غیرقانونی طریقے پر سڑکوں پر چل رہی ٹریکٹر ٹرالی عوام کے لئے جان لیو ا ثابت ہورہی ہیں

تازہ خبر قومی

دیوبند،9 2؍ اکتوبر
(رضوان سلمانی)
غیرقانونی طریقے پر سڑکوں پر چل رہی ٹریکٹر ٹرالی عوام کے لئے جان لیو ا ثابت ہورہی ہیں۔ آج ایک مرتبہ پھر ٹریکٹر ٹرالی کی زد میں آنے کی وجہ سے ایک شخص کی موت واقع ہوگئی ۔ ضلع سہارنپور میں ہی ٹریکٹر ٹرالی کی زد میں آکر ابھی تک مرنے والوں کی تعداد 100سے اوپر پہنچ چکی ہے لیکن محکمہ روڈویز سہارنپور ان غیرقانونی طریقے سے بغیر ٹیکس دیئے حکومت کو چونا لگانے والی گاڑیوں پر کوئی قدغن نہیں لگاپائی ہے۔

پولیس انتظامیہ سے بے خوف ہی گاڑیاں غیرقانونی طریقے سے سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں ، اتنا ہی نہیں اب گنے کا سیزن چلنے والا ہے ، شوگر فیکٹریوں کا گنا سینٹروں پر بھی ان غیرقانونی ٹریکٹر ٹرالی ضابطوں کے الٹ بنائے گئے لمبے لمبے گنا ڈھونے والے ٹرولیوں کے ذریعہ سے سڑکوں پر ایک نئی آفت آنے والی ہے ، جب کہ ہائی کورٹ نے ان ٹرولوں پر پابندی عائد کی ہوئی ہے ۔

گنا ڈھونے کے لئے صرف چھوٹی ٹرالیوں کے ذریعہ ہی گنا ڈھلائی کی پرمیشن دی ہوئی ہے ، صرف کسان اپنے کھیت سے ٹریکٹر ٹرالی کے ذریعہ سے شوگر فیکٹری میں لے جاسکتا ہے۔ کسان کی آڑ میں ٹرانسپورٹ مافیا بڑے بڑے پہیوں کے بڑے ٹرولوں کے ذریعہ سے گنے کی ڈھلائی کرتے ہیں اور حکومت کو جھانسہ دیتے ہوئے سڑکوں پر دوڑتے ہیں ، ان ٹریکٹروں ، ٹرولوں کی زد میں آکر بہت سے افراد اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں ، اس کے علاوہ بجلی کے سرکاری کھمبوں کی لائنوں کو مذکورہ ٹریکٹر ٹرالی توڑدیتے ہیں ۔

کئی بار گائوں میں ان کے نکلنے کو لے کر تنازعہ بھی پیدا ہوجاتا ہے لیکن اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود سہارنپور کے محکمہ روڈ ویز کے افسران آنکھیں بند کئے ہوئے بیٹھے ہیں اور غیرقانونی طریقے سے کمائی کا ذریعہ بنے ٹریکٹر ٹرالی کو نہیں روکا جارہا ہے ۔ اس سے جہاں ایک طرف ٹرانسپورٹروں کو ریونیو چکانے کے باوجود بھی زبردست نقصان اٹھانا پڑرہا ہے وہیں حکومت کو بھی زبردست مالی نقصان ہورہاہے۔

یہ ٹریکٹر ٹرالی حکومت کو ایک روپیہ بھی ادا نہیں کررہی ہیں، گزشتہ دنوں دیوبند گنا فیکٹری میں ایک ٹرانسپورٹر اپنا دبدبہ قائم کرنے کو لے کر قتل بھی ہوچکا ہے لیکن اس کے باوجود بھی ان پر کوئی قدغن نہیں لگایا جاسکا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہوگا کہ ایمانداری کا ڈھول پیٹنے والی یوگی حکومت میں ایماندار محکمہ کے وزیر اشوک کٹاریہ کی یہ بات کہاں تک سچ ثابت ہوتی ہے اور آنے والے گنا سیزن میں شوگر فیکٹریوں میں گنے کی ڈھلائی کرنے والے ان غیرقانونی ٹریکٹر ٹرالیوں پر قدغن لگاپاتی ہے یا نہیں۔