بے ضرورت سامان دفتر پہونچانے کی اپیل
کاماریڈی
(زین نیوز)
مجلس تحفظ ختم نبوت ایجوکیشنل اینڈ چیاریٹبل ٹرسٹ کاماریڈی جس کے ذریعہ مکاتب کا قیام، مساجد کی آبادی، تعلیم وتربیت، اصلاح عقائد کے علاوہ، ضرورت مندوں کی بروقت امداد کا سلسلہ ابتداء ہی سے جاری ہے، اِس وقت مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ کاماریڈی کے پیش نظر وہ احباب جو مکان نہیں ہونے کی وجہ سے سردیوں میں زندگی بہت مشکل سے بسر کر رہے ہیں،
ان کی مدد کے سلسلے میں تعاون کی اپیل کرتے ہوے حافظ محمد فہیم الدین منیری ناظم مجلس، الحاج سید عظمت علی سکریٹری مجلس نے کہا کہ موضع گرگل کے دو بھائی شیخ حیدر صاحب، شیخ حسین صاحب کی جھونپڑیاں دو ماہ قبل یکے بعد دیگرے جل کر خاکستر ہوگئیں تھیں ،
الحمداللہ بر وقت جمعیۃ علماء کاماریڈی کی جانب سے امداد کی گئی، مکان کی تعمیر کے سلسلہ میں مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا ابرار الحسن صاحب رحمانی وقاسمی دامت برکاتہم کو مقام کا معائنہ کروایا گیا، مولانا نے دونوں کے حالات سن کر تسلی دی کہ مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ کاماریڈی کی جانب سے دونوں کے لیے علیحدہ علیحدہ مکانات بنانے کے لئے مولانا نظر الحق قاسمی کی نگرانی میں بنیاد کا کام شروع کیا گیا، جس کی تکمیل مخیر احباب کے مخلصانہ تعاون سے پوری ہوگی،اسی طرح دیگر مقامات کے کئی خاندان پریشان ہیں، جن کے مکانات کی تعمیر کے علاوہ دیہی معلمین کے مکانات کی تعمیر زیرغور ہے،

مفتی محمد خواجہ شریف مظاہری صاحب ترجمان مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ کاماریڈی نے عامۃ المسلمین بالخصوص کاماریڈی کی عوام سے گزارش کی ہے کہ اپنے گھر میں رکھا ہوا اسکرائپ بے ضرورت سامان، کھڑکیاں دروازے، ٹین شیڈ یا دیگر اشیاء دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ کاماریڈی مسجد نور پہنچائیں، جس میں سے قابل استعمال چیزوں کو ضرورتمندوں کو دیا جائے گا یا اس کو فروخت کرکے ضرورتمندوں کی مالی مدد کی جائے۔ ضرورتمندوں پر خرچ کرنے والوں کی حدیث میں بڑی فضیلت آئی ہے،
صحیح بخاری میں ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بیوہ اور مسکین کے ساتھ اچھاسلوک کرنے والا ایسا ہے، جیسا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا یا جیسے رات کو عبادت کرنے والا اور دن کو روزہ رکھنے والا، اللہ نے قرآن کی مختلف آیات میں مسلمانوں کو اپنے قرابت داروں، محتاجوں اور مسافروں کے حق کی ادائیگی اور مالی اعانت کی خوب تلقین کی اور فرمایا کہ اپنا مال فضول خرچی اورشاہ خرچی کے کاموں میں نہ اڑاؤ، بلکہ اپنے قریبی عزیز و اقارب، والدین، بیوی بچوں، بہنوں بھائیوں کی حقیقی ضروریات پر خرچ کرو، اسی طرح ان کے علاوہ دیگر ضرورت مندوں، محتاجوں اور مسافروں کی مالی طور پر مددکرو، ایسے لوگوں کو حدیث میں قابل رشک قرار دیا گیا ہے،
سرکار مدینہ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ: ’’صرف دوہی لوگ قابل رشک ہیں، ایک تو وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال و دولت عطا کیا اور اسے خیر وبھلائی اورنیکی کے کاموں میں خرچ کرنے کی توفیق دی، دوسرا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت یعنی عقل ودانائی اور معاملہ فہمی دی اور وہ اپنی حکمت کے مطابق درست فیصلے کرتا اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے، نیز اہل وعیال کی ضرویات پر خرچ کرنے کو بھی حدیث میں صدقہ شمار کیا گیا ہے،
نبی کریمﷺ نے فرمایا: جو شخص دنیا میں کسی مومن کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دُور کرے گا، جو شخص کسی مشکل میں پھنسے ہوئے آدمی کو آسانی فراہم کرے گا، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کے لیے آسانی فراہم کرے گا، جو کسی مسلمان کی سترپوشی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی سترپوشی کرے گا،
اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد میں لگا رہتا ہے جب تک کہ بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے، ایمان والو! نیکی اورپرہیزگاری (کے کاموں) میں ایک دوسرے کا تعاون ومدد کرو اور گناہ اور برائی (کے کاموں) میں ایک دوسرے کا تعاون نہ کرو، رسول اکرمﷺ کا ارشاد ِگرامی ہے: لوگوں میں سب سے اچھا وہ ہے جو لوگوں کو نفع اور فائدہ پہنچائے، مخلوق خدا کے مالی حقوق ادا کرنا، ان کے کام آنا، ان کے مصائب وآلام کو دور کرنا، ان کے دکھ درد کو بانٹنا اور ان کے ساتھ ہمدردی و غم خواری اور شفقت کرنے پر شریعت نے زور دیا ہے،
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: رحمت کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے، تم زمین پر رہنے والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں اپنے مالی حقوق کو کامل طریقے سے ادا کرنے اوراللہ کے راستے غرباء، ضرورتمندوں اور نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی توفیق نصیب فرمائے ( آمین)
مزید تفصیلات اور تعاون جمع کروانے کے لئے رابطہ کریں. 9014142314