حکومت علیحدہ ریاست تلنگانہ کے قیام کے ثمرات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانےہمہ تن مصروف

بین الریاستی تازہ خبر

ریاست تلنگانہ نے آج نظم و نسق کے محاذ پر ایک اور سنگ میل عبور کرتے ہوئے تاریخ رقم 
سنہرے تلنگانہ کی تعمیر میں سرکاری ملازمین کا کلیدی رول
حیدرآباد:20؍جون
(زین نیوز)
وزیراعلی کے چندرشیکھرراؤ کی قیادت میں ریاست تلنگانہ نے آج نظم و نسق کے محاذ پر ایک اور سنگ میل عبور کرتے ہوئے تاریخ رقم کی۔ سیلف رول اُصول کے تحت آج اضلاع سدی پیٹ اور کاماریڈی میں گڈ گورننس کی سمت میں ایک اور قدم بڑھایا گیا۔حکومت تلنگانہ نے علیحدہ ریاست تلنگانہ کے قیام کے ثمرات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے مقصد کے ساتھ سابقہ اضلاع کی تنظیم نو کرتے ہوئے 33 نئے اضلاع کی تشکیل عمل میں لائی تھی۔

نیز حکومت نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز میں انٹگریٹیڈ کلکٹریٹ کمپلیکس اور اعلی پولیس عہدیداروں کے لئے خصوصی عمارتوں کا قیام عمل میں لایا جس کی ملک کی کسی اور ریاست میں نظیر نہیں ملتی۔سنہرے تلنگانہ (بنگارو تلنگانہ) کی تعمیر میں کلیدی رول ادا کرنے والے سرکاری ملازمین کی شراکت داری کو مزید بڑھانے کے لئے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز میں خوبصورت، پرامن اور آرام دہ ماحول میں کلکٹریٹ کمپلیکس تعمیر کیے گئے ہیں۔

اسی طرح اسمبلی حلقہ جات میں عوامی نمائندوں کو عوام کے لئے قابل رسائی بنانے کی غرض سے مقامی سطح پر ایم ایل اے کیمپ آفیسیس کا بھی قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔وزیراعلیٰ نے آج بروز اتوار یہاں سدی پیٹ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر میں انٹگریٹیڈ ڈسٹرکٹ آفیسیس کمپلیکس، ڈسٹرکٹ پولیس کمشنریٹ کمپلیکس اور ایم ایل اے کیمپ آفس کا افتتاح انجام دیا۔ اس کے ساتھ ہی ریاست تلنگانہ ملک بھر میں انتظامی اصلاحات کے محاز پر ایک مثالی ریاست بن چکی ہے۔

وزیراعلیٰ کے سدی پیٹ دورہ کی جھلکیاں:-

وزیراعلی کے سی آر حیدرآباد سے بذریعہ ہیلی کاپٹر دوپہر 12 بجے سدی پیٹ پہنچے۔- وزیراعلی نے ریاستی وزیر شری ٹی ہریش راؤ، ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی اور دیگر عوامی نمائندوں کے ہمراہ ایم ایل اے کیمپ آفس کا افتتاح کیا۔- وزیراعلی نے پوری دلچسپی کے ساتھ مقامی لوگوں اور دیگر ممتاز شخصیات سے بات چیت کی اور انہیں انکے ناموں سے مخاطب کرتے ہوئے ان کی خیریت دریافت کی۔

وزیراعلیٰ نے ان کے ساتھ ایک گروپ فوٹو بھی کھنچوائی۔- جس طرح سے مقامی لوگوں نے جئے کے سی آر اور جئے تلنگانہ کے نعرے لگائے اس سے وزیراعلی کے تئیں انکی محبت اور لگاؤ کا اظہار ہوتا ہے۔- وہاں سے وزیراعلیٰ پولیس کمشنریٹ کا افتتاح کرنے کے لئے کونڈاپاکا منڈل میں رام پلّی کے مضافات میں کمشنریٹ کمپلیکس پہنچے۔ وہاں تلنگانہ اسپیشل پولیس بینڈ نے ان کا خیرمقدم کیا۔-

روایتی پولیس گارڈ آف آنر لینے کے بعد وزیراعلیٰ نے کمشنریٹ کا افتتاح کیا اور کمپلیکس میں گھوم کر عمارت کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ نے تعمیراتی معیار پر اطمینان کا اظہار کیا۔- بعدازاں وزیراعلی جب کلکٹریٹ کمپلیکس کے افتتاح کے لئے سدی پیٹ ضلع کے کونڈاپاکا منڈل میں دوڈیڈہ کے مضافات میں پہنچے تو وہاں روایتی ویدک بھجن کے ساتھ انکا خیرمقدم کیا گیا۔- وہاں وزیراعلیٰ نے کلکٹریٹ کا افتتاح کیا اور کلکٹر کے چیمبر کو کھولا اور ضلع کلکٹر سدی پیٹ شری وینکٹ رام ریڈی کے حق میں نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔-

