رشحات قلم : مولانا عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع نظام آباد تلنگانہ
9505057866
71/ویں یوم جمہوریہ جشن کے موقع پر جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع نظام آباد نے اپنےخیالات کا اظہارکرتے ہوے کہا کہ
آزاد ہندوستان کی تاریخ میں دودن بڑی اہمیت کے حامل ہیں ایک 15/اگست جس میں انگریزوں کے ظلم واستبداد سے آزادی ملی دوسرے 26/جنوری جس میں ہمارا یہ جنت نشاں سونے کی چڑیا ملک جمہوری بنا
جس کا مطلب یہ ہیکہ اپنے ملک میں اپنے لوگوں پر اپنا قانون لاگو ہوا جمہوریت کی تاریخ بیان کرتے ہوے کہا کہ
آزادہندوستان کا اپنا دستور بنانے کے لےء ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی صدارت 29/اگست 1947کو سات رکنی کمیٹی تشکیل دی گیء تھی جس کو ملک کا موجودہ دستور مرتب کرنے میں پورے دوسال گیارہ مہینے اٹھارہ دن لگے دستور ساز اسمبلی کے مختلف اجلاس میں اس نےء دستور کی ہر ایک شق پر کھلی بحث ہو ی بالآخر 24/جنوری 1950کو ایک مختصر اجلاس میں تمام ارکان نے اپنے دستخط ثبت کرکے منظوری دے دی اور ملک کی تاریخ میں سب پہلا جشن جمہوریہ اسی اجلاس کے دودن بعد 26/جنوری 1950کو منایاگیا اور اس قانون کو نافذ کردیا گیا اسی طرح پابندی سے ہر سال پورے ملک میں چھبیس جنوری کو یہ جشن منایا جاتا ہے اور آج بھی ہم اسی قانون اور آئین کا تحفظ کرنے اور ملک کے سیکولرزم اور جمہوریت کو برقرار رکھنے کی غرض سے سر عام اپنے عہد اور وعدہ کی تجدید کرتے ہیں اور 15/اگست کی طرح یہ دن بھی ایک تاریخی اور یاد گار دن بن گیا
دوستو
جشن کا یہ دن ہمیں یوں ہی نہیں مل گیا اس کے پس پردہ بڑی بڑی قربانیاں دینا پڑا لاکھوں لوگوں کی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑا تب جاکر یہ جشن جمہوریہ ہمارا مقدر بنا
تاریخ کے جھروکے. چیدہ چیدہ تاریخ میں آپ کو بتا تا چلوں تاکہ آنے والی نسلوں کو پتہ چلے کہ ملک کی آزاردی میں ہمارا کیا کردار رہا ہے
انگریزوں کا پہلا قافلہ 1601میں بادشاہ جہانگیر جو اکبر بادشاہ کا لڑکا تھا جس کا اصل نام نورالدین اور لقب جہانگیر تھا کے دور میں ہندوستان آیا اور جہانگیر کے دوسرے لڑکے شاہ خرم (شاہ جہاں ) نے ان کو تجارت کی اجازت دے دی یہ آہستہ آہستہ اپنے قدم جمانے لگا اور اس ملک پر قابض بن بیٹھا تھا
آزادی کے لےء کل ملاکر 346 سالوں کا طویل المدت وقت لگا
1947 میں ملک انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا
ان تین سو چھیالیس سال میں ظلم وبربریت کی ایک طویل داستان لکھی گیء جس کا ہر صفحہ ہندوستانیوں کے خون سے لالہ زار اور رنگین ہے جذبہ آزادی سے سرشار اور سرپر کفن باندھ کر وطن عزیز اور اپنی تہذیب وتمدن کی بقاء کے لےء بے خطر آتش افرنگی میں کود پڑنے والوں میں پیش پیش رہنے والے صرف اور صرف مسلمان ہی تھے اگر ملک کی آزادی سے مسلمانوں کی قربانیوں کو الگ کردیاجاے تو ہندوستان کی آزادی نامکمل اور ادھوری رہ جاے گی
