علاج کے دوران ہسپتال میں موت
نئی دہلی : 14؍اگست
(زیڈ این ایم ایس)
ہندوستانی اپنی آزادی کی 75ویں جشن آزادی ڈائمنڈ جوبلی منا رہا ہے او رملک سے چھوت چھات اور بھید بھاؤ کا خاتمہ نہیں ہو پا یا ہے ‘ ملک کی گئی ریاستو ں میں بھید بھاؤ اور چھوت چھات کے واقعات کہیں نہ کہیں رونما ہوتے ہیں ایسے میں ایک افسوسناک خبر راجستھان کی ریاست کے جلور ضلع سے آرہی ہے جو پورے ملک میں موضوع بحث بنا ہوا ہے اور ہر طرف اسی کا چرچا ہو رہا ہے۔
دراصل ایک دلت بچے کے گھڑے سے پانی پینے کے بعد غصہ میں ٹیچر نے اسے اتنا مارا کہ اس کے کان کی رگیں پھٹ گئیں ۔ اس کے بعد بچے کو علاج کے لیے احمد آباد کے ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں اس کی موت ہوگئی۔ پولیس نے تشدد کرنے والے ٹیچر کو گرفتار کر لیا۔ یہاں راجستھان حکومت نے مرنے والے بچے کے خاندان کو 5 لاکھ روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔
#Horrific A very terrible incident happened In Jalore, Rajasthan. A Dalit student was brutally thrashed to death by a casteist Hindu teacher, the child’s fault was that he drank water from a pot kept in the school… pic.twitter.com/lraHXOsz5g
— The Dalit Voice (@ambedkariteIND) August 13, 2022
” جالور کے ایس پی ہرش وردھن اگروالا نے کہاکہ ملزم استاد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور قتل اور ایس سی/ایس ٹی (پریوینشن آف ایٹروسیٹیز) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ "ہم نے متعلقہ سیکشن کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے ، بشمول قتل (IPC) اور SC/ST (مظالم کی روک تھام) ایکٹ۔ لڑکے کا پوسٹ مارٹم کیا جائے گا اور پولیس ٹیم کو احمد آباد روانہ کر دیا گیا ہے۔ مزید تفتیش کی جا رہی ہے،
خبر کے مطابق راجستھان کے ایک اسکول میں پینے کے پانی کا برتن غائب ہونے پر ٹیچر نے بچے کی پٹائی کردی۔ معاملہ راجستھان کے جلور ضلع کے ایک پرائیویٹ اسکول کا ہے۔ ایک نو سالہ دلت لڑکے کو یہاں ایک ٹیچر نے پینے کے پانی کے برتن کو چھونے پر مبینہ طور پر مارا پیٹا، جس کے بعد ہفتہ کو اس کی موت ہوگئی۔ پولیس نے 40 سالہ استاد چل سنگھ کو گرفتار کیا ہے اور اس پر قتل اور درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
Rajasthan | A case of death of a student after being hit by a teacher in a private school in Surana, Jalore has been registered. The incident took place around 20 days back. The accused has been called for questioning, investigation underway: Himmat Charan, Circle Officer, Jalore pic.twitter.com/QPzoCnXPGl
— ANI MP/CG/Rajasthan (@ANI_MP_CG_RJ) August 14, 2022
بتایا جا رہا ہے کہ سورانا گاؤں کے ایک پرائیویٹ اسکول کی طالبہ اندرا میگھوال کو 20 جولائی کو پیٹا گیا تھا اور ہفتے کو احمد آباد کے ایک اسپتال میں اس کی موت ہوگئی تھی۔ ریاستی محکمہ تعلیم نے معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے۔ جالور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ہرش وردھن اگروال نے کہا کہ لڑکے کو بری طرح مارا پیٹا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بتایا گیا ہے کہ بچے کو پینے کے پانی کے برتن کو چھونے پر مارا پیٹا گیا۔ اس معاملے میں ابھی تفتیش ہونا باقی ہے۔
یہاں بچے کے والد نے بتایا کہ ان کے بیٹے کے چہرے اور کان پر چوٹیں آئی ہیں اور وہ تقریباً بے ہوش ہو گیاتھا۔ والد کے مطابق اسے ضلع ہسپتال لے جایا گیا، جہاں سے اسے ادے پور کے ہسپتال ریفر کردیا گیا۔
لڑکے کے والد دیورام میگھوال نے کہا کہ وہ (بچہ) تقریباً ایک ہفتہ تک ادے پور کے ہسپتال میں داخل تھا، لیکن جب کوئی بہتری نہیں آئی تو ہم اسے احمد آباد لے گئے۔ وہاں بھی ان کی حالت بہتر نہیں ہوئی اور ہفتہ کو موت واقع ہو گئی۔ ریاستی محکمہ تعلیم نے دو افسران کو معاملے کی جانچ کرنے اور اپنی رپورٹ بلاک ایجوکیشن آفیسر کو سونپنے کی ہدایت دی ہے۔
