قانون سازی کے معاملہ میں پارلیمنٹ میں معیاری بحث کا فقدان

تازہ خبر قومی

ایوانو ں میں دانشور اورپیشہ ور وکلاء ضروری۔ سپریم کورٹ چیف جسٹس این وی رامنا
نئی دہلی :15؍اگسٹ
(زین نیوز؍ایجنسیز)
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس این وی رامنا نے یوم آزادی کے موقع پر پرچم کشائی کی تقریب کے بعد اپنے خطاب قانون سازی کے عمل کے دوران پارلیمنٹ میں بحث کی سطح پر سوال اٹھائے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ قانون بنانے کے دوران پارلیمنٹ میں معیاری بحث کا فقدان ہے۔ جس کی وجہ سے قانونی چارہ جوئی عروج پر ہے اور عدالتیں ، معیاری بحث کی عدم موجودگی میں نئے قانون کے پیچھے ارادے اور مقصد کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آپ ان دنوں ایوانوں میں ہونے والے مباحثوں کو دیکھیں تو وہ بہت ذہین اور تعمیری ہوا کرتے تھے ، نیز جو بھی قانون انہوں نے بنایا اس پر بحث کرتے تھے۔ لیکن اب ایسا نہیں تھا۔ اس کی وجہ سے ہم قوانین میں بہت سی خامیاں اور ابہام دیکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قوانین میں کوئی وضاحت نہیں ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ قوانین کس مقصد کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ اس سے حکومت کے لیے بہت سی قانونی چارہ جوئی ، تکلیف اور نقصان کے ساتھ ساتھ عوام کو تکلیف ہو رہی ہے۔ اگر ایوانوں میں دانشور اور وکیل جیسے پیشہ ور نہ ہوں تو یہی ہوتا ہے۔