امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کی وجہ سے فلسطینیوں کو مشکلات۔محمود عباس

تازہ خبر عالمی

رملہ :3؍جنوری
زین نیوزڈسک
فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ فلسطینیوں کے حوالے سے اصولی موقف اختیار کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی قضیہ فلسطین کے دیر پا اور منصفانہ حل کے لیے عالمی کوششوں کو متحد اور مجتمع کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطین فریڈم موومنٹ ‘فتح’ کے 56 ویں یوم تاسیس کے موقعے پر ایک نشری بیان میں کہا کہ ہم نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ مضبوط اورقابل اعتبار بنیادوں پر تعلقات استوار کرنے ، امن کے قیام اور سب کی سلامتی کے لیے کوششیں آگے بڑھانے کی توقع رکھتے ہیں۔خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری اقتدار نو منتخب صدر جوبائیڈن کے حوالے کریں گے ۔صدر عباس نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کی وجہ سے فلسطینیوںکو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ فلسطینی اتھارٹی کی امداد بند کردی گئی۔ فلسطینی مہاجرین کو ملنے والے فنڈز روک دیے گئے ۔ القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیا۔ سنچری ڈیل کے نام سے ایک نیا اور نام نہاد امن فارمولہ پیش کیا اور سنہ 1967ء کی جنگ میں قبضے میں آنے والے فلسطینی علاقوں پر اسرائیلیی ریاست کا ناجائز تسلط جمانے میں صہیونی حکومت کی مدد کی۔محمود عباس نے مزید کہا کہ ہم عرب ممالک، مسلمان ملکوں اور دوست ممالک کے ساتھ مل کر قضیہ فلسطین کے منصفانہ حل کے لیے عالمی کوششوں کو مجتمع کررہے ہیں تاکہ مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل کی راہ ہموار کی جاسکے ۔صدرعباس نے ایک بار پھر بین الاقوامی قرار دادوں اور عرب ممالک کے پیش کردہ امن روڈ میپ کے مطابق قضیہ فلسطین کے حل کی ضرورت پر زور دیا۔