سماج کی تعمیر و ترقی میں خواتین کا کردار اہم : مفتی محمد علی نعیم رازی
لکھنؤ
(پریس ریلیز)
کسی بھی سماج کی ترقی و خوشحالی میں خواتین کا کردار اہم ہوتا ہے ، خواتین جس تہذیب و تمدن کو معاشرے میں فروغ دیتی ہے وہی اس سماج کا حصہ بنتا ہے لہذا سماجی سطح پر ہماری خواتین کو آگے بڑھ کر اپنی خدمات پیش کرنی چاہئے
درج بالا خیالات کا اظہار معروف عالم دین اور لکھنؤ اسلامک اکیڈمی کے ڈائریکٹر مولانا مفتی محمد علی نعیم رازی نے کیا
مولانا علی نعیم رازی لکھنؤ اسلامک اکیڈمی کی جانب سے معروف سیاسی و سماجی رہنما سمیا رانا کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھے
تقریب میں سیما رانا کو انکی سماجی و سیاسی خدمات کے اعتراف میں اکیڈمی کی جانب سے سابق ممبر اسمبلی ریحان نعیم اور مفتی محمد علی نعیم رازی کے ہاتھوں بیگم حضرت محل ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا
مفتی محمد علی نعیم رازی نے کہا کہ کسی بھی سماج اور معاشرہ کی ترقی اور اسکا ارتقاء خواتین کے ذریعے کلیدی کردار ادا کئے بغیر ممکن نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ خواتین ہی کسی سماج کی تشکیل نو کی اساس اور بنیاد ہوتی ہے اور وہی قوم اور سماج کا مستقبل طے کرتی ہے
اس موقع پر اپنے کلیدی خطاب میں محترمہ سمیہ رانا نے کہا کہ آج کا دن انکی زندگی میں اہم ہے کیونکہ جس عظیم اور نایاب شخصیت کے نام سے موسوم ایوارڈ سے نوازا گیا وہ محض لکھنؤ ہی نہیں بلکہ دیار ہند کی تاریخ کا ایک ناقابل فراموش حصہ ہے ، ہم سب کو کو انکی زندگی سے سبق حاصل کرتے ہوئے ملک و ملت کی خدمت کے لئے میدان عمل میں آنا چاہئے
سمیہ رانا نے کہا کہ اگر کوئی ملک حقیقی معنی میں تعمیر نو کا خواہاں ہے تو اس کی سب سے زیادہ توجہ اور اس کا بھروسہ افرادی قوت پر ہونا چاہئے اور جب افرادی قوت کی بات ہوتی ہے تو اس کا خیال رکھنا چاہئے کہ ملک کی آدھی آبادی اور نصف افرادی قوت خواتین پر مشتمل ہے لہذا اگر خواتین اس تعمیر نو کا حصہ نہیں ہونگی تو حقیقی اور ہمہ جہتی تعمیر و ترقی ممکن ہی نہیں ہے
تقریب کو خطاب کرتے ہوئے سابق ممبر اسمبلی حاجی ریحان نعیم نے محترمہ سمیہ رانا کو تبریک و تہنیت پیش کی نیز لکھنؤ اسلامک اکیڈمی اور ذمہ داران کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی جانب توجہ اور انکو سماجی و سیاسی ترقی کا لازمی حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے جس کے لئے اس قسم کے پروگرام نہایت موثر ذریعہ ہے لہذا انکا وقتاً فوقتاً جابجا انعقاد کیا جانا چاہیے
تقریب سے مفتی جنید قاسمی، احسن علی ندوی ،ڈاکٹر زبیر رضا مصباحی، صائمہ فرحت مؤمناتی اور محترمہ عالیہ سحر نے بھی خطاب کیا
پروگرام کے کنوینر حافظ سید محمد انس کے کلمات تشکر اور مفتی عبد اللہ انجم مظاہری کی دعاء پر تقریب کا اختتام عمل میں آیا
اس موقع پر لکھنؤ اسلامک اکیڈمی اور یوتھ آف پیس فاؤنڈیشن کے ذمہ داران کے علاوہ خاص طور پر ڈاکٹر نبیل احمد ، حکیم ارسلان، ایڈوکیٹ راشد اعظمی، ڈاکٹر فرح ناز، حافظ سید ارشد، حسین آراء، عائشہ صدیقی، آسیہ خاتون،محمد اسد، سید عامر وغیرہ کثیر تعداد میں علماء، معلمات و معززین شہر موجود رہے