نئی دہلی:31؍ڈسمبر
(اے این ایم ایس)
دہلی پولیس نے دو افراد کو مبینہ طور پررشتوں کی سائٹس کے ذریعہ مطلقہ خواتین کو نشانہ بنانے اور انہیں شادی اور ویزا فراہم کرنے کے بہانے دھوکہ دینے کے الزام میں گرفتار کیا ہے،۔
شادی کے رشتو ں کی سائٹ پر این آر آئی ہونے کی یقین دہانی کراکےمطلقہ خواتین کو شادی اور ویزا دلانے کے بہانے دھوکہ دینے والےایک شاطر مرکزی ملزم سمیت دو کو آئی جی آئی ایرپورٹ پولیس اسٹیشن پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔
ایک عہدیدار نے بتایاکہ، آئی جی آئی ایئرپورٹ پولیس اسٹیشن میں پسم وہار میں رہنے والی ایک خاتون کی جانب سے شکایت درج کرائی تھی
مرکزی ملزم نے تین شادیاں کیں اور اس کے خلاف تین مقدمات درج ہیں۔ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا کہ وہ اب تک پچاس سے زائد خواتین کو دھوکہ دے چکا ہے۔
ایئر پورٹ پولیس کے ڈپٹی کمشنر سنجے کمار تیاگی نے بتایا کہ ملزمان کی شناخت پورشوتم شرما عرف پنکج شرما ساکن کپورتھلا پنجاب اور روہنی سیکٹر 34 کے رہنے والے کلدیپ سنگھ کے طور پر کی گئی ہے۔ اس سال ستمبر میں، پچھم وہار کی رہنے والی ایک خاتون نے آئی جی آئی ایئرپورٹ پولیس اسٹیشن میں دھوکہ دہی کی شکایتدرج کرائیتھی۔ اس نے بتایا کہ وہ طلاق یافتہ ہے۔ اس نے 25 لاکھ روپے بطور الاؤنی وصول کیے تھے۔
وہ شادی کی سائٹ کے ذریعہ پنکج شرما کے رابطہ میں آئی تھی۔ بات چیت کے دوران اس نے اپنا تعارف ایک این آر آئی کے طور پر کرایا اور شادی کی پیشکش کی۔ اس نے بتایا کہ ان کا دفتر چندی گڑھ، امبالہ اور کرنال میں ہے۔
اس نے بہت سے لوگوں کو بیرون ملک بھیجا ہے۔ اس نے شکایت کنندہ سے کہا کہ وہ اس سے کینیڈا میں شادی کرئے گا۔ اس سے متاثر ہو کر خاتون نے کینیڈا کے ویزا کے لیے اپنا آئی ٹی آر، تصویر، بینک اسٹیٹمنٹ اور اصل پاسپورٹ بھی سونپادیا
پاسپورٹ لینے کے بعد ملزم کسی نہ کسی بہانے اس سے رقم کا مطالبہ کرنے لگا۔ اکتوبر 2020 میں، بینک کے ذریعہ اور ملاقات کے دوران، خاتون نے ملزم کو نقد رقم ادا کی۔ پولیس نے خاتون کی شکایت پر مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی۔ تحقیقات کے بعد پولیس نے پنکج شرما کو 21 دسمبر کو امرتسر پنجاب سے گرفتار کیا۔ اس کے کہنے پر پولیس نے کلدیپ کو 26 دسمبر کو روہنی سے گرفتار کیا۔
مطلقہ خاتون رشتوںکی سائٹ پررشتہ تلاش کرتی تھی۔
دوران تفتیش ملزم نے بتایا کہ وہ شادی کی جگہ پر مطلقہ یافتہ خاتون کو دھوکہ دہی کے لیے تلاش کرتا تھا۔ این آر آئی ہونے کا بہانہ بنا کر وہ شادی کے بہانے ان سے بات چیت شروع کرتا تھا۔ پھر ویزا لگوانے کے نام پر دھوکہ دیتے تھا۔ معاون کلدیپ کی مدد سے شکایت کنندہ کے لیے ویزا اسٹیکرز کا بندوبست کرتا تھا۔ کلدیپ نے بتایا کہ اس نے اپنے ایک ساتھی کے ذریعہ پاسپورٹ پر کینیڈا کا ویزا چسپاں کیا تھا۔
پہلے ملزم کینیڈا کے سفارت خانے سے ویزا حاصل کرنے کی یقین دہانی کرایا کرتا تھا لیکن بعد میں وہ انڈونیشیا کے سفارت خانے سے کوویڈ کی وجہ سے پابندیوں کی وجہ سے ویزا کی منظوری کے لیے کہتا تھا۔
ویزا میں تاخیر کے بارے میں پوچھے جانے پر وہ کووڈ کا بہانہ بناتاتھے۔ بعد ازاں ملزم اپنے ساتھی کے ساتھ مل کر رقم ہتھیانے کے لیے اس کے پاسپورٹ پر جعلی ویزا چسپاں کرتا تھا۔ اس دوران خواتین سے پیسے بٹورتا تھا۔
