ریاستی وزیرتعلیم حکومت تلنگانہ مسٹر پی سبیتا اندرا ریڈی کا بیان
حیدرآباد۔ 21جنوری
( زین نیوز )
وزیرتعلیم حکومت تلنگانہ مسٹر پی سبیتا اندرا ریڈی نے کہا کہ ریاست کے سرکاری اسکولس میں انگلش میڈیم تعلیم کے فیصلہ پرعمل آوری کے لئے تمام اساتذہ کو خصوصی تربیت دی جائے گی اور آئندہ تعلیمی سال سے ہراسکولس میں جماعت اول سے ہی انگریزی زریعہ تعلیم کا آغاز کیا جائے گا جبکہ تمام اسکولس میں تلگومیڈیم تعلیم بھی جاری رہے گی۔
اولیائے طلبہ کو اختیار ہے گا کہ اپنے بچوں کے لئے تلگو یا انگریزی زریعہ تعلیم کا انتخاب کر میں ۔ مسز سبیتا انرار یڈی ریڈی نے کہا کہ کا بینی سب کمیٹی میں تمام امور بشمول خانگی اسکولس میں فیسوں کے کنٹرول پرتفصیلی غور وخوص کے بعد قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر جماعت اول کے ساتھ ساتھ دوسری جماعتوں کے طلبہ بھی انگریزی میڈیم سے وابستہ ہونا چاہتے ہیں تو اس پر مشاورت کے بعد مناسب فیصلہ لیا جائے گا۔
وزیرتعلیم نے کہا کہ اساتذہ کو انگریزی زبان میں تعلیم دینے کے لئے ضروری تربیت دی جائےگی۔اب تک 1350 طلبہ کوعظیم بی پریم جی فانڈیشن کے توسط سے تربیت فراہم کی جاچکی ہے۔تربیت تکمیل کئے ہوئے اساتذہ میں200 اساتذہ مرکزی کا کردار ادا کررہے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ مرحلہ داری طور پر تمام اساتذ کو خصوصی تربیت دی جائے گی اس ایقان کا بھی اظہار کیا کہ سرکاری اسکولس میں انگریزی ذریعہ تعلیم شروع کرنے کے بعد داخلوں کی شرح میں زبردست اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جا ر یہ تعلیمی سال کے دو برس کورونا کی وجہ سے سرکاری اسکولس میں 3لاکھ طلبہ خانگی اسکولس کے طلبہ نے داخلہ لیا ہے ۔
ریاستی وزیر نے بتایا کہ ریاست میں پہلے ہی اقامتی اسکولس اور سرکاری اسکولس میں دس لاکھ طلبہ انگریزی میڈیم میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جبکہ ریاست میں سرکاری اسکولس میں کل طلبہ کی تعداد 26لاکھ ہے جن میں 10لاکھ کا تعلق انگریزی میڈیم سے ہے۔
وزیرتعلیم نے کہا کہ انگریزی اور تلگومیڈیم کا نصاب ایک ہی ہوگا۔ جن کی تدریسی کتب تیار کی جاۓ گی مذکورہ طریقہ کارکو بروے کارلاتے ہوۓ ایک صفحہ پر تلگو اور دوسرے صفحہ پر انگریزی نصاب کی طباعت قتل میں لا جائیگی ۔آئندہ 2 یا 3 ماہ تک یہ کتب دستیاب ہوجائیں گے۔
چند گوشوں سے انگریزی ذریعہ تعلیم شروع کرنے کے فیصلہ کی جارہی تنقیدوں پر مسزسبیتا اندراریڈی نے کہا کہ ہر کسی کو مشورہ دینے اور تجویز پیش کرنے کا حق ہے اور حکومت ہر تجویز و مشورے پرغور کرنے سنجیدہ بھی ہے مگر یہ تنقید تعمیری ہو۔