خاتون ٹیچر پر بیہود تبصرہ۔ آئی لو یو میری جان

تازہ خبر جرائم حادثات قومی
چھیڑ چھاڑ کرنے پر 3 طالب علم گرفتار۔ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
میرٹھ:۔28؍نومبر
(زیڈ این ایم ایس)
ماں کی گود پہلی درسگاہ ہوتی ہے جہاں بچوں کی تربیت ہوتی ہے اسکے بعد اسکول ہی ایک ایسی جگہ ہے جہاں بچوں کو اخلاقیات کی تعلیم دی جاتی ہے  اور اخلاق سنوارے جاتے ہیں
پچھلے زمانے میں مدرسوں میں طلباء و طالبات کو باضابط اخلاقیات کی تعلیم دی جاتی تھی جو بند کردی گئی ہے اور جب سے اخلاقیات کی تعلیم بند ہوگئی تب سے بچوں میں اخلاقیات مرچکے ہیں
‘ بڑے چھوٹوں کا ادب و احترام ‘ تمیز سب ختم ہوچکے ہیں ۔اس طرح کے بیہودہ اور شرمناک حرکتیں کررہے ہیں کہ عقل دنگ رہ جارہی ہے اورانسانیت شرمسار ہو جارہی ہے۔
استاد اور استادنی ماں کا مرتبہ باپ ؍ماں برابر ہوتا ہے لیکن تین نابالغ طلباء نے اخلاق سے گری ہوئی گھٹیا حرکت کی جسے انکی تعلیم و تربیت کا پتہ چلا جاتا ہے
طالبہ کے ساتھ استاد کی شادی کی خبریں اکثر و بیشتر اخباروں اور چیانلوں کی زینت بنتی ہیں اور کئ ایسے واقعات آپ نے اسکول ‘ کالجوں میں طلباء کے درمیان محبت، افیئر جیسی بہت سی خبریں سنی اور پڑھی ہوں گی۔
 اس کے علاوہ آپ نے طالبات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے بارے میں تو سنا ہی ہوگا لیکن مغربی اتر پردیش کے میرٹھ میں ایک حیران کن معاملہ سامنے آیا ہے۔ دراصل یہاں 12ویں کلاس میں ٹیچر سے چھیڑ چھاڑ کرنے پر 3 طالب علموں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

یہ معاملہ میرٹھ ضلع کے کیتھور علاقہ سے متعلق ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ تین نابالغ طالب علموں کے خلاف مبینہ طور پر فحش تبصرے کرنے اور انٹرمیڈیٹ کالج میں ایک خاتون ٹیچر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی کوشش کرنے کا مقدمہ درج کر کے انہیں حراست میں لے لیا گیا ہے۔
طلباء نے اس کی ویڈیو بھی بنائی اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کی۔ ویڈیو میں طالب علموں کو استاد کو ‘جان’ کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے میم دیکھ لو اور ائی لو یو میری جان ‘میں تم سے پیار کرتا ہوں’ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔
ایک پولیس افسر کے مطابق، ایک 20 سالہ خاتون ٹیچر نے جمعہ کو شکایت درج کرائی جس میں الزام لگایا گیا کہ 12ویں جماعت کے تین طالب علم اسے گزشتہ چند ہفتوں سے ہراساں کر رہے ہیں۔ وہ اس کےکالج جانے اور گھر واپس آنے پر کئی بار فحش تبصرے کر رہے ہیں
پولیس افسر نے بتایا کہ خاتون ٹیچر نے بتایا کہ اس نے طالبات کے والدین سے شکایت کی لیکن انہوں نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ کیتھور کی سرکل آفیسر سچیتا سنگھ نے بتایا کہ خاتون ٹیچر کی شکایت پر تین طالب علموں کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 354
(اس کی شائستگی کو مجروح کرنے کے ارادے سے کسی خاتون پر حملہ یا مجرمانہ طاقت)، 500 (ہتک عزت) اور آئی ٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
 رجسٹر کیا گیا ہے. پولیس ذرائع نے بتایا کہ تینوں طلبہ کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