وزیراعلیٰ نے خوبصورتی اور تعمیراتی معیار کو برقرار رکھتے ہوئے کمپلیکس کی تعمیر پر آرکیٹیکٹ اینڈ ٹیم کو مبارکباد پیش کی۔ آرکیٹیکٹ شریمتی اوشا ریڈی کے کام سے متاثر ہوکر وزیراعلی نے کہا کہ "آپ تلنگانہ کی بیٹی ہیں اور مجھے آپ پر فخر ہے!”۔ – اس موقع پر وزیراعلی نے ان تعمیرات کے انچارج افسران شری گنپتی ریڈی، سدالہ سدھاکر تیجا، شاپورجی پالونجی کے نمائندوں، آر اینڈ بی وزیر شری ویمولا پرشانت ریڈی، چیف سکریٹری شری سومیش کمار اور کلکٹر شری وینکٹ رام ریڈی کو شال اور میمنٹو کے ذریعے تہنیت پیش کی۔ –

بعد ازاں وزیراعلیٰ نے کلکٹرس کانفرنس ہال میں ان سے خطاب کیا۔ – اس موقع پر وزیراعلیٰ نے حکومت کی جانب سے متعارف کردہ انتظامی اصلاحات، حکومت کی جانب سے متعدد فلاحی اسکیمات پر عمل آوری و نیز ان اسکیمات سے لوگوں کو حاصل ہورہے فائدوں سے متعلق وضاحت پیش کی۔ انہوں نے نام لیتے ہوئے ہر ایک اسکیم کے دائرہ کار اور نتائج کا تذکرہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے دھرانی کے بشمول زراعت، آبپاشی، پینے کے پانی، تعلیم اور ریونیو شعبوں میں متعارف کردہ اسکیموں کا ذکر کرتے ہوئے ان سے لوگوں کو حاصل ہورہے فائدوں پر روشنی ڈالی۔

وزیراعلیٰ نے یکے بعد دیگرے اسکیموں کا نام لیتے ہوئے حاضرین سے پوچھا کہ آیا وہ مذکورہ اسکیم چاہتے ہیں یا نہیں؟ جس پر لوگوں نے متفقہ طور پر کہا کہ ان اسکیموں کو جاری رکھنا چاہئے کیونکہ وہ ان کے حق میں بہت فائدہ مند ثابت ہورہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ وہ لوگوں کے حق میں طویل مدتی فائدوں کی غرض سے بہت سی اسکیمیں لاتے رہے ہیں اور یہ کہ ریاست میں اگر نئی ​​حکومت بھی آجاتی ہے تب بھی ان اسکیموں کو کبھی بدلا نہیں جاسکتا۔

وزیراعلیٰ نے اپنے تفصیلی خطاب میں لطیفوں اور متعدد قصوں کو بیان کیا جس سے لوگوں نے خوب لطف اٹھایا۔اس موقع پر وزیراعلیٰ نے مشن کاکتیہ، مشن بھگیرتھا، کالیشورم پراجکٹ، رعیتو بندھو، رعیتو بیما، کلیان لکشمی، شادی مبارک، کے سی آر کٹس اور دیگر اسکیموں کے بارے میں تفصیلی وضاحت پیش کرتے ہوئے ان کی غرض و غایت پر روشنی ڈالی۔ وزیراعلیٰ نے اپنے آپ کی سدی پیٹ کے حقیقی بیٹے کے طور پر شناخت کراتے ہوئے متحدہ ریاست آندھراپردیش میں ایک رکن اسمبلی کی حیثیت سے پینے کا پانی اور آبپاشی کی ضروریات کی تکمیل کے لئے پانی کی سربراہی کو ممکن بنانے کے لئے انہیں پیش آئی دشواریوں کا تذکرہ کیا۔ اپنی دو گھنٹے طویل تقریر میں وزیراعلی کئی ایک موقعوں پر ماضی کو یاد کرتے ہوئے بہت جذباتی ہو گئے۔ وزیراعلیٰ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بنگارو تلنگانہ کے حصول تک ان کا سفر جاری رہے گا۔

اس موقع پر وزراء ٹی ہریش راؤ، محمود علی، ویمولا پرشانت ریڈی، رکن پارلیمنٹ کے پربھاکر ریڈی، سی ایس سومیش کمار، ڈی جی پی مہندر ریڈی، ارکان اسمبلی وی ستیش، رسامائی بال کشن، رگھو نندن راؤ، ایم ایل سی فرید الدین ، رگوتھم ریڈی، سدی پیٹ کلکٹر وینکٹ رام ریڈی، پولیس کمشنر جوئل ڈیوس، اسٹیٹ فاریسٹ کارپوریشن کے چیئرمین وی پرتاپ ریڈی، اسٹیٹ سیول سپلائز کارپوریشن کے چیئرمین ایم سرینواس ریڈی ، ایس سی – ایس ٹی کمیشن کے چیئرمین ای سرینواس ، تلنگانہ ساہتیہ اکیڈمی کے چیئرمین نندنی سدھاریڈی ، سی ایم – او ایس ڈی دیساپتھی سرینواس، آئی ڈی سی کے چیئرمین ای شنکر ریڈی، اسٹیٹ فینانس کارپوریشن کے ڈائریکٹر جی راجیشم گوڈ، پولیس ہاؤسنگ کارپوریشن کے چیئرمین دامودھر گپتا، ہوم سکریٹری روی گپتا، ٹوریزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے چیئرمین یو سرینواس گپتا، ضلعی عہدیداران، مقامی عوامی نمائندے اور ٹی آر ایس قائدین موجود تھے۔ وزیراعلی بعد ازاں کاماریڈی کے لئے روانہ ہوگئے۔