شیڈ میں رہنے والی کرناٹک کی 90 سالہ خاتون کو ایک لاکھ روپے کا برقی کا بل
بنگلورو:۔23؍جون
(زین نیوز ڈیسک)
کرناٹک کے کوپل شہر کے بھاگیہ نگر میں ایک چھوٹے سے شیڈ میں رہنے والی 90 سالہ معمر خاتون گریجما کو اس وقت اپنی زندگی کا جھٹکا لگا جب اسے ایک لاکھ روپے کا برقی کا بل آیا۔ معمر خاتون ہر ماہ 70 سے 80 روپے برقی کے ٹیرف کے طور پر ادا کرتی تھی۔
اپنی روزی روٹی کمانے کے لیے جدوجہد کر رہی گریجمما آنسو بہا رہی تھی اور اس نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ اسے اس صورتحال سے نجات دلائیں۔ جمعرات کو میڈیا نے برقی کے وزیر کے جے جارج سے سوال اٹھانے کے بعد، انہوں نے کہاکہ "انہیں بل ملا ہے
جس میں میٹر میں خرابی کی وجہ سے غلط رقم کا ذکر کیا گیا ہے۔ انہیں بل ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔”وزیر کے بیان کے بعد گلبرگہ الیکٹرسٹی سپلائی کمپنی (Gescom) کا عملہ ان کے شیڈ پر پہنچ گیا
ایگزیکٹیو انجینئر راجیش نے بجلی کے میٹر کا معائنہ کیا اور کہا کہ یہ تکنیکی خرابی تھی۔ مہنگا بل عملے اور بل جمع کرنے والے کی غلطی کی وجہ سے پیدا ہوا۔ اس نے خاتون کو بتایا کہ اسے بل ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ راحت پانے والی بوڑھی خاتون نے دونوں ہاتھ جوڑ کر افسر اور میڈیا کا شکریہ ادا کیا۔
اس واقعے کے نتیجے میں عوام میں غم و غصہ پیدا ہوا کیونکہ ریاست بھر کے لوگ ٹیرف کی بڑھتی ہوئی شرحوں اور مہنگے بلوں سے ناخوش ہیں۔
کانگریس حکومت جس نے گریہ لکشمی اسکیم کے تحت تمام گھرانوں کو 200 یونٹ مفت برقی دینے کا وعدہ کیا تھا، تلخ جذبات کو دبانے کی تمام کوششیں کر رہی ہے۔ برقی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف صنعتی اداروں نے بھی بند کی کال دی ہے۔