دہلی فسادات معاملہ : عمر خالد کی درخواست ضمانت کی مخالفت
نئی دہلی :21 / جنوری
(ایجنسیز )
ایک عدالت نے فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں فسادات کے سلسلے میں قصور وار ٹہرائے گئے پہلے شخص دنیش یادو کو پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے ۔ منگل کو دہلی ہائی کورٹ نے اس کیس میں قتل کے ایک معاملے میں چھ ملز مین کو ضمانت دے دی تھی ۔
جسٹس سبرامنیم پرساد نے محمد طاہر ،شاہ رخ، محد فیصل محمد شعیب، راشد اور پرویز کی ضمانت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے حکم دیا۔ استغاثہ کے مطابق ، ایک 22 سالہ شخص، دلبر نیکی کو شمال مشرقی دہلی کے گوکل پوری علاقے میں ایک مٹھائی کی دکان میں ہجوم نے توڑ پھوڑ کے بعد جلا کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔
نیگی ایک مٹھائی کی دکان پر کام کرتا تھا۔ پولیس کے مطابق فسادات کا واقعہ 24 فروری 2020 کوشیوو ہار تیراہا کے قریب پیش آیا، جس میں ملزمان نے مبینہ طور پر پتھراؤ کیا،توڑ پھوڑ کی اور وہاں کئی دکانوں کو نذرآتش کیا۔ دو دن بعد نیگی کی مسخ شدہ لاش دکان سے ملی ۔اس سلسلے میں گوکل پوری پولیس اسٹیشن میں تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔
دہلی فسادات میں 53 ہلاک اور 700زخمی افراد ہوئے تھے ضمانت کی درخواستوں پر قبل از وقت ساعت کے دوران استغاثہ نے درخواستوں کی مخالفت کر تے ہوئے کہا تھا کہ فسادات صبح سے شروع ہوئے اور دیر رات تک جاری رہے،یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ملز مین دو پہر اور رات میں فسادیوں کے ہجوم کا حصہ تھے ۔ 24 فروری 2020 کو شمال مشرقی دہلی میں فرقہ وارانہ جھڑپیں ہوئیں، CAA قانون کے حامیوں اور اس کے خلاف ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے مظاہرین کے درمیان تشدد کے بعد کم از کم 53 افراد ہلاک اور 700 کے قریب زخمی ہوئے۔
عمر خالد کی درخواست ضمانت کی مخالفت
دہلی پولیس نے منگل کو جواہر لال نہرو یونیورسٹی (JNU) کے سابق اسٹوڈنٹ لیڈر عمر خالد کی دہلی فسادات کیس میں ضمانت کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ فسادات کی سازش کا مقصد بالآ خر ہندوستانی حکومت کو گھٹنے ٹیکنا اور اس کی بنیاد کو غیر مستحکم کرنا تھا۔ خالد اور کئی دیگر کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (UAPA) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور ان پر 2020 کے فسادات کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام ہے ۔
ان کی ضمانت کی درخواستوں پر پانچ ماہ سے زیادہ عرصے سے بحث جاری ہے ۔ایڈیشنل سیشن جج امیتابھ راؤت کے سامنے خالد کی ضمانت کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے،اپیشل پبلک پراسیکیوٹر (SSP)امت پرساد نے جے این یو کے سابق اسٹوڈنٹ لیڈر کے اس ، دعوے کی مخالفت کی کہ جانچ ایجنسی فرقہ پرست ہے اور فسادات کی سازش کے معاملے میں چارج شیٹ من گھڑت ہے۔