70سالہ قدیم برگد کے پیڑ کو دوبارہ لگا دیا گیا

تازہ خبر تلنگانہ

رکن راجیہ سبھا اور گرین انڈیا چیلنج کے بانی سنتوش کمار کا تعاون
وزیر بلدی نظم و نسق مسٹر کے ٹی رامارا ؤ کی جانب سے پرکاش کی جد و جہد کی ستائش
حیدرآباد۔5 1 فروری
(زین نیوز )
ایک 70 سال قدیم برگد کا پیڑ جسے ایک ماہر ماحولیات نے بچایا تھا ، کلکٹریٹ کے احاطے میں دوبارہ لگا دیا گیا ہے ۔ ماہر ماحولیات بو بلا پرکاش نے اس قدیم برگد کے پیٹر کیلئے پانی اور دیگر حفاظتی اقدامات کی پیشکش کر کے اسے زندہ رکھنے کی بھر پور کوشش کی ۔

گزشتہ روز رکن راجیہ سبھا اور گرین انڈیا چیلنج کے بانی سنتوش کمار کے تعاون سے درخت کی پیوند کاری کی گئی۔واضح رہے کہ ریاست تلنگانہ کے راجنا سرسلہ ضلع کے کوناراو پیٹ منڈل میں کھیتوں میں واقع برگد کا ایک 70 سال قدیم درخت تین ماہ قبل ہونے والی شدید بارش کی وجہ سے اکھٹرگیا تھا۔اکھڑنے کے چند ہی دنوں میں پانی کی عدم فراہمی کی وجہ سے مرجھانا شروع ہو گیا تھا۔

اس گاؤں سے تعلق رکھنے والے ماہر ماحولیات پر کاش نے جب دیکھا کہ درخت مرجا رہا ہے تو انہوں نے درخت کی حفاظت کیلئے کوششیں شروع کر دیں۔ انہوں نے کسان بو بلا داس، جو ایک زرعی کنویں کے مالک ہیں کو درخت کو پانی فراہم کرنے کیلئے رضامند کرلیا ۔

راجنا سرسلہ ڈسٹرکٹ پبلک ریلیشن آفیسر کے دفتر میں کلچرل کونسل ڈپارٹمنٹ سرسلہ میں بطور آرٹسٹ کام کرنے والے پرکاش نے گزشتہ دو ماہ کے دوران با قاعدگی سے برگد کے اس پیر کو پانی فراہم کیا جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ ا ُکھڑا ہوا درخت پھلنےپھولنے لگا۔

مقامی رکن اسمبلی اور وزیر بلدی نظم و نسق مسٹر کے ٹی رامارا ؤ رکن پارلیمنٹ سنتوش کمار اور دیگر نے پرکاش کی جد و جہد کی ستائش کی ۔ابتدا میں مقامی سرکاری اسکول میں درخت کی پیوند کاری کا منصوبہ بنایا گیا تھا لیکن فنڈز کی کمی کے باعث یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا کیونکہ اتنے بڑے درخت کی پیوند کاری کرنا مہنگا ترین اقدام تھا جسکے بعد رکن پارلیمنٹ سنتوش کمار نے درخت کی پیوند کاری کیلئے اپنا دست تعاون دراز کیا۔

گزشتہ روز درخت کی چھوٹی شاخیں کاٹ کر کلکٹریٹ منتقل کر دیا گیا۔ درخت کو اٹھانے کیلئے دو بڑی کر مینوں کی خدمات حاصل کی گئی تھیں اور اسے 14 کلومیٹر دور واقع کلکٹریٹ لیجانے کے لیے 40 فٹ طویل ٹرالی کی خدمات بھی حاصل کی گئیں۔

پرکاش نے کہا کہ انہوں نے 8 فروری کو درخت کی پیوند کاری کا منصوبہ بنایا تھا لیکن یہ نا کام ثابت ہوا کیونکہ درخت کو منتقل کرنے کیلئے حاصل کی گئی کر مین اسے اٹھانے میں ناکام رہی۔ ۔
انہوں نے رکن پارلیمنٹ سنتوش کمار کا شکریہ ادا کیا کہ وہ اس قدیم درخت کی بچانے کیلئے آگے آۓ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام انتظامات کرنے کے علاوہ، مسٹرسنتوش کمار نے شہر میں قائم ایک تنظیم ، وانا فانڈیشن کے نمائندوں کو درخت کو نقل کرنے کیلئے رضامند کیا۔