الفاروق یونانی میڈیکل کالج اندور میں منعقدہ کنوکیشن میں ڈاکٹرانورسعید کا اظہار خیال
اندور20؍ دسمبر
(رضوان سلمانی)
الفاروق یونانی میڈیکل کالج اندور میں کنو کیشن کا انعقادکیا گیا جس میں 2016-17کے کالج کے فارغین طلبہ وطالبات کو ڈگریاں تقسیم کی گئیں۔ اس پروگرام میں مہمان خصوصی کے طو رپر جامعہ طبیہ دیوبند کے سکریٹری اور سی سی آئی ایم کے سابق رکن ڈاکٹر انور سعید نے شرکت کی۔ اس موقع پر مقررین نے تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اس دوران مہمان خصوصی ڈاکٹر انورسعید نے کامیاب طلبہ وطالبات کو مبارک باد دیتے ہوئے کہاکہ انسان کے لئے زندگی جتنی اہم ہے اتنی ہی اہم تعلیم ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم ایک ایسی طاقت ہے جس سے ہر ایک کی قسمت بدل سکتی ہے ، تعلیم کے بغیر دنیا میں انسان کی کوئی اہمیت نہیں ہے ، آج کے اس جدید ٹیکنالوجی دور میں تعلیم سب کے لئے ضروری ہے ، خاص کر مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ تعلیم پر خصوصی توجہ دیں ۔ انہو ںنے کہا کہ تعلیم ہمیں اندھیرے سے روشنی کی طرف لے جاتی ہے۔ تعلیم سے ہی انسان اونچائیوں تک پہنچ جاتا ہے۔
آپ سب لوگ تعلیم کا ایک حصہ ہیں اور آپ بڑے خوش نصیب ہیں کہ آپ لوگوں نے روشنی کے راستے کو اختیار کیا ہے ،اسی پر چل کر زندگی کے ہر مقصد اور ہر کامیابی آپ کی زندگی کا حصہ بنیں گی۔ انہوںنے کہا کہ تعلیم وہ زیور ہے جو انسان کا کردار سنوارتی ہے ،دنیا میں اگر ہر چیز دیکھی جائے تو وہ بانٹنے سے گھٹتی ہے مگر تعلیم ایک ایسی دولت ہے جو بانٹنے سے گھٹتی نہیں بلکہ بڑھ جاتی ہے اورانسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ تعلیم کی وجہ سے دیا گیا ہے۔

تعلیم حاصل کرنا ہر مذہب میں جائز ہے ، اسلام میں تعلیم حاصل کرنا فرض قرار دیا گیا ہے۔ ا س لئے ہمیں تعلیم کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہا کہ اگر مسلمان تعلیم پر توجہ دینے لگیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں ترقی کرنے سے نہیں روک سکتی ۔ اسلام میں بھی تعلیم کو بڑی اہمیت دی گئی ہے ، آج تعلیم حاصل کرنے کے لئے حکومت کی جانب سے بھی بہت ساری سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں ، ایک زمانہ ایسا تھا کہ تعلیم حاصل کرنا بڑی بات تھی۔
ڈاکٹر انورسعید نے کہا کہ تعلیم کی جڑ کڑوی ضرور ہے مگر اس کا پھل میٹھا ہوتا ہے ، کڑوی جڑ سے نکل کر آپ لوگ میٹھا پھل چکھنے کی طرف جارہے ہیں اس پر آپ کو بڑی ہوشیاری کے ساتھ چلنا ہے ۔
ڈگری حاصل کرنے والے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے ڈاکٹر انور سعید نے کہا کہ ڈاکٹر ہمارے معاشرے کا وہ محسن طبقہ ہے جو صحت مند معاشرہ تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کررہا ہے ، آپ لوگوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مریضوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں ، کسی بھی سماج میں ڈاکٹر اور معالج کی خاص اہمیت ہے ۔
ڈاکٹر انور سعید نے طب یونانی کے تعلق سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم جدید طریقہ علاج اور قدیم طریقہ علاج کا موازنہ کریں تو ہم پاتے ہیں کہ آج ہماری بیماری کا فیصلہ مشین اور رپورٹس کرتی ہیں لیکن ایک زمانہ تھا جب ہم اپنی تکلیف کا خود فیصلہ کرتے تھے اور حکیم سے رجوع کرنے کے بعد بیماری کے قواعد کی بنیاد پر دوا لیتے تھے، جب سے ہم نے نیا طریقہ علاج اختیارکیا ہے ، اب ہمارا مقصد چند رپورٹس کو صحیح کرنا ہوگیا ہے ، لیکن اگر ہم پرانے انداز میں تکلیف پر توجہ دے کر قواعد کی بنیاد پر اسے دور کرنے کی کوشش کریں تو ہم موت کے علاوہ ہر مرض کا علاج طب یونانی سے کرسکتے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر بدرالدجیٰ اجمل خاں طبیہ کالج علی گڑھ نے کہا کہ تعلیم وترقی میں ہمارا معاشرہ اس وقت بہت پیچھے ہے جس قوم کا آغازہی اقراء سے ہوا ھا وہ آج تعلیمی پسماندگی کا شکار ہے۔ تعلیم کی دوری نے مسلمانوں کو دورِ جدید میں دوسری اقوام کے مقابلے میں بہت پیچھے کردیا ہے۔ تعلیم کے بغیر انسان ادھورا ہے نہ وہ مادی ترقیات حاصل کرسکتاہے اور نہ روحانی دنیا میں ناموری پیدا کرسکتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ جن ڈاکٹروں کو ڈگریاں ملی ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے پیشے کے تئیں مخلص ہوں ، یہ پیشہ انسانوں کی خدمت کے لئے وجود میں آیا تھا ،اس کے وجود کوباقی رکھنا آپ سب کی اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بغیر کسی مقصد کے پڑھنا فضول ہی نہیں بلکہ مضر بھی ہے ۔ جس قدر ہم بغیر کسی مقصد کے تعلیم حاصل کرتے ہیں اسی قدر ہم ایک بامعنی مطالعہ سے دور ہوتے جاتے ہیں ۔
اس لئے ہمیں جو بھی تعلیم حاصل کرنی ہے اس کا ہدف متعین کرکے تعلیم حاصل کریں۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد فاروق، ڈپٹی ڈائریکٹر آیوش مدھیہ پردیش، ڈاکٹر سید شفیق نقوی، پرنسپل راج پوتانہ میڈیکل کالج راجستھان، پروفیسر محمد شعیب ڈین راجستھان یونیورسٹی ، ڈاکٹر یوسف خلیل حسینی وغیرہ موجود رہے۔ پروگرام کی صدارت کالج کے صدر مجیب قریشی نے کی اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر نورین نے انجام دی۔ آخر میں کالج کے پرنسپل پروفیسر سلیم اختر نے سبھی مہمانوں کا شکریہ اداکیا۔
