذکورہ ویڈیو شیئر کرکے مرکزی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ہم اپنے شہریوں کو اس حالت میں نہیں چھوڑ سکتے۔ اس قسم کے تشدد سے متاثر ہونے والے میڈیکل کے طلباء اور طالبات سے میری ہمدرد ی ہے۔ جس کو دیکھ کر طلباء کے والدین میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ بھارتی حکومت انہیں وہاں سے نکالنے کا منصوبہ ملک کے سامنے رکھے

اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے اپنے ٹوئٹر وال پر لکھا کہ میں اس طرح کے تشدد کا سامنا کرنے والے ہندوستانی طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں جنہوں نے یہ ویڈیوز دیکھے۔

کسی بھی والدین کو ایسی حالات سے نہیں گزرنا چاہئے۔ انہیں وہاں سے نکالنے کے لیے حکومت ہند کو فوری طور پر ایک تفصیلی منصوبہ بنانا چاہیے۔ یہ منصوبہ طلباء کے خاندان کے ساتھ شیئر کیا جانا چاہیے۔ ہم اپنے پیاروں کو اس طرح نہیں چھوڑ سکتے۔

یوکرین پر روس کے حملے کے معاملے پر، ہندوستان نے 193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا "ہنگامی خصوصی اجلاس” بلانے پر سلامتی کونسل میں ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ دو روز قبل روس نے یوکرین کے خلاف روسی جارحیت سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کو ویٹو کے ذریعے روک دیا تھا۔ 15 رکنی سلامتی کونسل کا اجلاس اتوار کی سہ پہر مقامی وقت کے مطابق ایک خصوصی اجلاس بلانے پر ووٹنگ کے لیے ہوا۔