یوگا جسم اور روح کے مابین ہم آہنگی پیدا کرتا ہے ۔صبا حسیب صدیقی

تلنگانہ قومی

جامعہ طبیہ دیوبند ،پبلک گرلز انٹر کالج ، دیوبند یونانی میڈیکل کالج میں عالمی یوگا ڈے کا انعقاد
یوگا کے سلسلہ میں مرکزی اور صوبائی حکومتوں کا تعاون قابل ستائش ہے : ڈاکٹر انور سعید

 دیوبند، 21؍ جون
(رضوان سلمانی)

آٹھویں’’عالمی یوگا ڈے‘‘کے موقع پر دیوبند کے پبلک گرلز انٹر کالج ، جامعہ طبیہ دیوبند ، دیوبند یونانی میڈیکل کالج سمیت شہر کے دیگر تعلیمی اداروں میں عالمی یوگا ڈے جوش وخروش کے ساتھ منایا گیا۔ اس دوران مقررین نے یوگا کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا۔ دیوبند کے
قدیم عصری تعلیمی ادارے پبلک گرلز انٹر کالج دیوبند میں طالبات نے مختلف قسم کے یوگ آسن کرکے عالمی یوگا ڈے میں نہایت جوش وخروش کے ساتھ شرکت کی۔طالبات کے علاوہ اس یوگا ڈے میں ادارہ کی پرنسپل،ٹیچرز اور دیگر ملازمین بھی شریک رہے ۔اس موقع پر ادارہ کی پرنسپل نے کہا کہ گذشتہ دو سالوں سے عالمی وباء کووڈ کے باعث افرا تفری اور خوف کے ماحول سے باہر نکل کر باقاعدگی کے ساتھ یوگا کا عالمی دن منا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یوگا ہمارے جسم اور صحت وتندرستی کے لئے ایک ایسی قدرتی نعمت ہے جو انسان کو ذہنی،جسمانی اور جذباتی طور پر مضبوط بناتا ہے ۔گرلز انٹر کالج کی فزیکل ایجوکیشن ویوگا ٹیچر روبینہ شہزاد نے کہا کہ ہندوستان میں یوگا کی تاریخ پانچ ہزار سال پرانی ہے ۔یوگا کو جسم اور روح کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے کی حیرت انگیز سائنس سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔

صفیہ گوھر اور صبا حسیب صدیقی نے یوگا کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ 21؍جون کو عالمی یوگا ڈے منانے کا خاص مقصد یہ ہے کیونکہ ایسا قیاس کیا جاتا ہے کہ اگر سال کے سب سے طویل دن میں یوگ یا ورزش کی جائے تو روحانی طور پر جسم پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ زینب سنبل،ساجدہ اور منتشاء نے طالبات کو یوگ سے متعلق اہم باتیں بتائیں اور کہا کہ اگر طالبات یوگ کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں شامل کرلیں تو جسمانی فٹنیس کے ساتھ ان کی ذہنی نشو ونمامیں بھی اضافہ ہوگا جو ان کی تعلیمی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔اس موقع پر صبا حسیب صدیقی،صفیہ گوھر،روبینہ شہزاد،ساجدہ ،زینب سنبل،منتشائ،محمد غزالی،عارف اور طالبات موجود رہیں۔

دیوبند کے مشہور جامعہ طبیہ دیوبند میں بھی آٹھواں عالمی یوگا ڈے نہایت جوش وخروش کے ساتھ منایا گیا ۔اس موقع پر ایک یوگا کیمپ بھی لگایا گیا جس کا افتتاح بی جے پی کے سینئر لیڈر منوج سنگھل اور محمد انور انجینئر نے کیا ۔افتتاح کے بعد منوج سنگھل نے جامعہ طبیہ کے طلبہ وطالبات نیز اسٹاف کو یوگا کی مختلف ورزشیں کرائیں۔

جامعہ طبیہ دیوبند کے سکریٹری ڈاکٹر انور سعید نے بتایا کہ 14؍جون سے چلنے والے یوگا ہفتہ کے تحت ڈاکٹر احتشام الحق صدیقی ،ڈاکٹر محمد آصف ،فیضی،گوھر نبی اور جوگیند روغیرہ نے یوگ سے متعلق بھرپور تشہیر کی ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور کی بھاگ دوڑوالی زندگی میں روز انہ ورزش کرنا نہایت ضروری ہوچکا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ یوگ کا تعلق کسی خاص طبقہ ،فرقہ یا ملک سے نہیں ہے بلکہ اس کا سیدھا تعلق انسانی زندگیوں سے ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں مرکزی اور صوبائی حکومتوں کا تعاون قابل ستائش ہے جس کی بدولت عوام نے صحت وتندرستی کی جانب بیداری لانے میں مدد ملی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں اترپردیش حکومت کے یوگ پروگرام سے عوام کے اندر جو بیداری کی جارہی ہے وہ ایک اچھا قدم ہے۔

ان پروگراموں میں شامل ہونے سے نہ صرف انسان صحت کے تئیں بیدار ہوگا اور وہ ہمیشہ تندرست رہے گا۔ کالج کے ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر اختر سعید نے سبھی مہمانوں کا گل پوشی کرکے استقبال کیا اور کہا کہ جسم اور ذہن کو فٹ رکھنے کے لئے ورزش اور یوگ وغیرہ کا سہارا لینا ضروری ہے ۔ جسمانی ورزش انسان کی صحت اور تندرستی کو بہتر بنائے رکھنے کے لئے نہایت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی کوششوں سے یوگ پروگرام دنیا کے مختلف ممالک میں اپنایا جاچکا ہے اور مسلسل پوری دنیا کے لوگ اس کو عملی طو ر سے اختیار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ تمام باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے صوبائی اور مرکزی حکومت کی جانب سے لوگوں میں یوگ اور وزرش کے تئیں بیداری پیدا کرنے کے لئے جو پروگرام چلایا جارہا ہے وہ قابل ستائش ہے۔

وہیں دوسری جانب دیوبند یونانی میڈیکل کالج میں بھی یوگا کا عالمی دن منایا گیا خاص طور پر 21؍جون کی صبح میڈیکل کالج کے طلبہ وطالبات نے اسٹاف کے ساتھ مل کر مختلف قسم کے یوگ آسن کئے ۔

اس موقع پر یوگ ٹرینٹر سنجیو جین نے طلبہ وطالبات کو یوگ آسن کرائے ۔بعد ازاں انہوں نے اس کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہر شخص کو اپنی زندگی میں لازمی طور پر یوگ کو شامل کرنا چاہئے ۔اس موقع پر ڈاکٹر طاہر حسن،ڈاکٹر فراز،ڈاکٹر تاجور،ڈاکٹر معید،ڈاکٹر نور عالم،جتیندر ،فریدہ ،شاہدہ اور اسٹاف سمیت بڑی تعداد میں طلبہ وطالبات موجود رہے ۔