لو سنبھالو اپنی دنیا ہم چلے
تعزیتی تحریر
ازقلم : عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء نظام آباد تلنگانہ
9505057866
حقیقت زندگانی اور موت کی واقعیت سے سب ہی انسان واقف اور باخبر ہیں سب جانتے ہیں کہ اک دن مرنا ہے آخر موت ہے اچھوں کو بروں کو چھوٹوں کو بڑوں کو علماء کو جہلاء کو امیروں کو غریبوں کو سب کو وقت معین پر ایک دن یہ دنیا چھوڑ کر جانا ہے
لیکن
کچھ لوگ وہ ہوتے ہیں جو اس دارفانی سے رخصت تو ہوجاتے ہیں مگر ان کی یادیں ہزاروں سال اپنوں سے تو کبھی پرایوں سے وابستہ ہوجاتی ہیں رہ رہ کر ان کی یادیں دلوں پر چھاجاتی ہیں اور وہ مرکے بھی زندہ رہتے ہیں جو موت کی اس حقیقت جس کو شاعر نے اپنی زبان میں کہا
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیاہے انہیں اجزاء کا پریشاں ہونا
کے مصداق ہوتے ہیں جن کء گذرجانے سے زمانہ مدتوں افسوس کرتا ہے ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے ان کے بے مثال کارناموں کی بابت وہ زندہ رہتے ہیں
سچ ہیکہ یہاں مرنے کو تو ہرروز ہزاروں لوگ مرتے ہیں مگرکسی شاعر نے ایسے ہی پس مرگ زندہ لوگوں کے بارہ میں کہا ہے
موت اس کی ہے کرے جس کازمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سب ہی آے ہیں مرنے کےلےء
کچھ اسی طرح کی صاف شفاف بے مثال زندگی گذارنے والوں میں ریاست تلنگانہ کی مشہور ومعروف اور برگزیدہ ذات گرامی شہر حیدرآباد کی رہنے والی شخصیت
استاذ محترم حضرت مولانا مفتی عبدالمغنی مظاہری علیہ الرحمۃ کی تھی جو طویل علالت کے بعد آج رات 18/اگسٹ 2021 مطابق 8/محرم الحرام 1443 بروز چہارشنبہ رات تین بجے
بزبان حال یہ کہتے ہوے اپنے مالک حقیی سے جاملے
کون جینے کے لےء مرتا رہے
لوسمبھالو اپنی دنیا ہم چلے
آپ ایک علمی اور دینی گھرانہ سے تعلق رکھتے تھے آپ کے والدمحترم خود ایک انتہای پابند شریعت وسنت والی زندگی گذارکر گےء انہی تربیت ونگہداشت میں آپ نے پرورش پای اورتادم حیات اتباع سنت کے مزاج سے ہٹنے نہ پاے حضرت ہردوی مولاناشاہ محمد ابرارالحق حقی رح اور آپ کے مزاج سے پورے افراد خاندان کی گہری وابستگی تھی اور آج بھی ہے
حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمۃ ریاست کے ایک بڑے اور بزرگ عالم دین کی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے تھے تلنگانہ وآندھرا اور مہاراشٹرا ودیگر ریاستوں کے ہزاروں طلباء نے آپ سے اکتساب فیض کیا شہرحیدرآباد میں مدرسہ سبیل الفلاح کے نام سے ایک معتبر ومستند دینی ادارہ چلاتے تھے جہاں سینکڑوں کی تعدادمیں طلباء کرام کا رجوع تھا عوام وخواص میں اللہ پاک نے آپ کو کافی مقبولیت عطاء فرمای تھی فلاحی ورفاہی کاموں میں پیش پیش رہ کر اپنے ماتحتوں سے ہورے حسن وخوبی اور انتہای دلچسپی سے کام لیا کرتے تھے جس کےلےء سٹی جمعیۃ علماء گریٹرحیدرآباد کاپلیٹ فارم آپ کے پاس تھا اور بڑے بڑے علماء آپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو باعث فخر سمجھتے تھے جس کی صدارت تادم زیست آپ ہی کے سپرد تھی لیکن کبھی آپ نے اس عہدہ کا غلط یا بے جا یا اپنی ذاتی مفاد کے لےء استعمال نہیں کیا
قوم وملت کا حقیقی دردوکرب اپنے دل میں رکھتے اور ملت اسلامیہ کی بے دینی وبے راہ روی سے بے چین ہوجاتے مختلف محاذ سے قوم مسلم کی تعلیمی ومعاشی پسماندگیوں کو دور کرنے کے لےء کوشاں وسرگرداں رہتے
مجلس تحفظ ختم نبوت اور مجلس علمیہ کے اسٹیج کی آپ رونق ہوتے تھے ہر اجلاس اور پروگرام آپ ہی کی ایماء پربارہا اصلاحی مجالس اورتربیتی پروگرام ترتیب دیے جاتے اور پورے منظم طریقہ سے اس کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کی سعی کرتے تھے
اپنے شاگردوں سے والہانہ قلبی تعلق فرماتے ہر چھوٹے بڑے کو بات کرنا اس کی دینی ومعاشی اور تعلیمی کیفیت معلوم کرنا آپ کا ایک ایسا وصف تھا جو ہر کس وناکس کو اپناگرویدہ اوردلدادہ بنالیاکرتاتھا
راہ سلوک اور بیعت وارشاد کے ذریعہ ہزاروں لوگوں کی زندگیوں کو آپ نے صحیح رخ دیا
سیاسی اورسماجی افراد سے بھی آپ کا قابل ذکر تعلق اور وابستگی تھی جو ملت اسلامیہ کے لےء کےء جانے والوں سینکڑوں کاموں میں آپ کے لےء راہیں ہموار کرتا تھا
یقینا آپ کے رخصت ہوجانے سے تمام تر دینی ملی اور سیاسی حلقوں میں ایک قسم کا خلاء ہوگیا آپ کے ناصحانہ ومخلصانہ مشوروں سے ہم سب محروم ہوگےء
مدارس مکاتب تنظیمیں اور جماعتیں مساجد وخانقاہیں سب ایسا لگتا ہیکہ اب ویران ہوتی جارہی ہیں اور اللہ ہی ان سب کا محافظ ونگہبان ہے
آپ علیہ الرحمۃ کے اخلاق وکردار آپ کی پاکیزہ زندگی اور ملنساری ایک دوسرے سے تعلق خاطر اور متواضعانہ اوصاف تو یادرکھنے کے قابل تھے
شہر واہلیان شہر نظام آباد سے بھی آپ کا والہانہ تعلق تھا بارہا دینی وملی مصالح کی خاطر آپ نے یہاں کا سفر کیا اور عوام وخواص سب کو استفادہ کا موقع بھی دیا
اب ایسا لگتا ہیکہ یہ خلاء تو پر نہیں ہوگا پر ایسابھی کہاں سے لائیں کہ تجھ ساکہیں جسے
اللہ پاک آپ کو غریق رحمت فرماے آپ کی ہمہ جہات خدمات کو شرف قبولیت عطاء فرماے جملہ پسماندگان اہل خانہ اور تعلق داروں کو صبر جمیل عطاء فرماے
ہم اس موقع پر تمام ہی مسلمانوں بطور خاص گھر والوں اور اعزاء واقرباء سے اظہارتعزیت کرتے ہیں اور دعاے مغفرت کی درخواست کرتے ہیں اہل مدارس اور شاگردوں سے بھی خواہش کرتے ہیں کہ ایصال ثواب کی ترتیب بنائیں اور اپنے مدارس ومساجد میں اعلان کرکے دعاے مغفرت فرماتے رہیں