مدارسِ اسلامیہ کے ذمہ داران پوری بے دار مغزی اور تن دہی کے ساتھ ملک وملت کی تعمیر میں مصروف رہیں: مفتی ابوالقاسم نعمانی

تازہ خبر قومی

دارالعلوم دیوبند میں رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کی مجلس عاملہ کا اجلاس اختتام پذیر
دیوبند، 20؍ دسمبر
(رضوان سلمانی)
مدارسِ اسلامیہ ملت اسلامیہ کی تعمیر وحفاظت کے اہم ادارے ہیں جو اسلامی علوم وفنون کی تعلیم واشاعت اور دینی تربیت کے ساتھ ملک کے لیے پُرامن شہری اور ملت کے لیے رجال کار تیار کرتے ہیں، مدارس اسلامیہ کے ذمہ داران پوری بے دار مغزی اور تن دہی کے ساتھ ملک وملت کی خدمت وتعمیر میں مصروف رہیں۔ان خیالات کا اظہار دارالعلوم دیوبند کے مہتمم وصدر کل ہندرابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کیا۔

انہوں نے ارکان اور صوبائی صدور رابطہ مدارس کو متوجہ کیا کہ حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں، ایسے میں مدارسِ اسلامیہ کو فعال وسرگرم بنانے کی ضرورت ہے۔دارالعلوم دیوبند کے صدرالمدرسین،جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشدمدنی صدر نے کہاکہ مدارس اسلامیہ کا ماضی بہت تاب ناک ہے، ان مدارس کا ملک کی آزادی اور ملت اسلامیہ کی بقاء واستحکام میں بڑا کردار رہا ہے، درحقیقت مدارس اسلامیہ ملک وملت کے بڑے محسن ہیں۔اسلام ، مسلمانوں اور مدارس اسلامیہ کے حوالہ سے حالات بڑے صبر آزما اور ہمت شکن ہیں

، لیکن ہم کو اکابر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نئے تقاضوں کے مطابق مدرسوں کو ڈھالنا ہوگا اور ان کی نافعیت کو بڑھاناہوگا اور ایسے طریقہ کار کو اختیار کرنا ہوگا، جس سے ملک وملت کے لیے اچھے افراد اور دینی دعوت وخدمت کے لیے باصلاحیت علماء فراہم ہوں۔رابطہ مدارس کے ناظم عمومی واستاذحدیث دارالعلوم مولانا شوکت علی قاسمی بستوی نے رابطہ کی گذشتہ مجلس عاملہ کی کارروائی پڑھی اورمرکزی رابطہ کی سالانہ رپورٹ پیش کی جس میںمختلف صوبوں کی کارکردگی کاجائزہ بھی پیش کیا گیا تھا۔

دیگر اظہار خیال کرنے والوں میں مولانا نعمت اللہ اعظمی ، مولانا رحمت اللہ میر قاسمی، مولانا اشہد رشیدی مراد آباد، مولانا عبدالقوی حیدرآباد، مولانا صدیق اللہ چودھری،کلکتہ شامل ہیں۔

اجلاس میںنائب مہتمم مولانا عبدالخالق مدراسی،مولانا قمرالدین، مولانا مفتی اسماعیل مہاراشٹر،مولانا محمود حسن کھیروی،مولانا نظام الدین خاموش چھاپی، مولانا محمد راشد اعظمی، مولانا محمد شاہد امین عام جامعہ مظاہر علوم ، مولانا مفتی محمد امین پالن پوری، مولانا مفتی محمد یوسف تائولوی، مولانا مجیب اللہ گونڈوی، قاری شوکت علی ویٹ،ج مولانا مفتی اشفاق احمد سرائے میر، مولانا علی حسن مظاہری شمالی ہریانہ،مولانا خورشید انور ،مولانا محمد اسجد قاسمی مرادآباد،مولانا عبدالقادر آسام، مولانا زین العابدین کرناٹک،مولانا مفتی محمد فاروق اڈیشہ، مولانا قاری محمد امین پوکرن، مولانا عبدالہادی پرتاپ گڈھ، مولانا محمداحمد مدھیہ پردیش، مولانا دائود امینی دہلی، مولانا مفتی ریاست علی اتراکھنڈ، مولانا محمد خالد جنوبی ہریانہ، مفتی سراج احمدمنی پور، مولانا عبداللہ خالدقاسمی ہریانہ،مولانا عبدالشکورکیرالا،مولانا مفتی صلاح الدین تامل ناڈو،مولانا مرغوب الرحمن بہار، مولانا محمدجھارکھنڈ، مفتی محمد خلیل پنجاب، مولانا ممتازشملہ،مولانا عنایت اللہ جموںاورمولانا شوکت علی جھن جھنوںوغیرہ حضرات شریک رہے۔

حکومت کی جدید قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۱۹ء پر غور وخوض کیا گیا اور مدارس اسلامیہ پر پالیسی کے دور رس اثرات کے جائزے کے لیے ایک ۵؍نفری کمیٹی بھی بنائی گئی، جس کے کنوینر ناظم عمومی رابطہ طے پائے۔اجلاس کا آغاز مولانا مفتی ابوالقاسم کی زیر صدارت مہمان خانہ دارالعلوم میں بعد نماز مغرب قاری محمد آفتاب امروہوی استاذ تجوید وقراء ت دارالعلوم دیوبند کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ نظامت کے فرائض ناظم عمومی رابطہ مولانا شوکت علی قاسمی بستوی نے انجام دئے،