ہیلی کاپٹر بنانے والے شیخ اسماعیل کی ٹرائل کے دوران موت۔ویڈیو ضرور دیکھیں

تازہ خبر قومی

مہاراشٹرا کے ایوت محل میں افسوسناک واقعہ
ایوت محل:12؍اگسٹ
(زین نیوز؍ایجنسیز)
ریاست مہاراشٹر کے ضلع ایوت محل میں مہا گاؤں تعلقہ کے پھُلساونگی میں المناک واقعہ پیش آیا ہےایوت محل کے 24 سالہ شیخ اسماعیل کی گذشتہ روز ہیلی کاپٹر ٹرائل کے دوران موت ہوگئی

اسماعیل گذشتہ دو برسوں سے ہیلی کاپٹر بنانے کی کوشش کر رہا تھا اور تقریباً اس میں اسے کامیابی بھی مل گئی تھی اور اس کا ہیلی کاپٹر تیار تھا تاہم اس کے پہلے ہی ٹرائل کے دوران تکنیکی خرابی کی وجہ سے ہیلی کاپٹر کریش ہوگیا اور اس میں بیٹھے اسماعیل کی موت ہوگئی۔

ہیلی کاپٹر کے ٹرائل کو دیکھنے کے لیے اسماعیل کے دوستوں اور وہاں جمع ہونے والوں میں سے کچھ نے ایک ویڈیو بنائی تھی ۔ ویڈیو اب سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔

شیخ ابراہیم کے فرزند شیخ اسماعیل نے جو آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی تھی اس نے سکول جانا چھوڑ دیا تھا اور میکینک کا کام کرتا تھا۔ وہ مختلف آلات جیسے الماری اور کولر وغیرہ ریپیئر کر کے گزارا کر رہا تھا۔میکینک کا کام کرتے ہوئے اسماعیل نے ہیلی کاپٹر بنانے کا خواب دیکھا تھا اور آہستہ آہستہ ہیلی کاپٹر کے پرزے بنا رہا تھا۔

دو سال کی محنت کے بعد اس نے ہیلی کاپٹر پر کام تقریباً مکمل کر لیا تھا۔اسماعیل کا جذبہ تھا کہ وہ اپنے گاؤں پھلساوانگی کے لیے بین الاقوامی شہرت حاصل کرنے کے لیے کچھ مختلف کرے۔

اسماعیل کے دوستوں نے بتایا کہ اسماعیل کے ذریعہ بنایا گیا ہیلی کاپٹروہ یوم آزادی پر لانچ کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔ اور اس لیے اس نے اپنی ورکشاپ کے قریب ہیلی کاپٹر کا فیصلہ کیا۔

وہ اکثر ہیلی کاپٹر کے کام کاج کی جانچ کرتا تھا۔ اس سے قبل وہ ہیلی کاپٹر کو زمین سے 5 فٹ اوپر اٹھانے میں کامیاب رہا تھا۔ یہ منگل کو اس کی آخری آزمائش تھی۔اسماعیل نے اپنی ہیلی کاپٹر کا نام ‘منّاہیلی کاپٹر’ رکھا تھا ، منّا اس کا لقب تھا۔

ٹرائل شروع ہونے کے بعد ہیلی کاپٹر کا انجن 750 ایمپیئر پر چل رہا تھا لیکن اچانک اس کا پچھلا پنکھا ٹوٹا اور اوپر والے پنکھے سے جا ٹکرایا جس کے سبب ہیلی کاپٹر زوردار جھٹکوں کے ساتھ ٹوٹ گیا اور انہی جھٹکوں کے سبب اسماعیل کے سر میں گہری چوٹ لگی جو اس کی موت کا سبب بنی۔
اسماعیل کے ایک اور دوست ہریش نے کہا وہ ہر بار ہیلمیٹ پہنتا تھا لیکن ٹرائل رن کے دوران اس نے ہیلمیٹ نہیں پہنتا تھا لیکن بد قسمتی سے ٹرائل رن کے دوران اس نے ہیلمیٹ نہیںپہنا تھا

مقامی لوگوں نے بتایا اسماعیل کا خواب تھا کہ ایک دن اپنے گاؤں کا نام عالمی سطح پر لائے گا لیکن اس کا خواب ادھورا رہا۔
وہ چاہتا تھا کہ ہیلی کاپٹر ذاتی استعمال یا حکومت کے لیے کم لاگت کا متبادل ہو اور سیلاب و دیگر آفات کے دوران امدادی کاموں کے لیے استعمال کیا جاسکے۔

کم عمر اور کم تعلیم کے باوجود ہیلی کاپٹر بنانے کی وجہ سے اسماعیل اپنے گاؤں میں ‘رینچو(عامر خان کی فلم تھری ایڈیٹس میں ان کے کردار کا نام جو مختلف مشینیں ایجاد کرتا ہے)’ کے نام سے مشہور ہوگیا تھا۔اسماعیل کی اپنے گاؤں میں ایک چھوٹی سی ورکشاپ تھی جہاں وہ پچھلے دو برسوں سے اپنے خواب پر کام کر رہا تھا۔

مقامی پولیس اسٹیشن کے پولیس انسپکٹر ولاس چوان نے بتایا کہ ‘وہ پچھلے دو برسوں سے ایک سیٹ والا ہیلی کاپٹر بنا رہا تھا جبکہ اس کا خواب صرف 30 لاکھ روپے میں چھ سیٹس والا ہیلی کاپٹر بنانا تھا۔ وہ 15 اگست کو ہیلی کاپٹر کا پبلک لانچ کرنا چاہتا تھا۔انہوں نے بتایا کہ وہ ہر بار ہیلمیٹ پہنتا تھا لیکن ٹرائل رن کے دوران اس نے ہیلمیٹ نہیں پہنا اور حادثے کے بعد جھٹکوں سے اس کے سر میں شدید چوٹ لگی جو اس کی موت کا سبب بنی۔