بیٹی بچاو بیٹی پڑھاؤ کے89% فندس مودی کی تشہیر پر خرچ کرنے کا الزام
نئی دہلی :21؍ڈسمبر
(زین نیوز؍ایجنسیز)
ال انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کےرکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے لوک سبھا میں لڑکیوں کی شادی کی عمر 18 سے بڑھا کر 21 سال کرنے کے بل کی سخت مخالفت کی۔ خواتین اور بچوں کی بہبود کی وزیر اسمرتی ایرانی نے یہ بل لوک سبھا میں پیش کیا، جس پر اپوزیشن کے کئی اراکین پارلیمنٹ نے اعتراض کیا۔ جس کے بعد بل کو غور کے لیے قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے۔
بل پر بات کرتے ہوئے اویسی نے کہا، ‘یہ بل واپس لینے کی تجاویز سے بھرا ہوا ہے۔ یہ آرٹیکل 19 کے تحت آزادی کے حق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ ایک 18 سال کی لڑکی وزیراعظم کا انتخاب کر سکتی ہے۔ اگر وہ لیو ان ریلیشن شپ میں رہ سکتی ہے تو شادی کیوں نہیں کرسکتی ۔ اس کی شادی کا حق کیوں چھینا جا رہا ہے۔اسد الدین اویسی نے اسے تباہ کرنے والا بل قرار دیا
اسد الدین اویسی نے کہا کہ آپ نے 18 سال کی لڑکیوں کے لیے کیا کیا؟ خواتین کی لیبر فورس میں خواتین کی شرکت ہمارے ملک میں صومالیہ کے مقابلے میں کم ہے۔اور وزیر اعظم نریندر مودی نے بیٹی بچاو اور بیٹی پڑھاؤ کے89% فند اپنی ذاتی تشہیر پر صرف کردیا
Opposed introduction of Bill in Lok Sabha to increase minimum #MarriageAge from 18 to 21. If 18 year olds can vote, why can’t they marry? If 18 year olds can live-in with their unmarried partners, why can’t they marry? pic.twitter.com/y3gccxGw18
— Asaduddin Owaisi (@asadowaisi) December 21, 2021
اس سے قبل بل پیش کرتے ہوئے اسمرتی ایرانی نے کہا کہ 1940 تک لڑکیوں کی عمر 10 سال تھی جسے بڑھا کر 12 سال کر دیا گیا۔ اس کے بعد 1978 تک ملک میں 15 سال کی لڑکیوں کی شادیاں ہوتی رہیں۔ اب ہم وہ بل لا رہے ہیں، جو خواتین کو مساوی حقوق فراہم کرے گا۔ اسمرتی ایرانی نے کہا کہ ہمارے ملک میں 2015 سے 2020 تک 20 لاکھ کم عمری کی شادیوں کو روکا گیا ہے۔ اسمرتی ایرانی نے کہا کہ یہ گھریلو خواتین کی تذلیل اور پسماندگی نہیں دیکھی جا سکتی۔
اسمرتی ایرانی نے کہا کہ جن لوگوں نے کہا کہ یہ بل سیکولر نہیں ہے۔ انہیں سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ پڑھنا چاہیے، جس میں اس نے کہا تھا کہ یہ ایک سیکولر فعل ہے۔ یہی نہیں مسلم پرسنل لا بورڈ اور ہندو میرج ایکٹ کے تحت تمام خواتین کو شادی کے معاملے میں مساوی حقوق ملنے چاہئیں۔ اس کے ساتھ اسمرتی ایرانی نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ اس پر اسٹینڈنگ کمیٹی میں غور کیا جائے۔ دریں اثنا، این سی پی رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے کہا کہ ان دنوں حکومت بغیر بحث کے بل لانے کا کام کرتی ہے۔ یہ طریقہ قبول نہیں کیا جا سکتا
