جنگلات میں لگ بھگ 60 مقامات پر آگ لگنے کے واقعات۔ 6 افراد جاں بحق
ترک صدر رجب طیب اردوان نے ملک میں آگ لگنے کے واقعات میں ممکنہ سازش پر برہمی کا اظہار کیا۔خبر ایجنسی کے مطابق رجب طیب اردوان نے متاثرہ علاقوں کے دورے کیے، اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ اشارے ملے ہیں کہ آگ لگنے کے واقعات کے پیچھے کوئی سازش ہے۔
ترکی کے جنوبی علاقوں کے جنگلات میں لگنے والی آگ سے متعلق حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ بیک وقت کئی مقامات پر لگنے والی آگ میں آتش گیر مادہ استعمال ہونے کا خدشہ ہے جس کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔
ترک صدر نے کہا کہ اگر یہ ثابت ہوا کہ آگ جان بوجھ کر لگائی گئی ہے تو سازشی عناصر کا سینہ چیر دیں گے، چاہے اس کی کچھ بھی قیمت دینا پڑے۔
واضح رہے کہ ترکی کے جنوبی علاقوں میں آتشزدگی کے باعث اب تک دو فائر فائٹرز سمیت 6 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

دو دن قبل ترکی میں بحیرہٴ روم کے ساتھ ساحلی علاقوں اور جنوبی خطے ایجیئن میں بدھ کو لگنے والی آگ سے اب تک چار افراد ہلاک جب کہ 122 زخمی ہوئے ہی
؎ جنگلات میں لگی آگ کی شدت میں کمی نہیں آئی ہے۔ فائر بریگیڈز کے ہزاروں کارکن اس آگ کی شدت کو کم کرنے یا بجھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
سوشل میڈیا پر ایک بیان میں ان کا مزید کہنا تھا کہ جنگلات میں اس آتش زدگی اور ماحولیات کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
حکام کے مطابق جنگلات میں لگ بھگ 60 مقامات پر آگ لگنے کے واقعات پیش آئے۔ جن میں سے بیشتر پر قابو پا لیا گیا تھا۔
حکام کا کہنا تھا کہ آگ بجھانے کے لیے تین ہوائی جہاز اور 38 ہیلی کاپٹرز استعمال کیے گئے۔ جب کہ چار ہزار کے قریب اہلکاروں کو آتش زدگی پر قابو پانے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔
ترکی کے آتش زدگی سے متاثر ہونے والے علاقوں میں گرمیوں میں آگ لگنے کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔ البتہ ماضی میں بعض اوقات
حکام ان آگ لگنے کے واقعات میں کرد عسکریت پسندوں کے ملوث ہونے کا بھی الزام عائد کرتے رہے ہیں۔
Dozens of wildfires in Turkey have already claimed several lives and left more than 50 people in hospital according to officials, with villages and beach resorts being evacuated across the south of the country
Read more: https://t.co/T6kjiJfmJV pic.twitter.com/uzuU5Z4A7A
— Sky News (@SkyNews) July 31, 2021
آگ نے جہاں جنگلات کو جلا کر راکھ کر دیا ہے وہاں اس کی لپیٹ میں آئے گھروں کو بھی جلا کر خاکستر کر دیا ہے۔ آگ کے خطرے کو دیکھتے ہوئے کئی دیہات کے مکینوں نے مجبوری میں اپنے اپنے گھروں کو خالی کرنے میں عافیت سمجھی۔ دوسری جانب حکام نے آگ کی وجہ سے ساحلی پٹی پر واقع رہائشی علاقوں، گیسٹ ہاؤسز اور ہوٹلوں میں سے سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے
آگ بجھانے کی کوششیں جاری
جنوبی ترکی کے چھ صوبوں کے چودہ مقامات پر جنگلاتی آگ درختوں اور جھاڑیوں کو بھسم کر رہی ہے۔ یہ چھ صوبے بحیرہ روم اور بحیرہ ایجیئن کی ساحلی پٹی کے نزدیک ہیں۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے بتایا ہے کہ شدید گرمی اور تیز رفتار ہواؤں سے پھیلنے والی آگ کو کم از کم ستاون مقامات پر بجھا دیا گیا ہے
اس آگ کی وجہ سے جل کر راکھ ہو جانے والے ایک گاؤں کے پچاس افراد کو ہسپتالوں میں داخل بھی کیا گیا۔ اسی بڑے گاؤں کے قریب پچیس دوسری ملحقہ چھوٹی چھوٹی بستیوں کے لوگوں کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس دوران کئی ترک صوبوں نے لوگوں کی جنگلات میں سیر و سیاحت کے جانے پر پابندی عائد کر دی ہے
