موہن بھاگوت کو حقیقی تاریخ پڑھنی چاہئے۔مولانا مہدی حسن عینی
دیوبند،8؍ ستمبر
(رضوان سلمانی)
آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے گزشتہ دنوں پونے کے ایک سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں اسلام حملہ آوروں کے ذریعے آیا، ’’یہ ایک تاریخی حقیقت ہے اور اسے اسی انداز میں بیان کرنے کی بھی ضرورت ہے،ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ مسلم سماج کے سمجھدار رہنماؤں کو انتہا پسندی کی مخالفت کرنی چاہیے۔
’’بھاگوت کے اس بیان پر دیوبند الومنائی فیڈریشن کے قومی صدر مولانا مہدی حسن عینی نے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موہن بھاگوت کو انگریزوں کی گھڑی ہوئی تاریخ کے بجائے حقیقی تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ اسلام حملہ آوروں کے ذریعہ بھارت نہیں پہنچا، ’’بھارت میں اسلام صوفیائے کرام نے پھیلایا اور مسلم حکمرانوں کی آمد سے بہت پہلے ہی اسلام اس خطے میں پہنچ چکا تھا۔
مسلم حکمرانوں نے کبھی بھی اسلام کی تبلیغ و اشاعت کی کوشش نہیں کی۔‘‘ انہوں نے اس کی ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ تاریخی اعتبار سے بھارت کی سب سے پہلی مسجد جنوبی ریاست کیرالا میں ہے، جہاں مسلم حکمرانوں نے کوئی حملہ نہیں کیا۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان میں اسلام عرب تاجروں اور صوفیائے کرام کے ذریعے اللہ کے رسول کے زمانے میں ہی پہنچ گیا تھا،ساحلی علاقوں میں اس کے آثار بھی ہیں،صحابی رسول مالک بن دینار ؓ کی قبر بھی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت میں آئے دن ہندوتوا کے نام پر انتہا پسند گروپ مسلمانوں کو کھلے عام تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ماب لنچنگ اور اسلاموفوبیا کے درجنوں معاملات سامنے آرہے ہیں،ان سب پر مسلمان تو خاموش ہیں اور وہ ایک غیر مثالی صبر و ضبط کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔لیکن ہندوتوا کے نام پر انتہا پسندوں کی دہشت گردی تو سب پر عیاں ہو چکی ہے، تاہم انہیں کھلی چھوٹ حاصل ہے۔ اس لیے موہن بھاگوت پہلے اپنی ہندو تنظیموں کو انتہاپسندی سے باز آنے کی نصیحت کریں۔
’’مولانا قاسمی نے کہا کہ موہن بھاگوت یہ بھی کہتے ہیں کہ ہندو اور مسلمان ایک ہی نسب سے ہیں، اور اس نوعیت سے ہر بھارتی شہری ’ہندو‘ ہے۔یہ بھی ایک جھوٹا پروپیگنڈہ ہے،اور مسلمانوں کو ہندو ثابت کرنے کے لئے ایک منصوبے کے تحت یہ سب کیا جا رہا ہے،انہوں نے موہن بھاگوت سے اپیل کی کہ گزشتہ دنوں سے ہندو مسلم اتحاد کے لئے وہ مختلف پروگرام کررہے ہیں لیکن ان کوششوں کو انہیں کے لوگ زمین پر ناکام بنارہے ہیں،
اس لئے موہن بھاگوت کو چاہیے کہ وہ اگر واقعتاً ہندو مسلم اتحاد چاہتے ہیں تو نفرت کی سیاست اور شدت پسندی پر قدغن لگائیں اور ان کی حمایت یافتہ بی جے پی حکومت کے رہنماؤں و کارکنان کو سمجھائیں کہ نفرت انگیز بیانات سے ملک کے امن و امان کو آگ لگانا بند کریں۔
