انوار الحق قاسمی
(ناظم نشر و اشاعت جمعیت علماء ضلع روتہٹ نیپال)
اب تک یہی سن رہا تھا اور سوشل میڈیا پر بھی یہی ہنگامہ تھا کہ سعودی عرب میں” تبلیغی جماعت "پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
سعودی عرب کے ائمہ و خطبا نے اسی پر بس نہیں کیا ؛بل کہ تبلیغی جماعت پر چند بڑے الزامات بھی عائد کئے ہیں، جن الزامات کو سن کر ہر مرد مومن کا قلب و جگر پانی پانی ہوجائے گا اور سخت ایکشن لیے بغیر نہیں بیٹھے گا۔
اورہوابھی ایساہی،کہ جیسے ہی مسلمانوں نے یہ سنا کہ سعودی حکومت اور اس کے خطبا تبلیغی جماعت پر شرک وبدعت اور دہشت گردی کے الزامات عائد کررہے ہیں؛تو فورا مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت نے سعودی حکومت اور اس کے خطبا کا تحریر و تقریر کے ذریعے زبردست تعاقب کیا اور انہیں سمجھایا کہ تبلیغی جماعت کیاہے؟۔
تبلغی جماعت کے سلسلے میں آپ کے جو افکار و نظریات ہیں،وہ بالکل تبلیغی جماعت کے افکار و نظریات نہیں ہے،تبلیغی جماعت کے افکار و نظریات وہی ہیں،جو دارالعلوم/دیوبند کے افکار و نظریات ہیں۔
تبلیغی جماعت کا مسلمانوں کو راہ راست پر لانا ہے،شرک و بدعت اور دہشت گردی سے اس کا دور تک کا بھی واسطہ نہیں ہے۔
ابھی تعاقب اور افہام و تفہیم کا سلسلہ چل ہی رہاتھا کہ ملک ہندوستان کے بلند پایہ عالم دین،عظیم محدث ،نابغہ روزگار قائد،عالمی ادارہ دارالعلوم/دیوبند کے صدر المدرسین اور جمعیت علماء ہند کے باوقار صدر مولانا سید ارشد مدنی نے امیر الہند نمبر کے رسم اجراء کے بعد تبلیغی جماعت پر پابندی والزامات کے سلسلے میں میڈیا کی طرف سے کئے گئے سوال پر برجستہ کہا:کہ میری معلومات کے مطابق سعودی عرب میں تبلیغی جماعت پر پابندی عائد نہیں کی گئی ہے۔
اللہ کرے کہ صدر جمعیت کی معلومات صحیح ہوں،اور سعودی حکومت کی طرف سے تبلیغی جماعت پر پابندی عائد نہیں کی گئی ہو۔
کیوں کہ سعودی حکومت کی طرف سے کئے گئے الزامات کو لے کر اکثر مسلمان نالاں ہیں اور یہ اس وقت تک چراغ پا رہیں گے،جب تک سعودی حکومت کی طرف سے وضاحتی بیان نہ آجائے۔
اس موقع سے دشمنان اسلام کو مذہب اسلام کو بدنام کرنے کا ایک بہترین موقع مل گیا اور انہوں نے حتی الوسع بدنام بھی کیا ہے۔
مشہور اسلام مخالف پروین تگڑیا نے تو یہاں تک کہہ دیا:کہ حکومت ہند کو چاہیے کہ فی الفور تبلیغی جماعت،جمعیت علماء ہند پر پابندی عائد کرے۔
ایسے ایسے کتنے اسلام مخالفوں نے مذہب اسلام کے خلاف تدبیریں کی ہوں گی۔
اللہ کرے کی ان ساری تدبیریں دھری کی دھری رہ جائیں،اور مذہب اسلام بلند ہوتارہے۔