ممبئی:3؍ا گسٹ
(زین نیوز؍ایجنسیز)
ہزاروں لوگوں کی دعائیں اور 16 کروڑ کا انجکشن بھی 11 ماہ کی ویدیکا شندے کو نہیں بچا سکا۔سانس لینے میں تکلیف کے بعد اتوار کی رات پونے کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا ، لیکن رات گئےبچی انتقال کر گئی
جینیٹک ریڑھ کی ہڈی کے پٹھوں کی اتروفیSMAایک بیماری ہے جو جسم میں SMA-1 جین کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس سے بچے کے پٹھے کمزور ہو جاتے ہیں۔

مہاراشٹرریاست کے پمپری چنچواڈ میں رہنے والے سوربھ شندے کی13 ماہ کی بچی ویدیکا سورابھا شندے کو جینیاتی بیماری تھی جس کا نام سپائنل مسکولر ایٹروفی SMAتھا۔ اس کی بیماری کی نوعیت کے باعث دنیا بھر سے اس کی مدد بھی کی والدین نے کراوڈ فنڈنگ سے 16 کروڑ روپے جمع کراکر امریکہ سے دنیا کا مہنگا ترین انجکشن زولگنسما Zolgensma نامی انجکشن منگواکرلگایا گیا تھا۔
یہ اس بیماری کا حتمی علاج سمجھا جاتا ہے۔ مگر وہ ایک جینیاتی بیماری، جسے اسپائنل مسکیولر اٹروفی کہتے ہیں اور جو کہ بہت کم لوگوں کو لاحق ہوتی ہے، اس سے جانبر نہ ہوسکی اور چل بسی۔

ویدیکا سورابھا شنڈے جو کہ ایک شاذ و نادر ہی لاحق ہونے والی بیماری میں مبتلا ہونے کے باعث جاں بلب کیفیت میں مبتلا تھی۔ اتوار کو پونا کے دینا ناتھ منگیشکر اسپتال میں انتقال کرگئی۔
ویدیکا کو یہ انجکشن جون میں بھی دیا گیا تھا۔ اس کے بعد پورا خاندان بہت خوش تھا اور ویدیکا کی کہانی سوشل میڈیا پر بھی بہت وائرل ہو رہی تھی۔ تاہم یہ خوشی زیادہ دیرپا نہیں رہ سکی اور اتوار کی رات ویدیکا نے دنیا کو الوداع کہہ دیا۔
بچی کے والد کے مطابق وہ گزشتہ شام کھیل رہی تھی کہ اچانک اسے سانس لینے میں مشکل پیش آنے لگی، جس پر ہم فوری طور پر اسپتال پہنچے، جب اسکی حالت سنبھلی تو پھر ہم اسے دینا ناتھ منگیشکر اسپتال لے گئے جہاں اسے فوری طور پر وینٹی لیٹر پر لے جایا گیا، اس موقع پر ڈاکٹروں نے پوری کوشش کی لیکن وہ جانبر نہ ہوسکی۔