آزادی کے بعد ملک میں جمہوریت اور سیکولر نظام کو جاری کرنے میں جمعیۃ علماء ہند کی کے کردار کو بھی تاریخ فراموش نہیں کرسکتی جمعیۃ علماء ہند کے ناظم.عمومی مولانا سید حفظ الرحمان سیوہاروی جو دستور ساز اسمبلی کے رکن تھے انہوں نے اقلیتوں کو مراعات دلانے میں اہم کردار ادا کیا
انگریزوں کے ناپاک عزائم کو بھانپ کر سب سے پہلے میدان پلاسی میں جس مرد مجاہد نے انگریزوں سے مقابلہ کرتے ہوے1857 میں جام شہادت نوش کیا دنیا اس کوشیر بنگال نواب سراج الدولہ کے نام سے جانتی ہے
1799میں سری رنگا پٹنم میں ان انگریزوں کا مقابلہ کرتے ہوے شیرمیسور سلطان ٹیپو شہید رح نے وطن کی آزادی کے لےء اپنی جان قربان کردی
1803میں انگریزی فوج دہلی میں فاتح بن کر داخل ہوی اور بادشاہ وقت شاہ عالم ثانی سے معاہدہ لکھوالیا
عین اسی وقت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے فرزند شاہ عبدالعزیز رح نے فتوی دیا کہ ہندوستان اب دارالحرب بن گیا ہے لہذا بلا تفریق مذہب وملت ہر ہندوستانی کو اس ملک کی حفاظت کے لےء آگے آکر جہاد کرنا فرض ہے
1831میں سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید نے بالاکوٹ کی پہاڑی پر انگریزوں کا مقابلہ کرتے ہوے جام شہادتب نوش کرلیا
1857میں علماء کرام نے پھر جہاد کا فتوی دیا جس کے نتیجہ میں اب پورے ملک میں جہاد کی ایک آگ پھیل گیء
دوسری طرف انگریزوں نے عیسائ مبلغین کو استعمال کرتے ہوے ہندو مسلمانوں میں مذہبی جنگ لڑانے کی ناپاک کوششیں کیں
1857ہی میں شاملی کے میدان میں مرشد علماء حاجی امداداللہ مہاجر مکی کہ قیادت میں مولانا قاسم نانوتوی مولانارشید احمد گنگوہی حافظ ضامن شہید ودیگر نے مردانہ وار مقابلہ کرتے رہے
20سپٹمبر 1857 کو انگریزوں نے لال قلعہ کی فصیل پر اپنا قبضہ جمالیا اور سلطنت مغلیہ کے آخری چشم وچراغ بہادر شاہ ظفر کو گرفتار کرکے رنگون (برما) جلاوطن کردیا
ستاون کی اس جنگ کو انگریزوں نےغدر کا نام دیا اور اس جنگ کی ناکامی کے بعد انگریزوں نے جو ظلم وستم کا بازار گرم کیا کہ اس کو سن کر ہی روح کانپ جاتی ہے ایسے سنگین ترین حالات میں بھی اگر کوئ سب سے پیش پیش تھا تو وہ صرف اور صرف مسلم علماء اور عوام اسی لےء انگریز نے چن چن کر سب سے بدلہ لیا جس کی پاداش میں چالیس ہزار سے زائد علماء کو پھانسی کے پھندوں پر لٹکادیا گیا
30/مئ 1866میں مولانا قاسم.نانوتوی نے دارالعلوم دیوبند کی بنیاد ڈالی اسی مدرسہ کے ایک فرزند مولانا محمود الحسن دیوبندی تھے
1887میں تحریک ریشمی رومال چلای جن کو دنیا آج شیخ الہند کے نام سے جانتی ہے
1911میں مولانا ابوالکلام آزاد نے کلکتہ سے الھلال اخبار کے ذریعہ آزادی کی روح پھونکی
1915میں ریشمی رومال تحریک چلی
1916میں ہندومسلم اتحاد کی تحریک چلی
1917میں مہاتماگاندھی جی نے چمپارن سے ڈانڈی مارچ اور نمک ستیہ گرہ کی تحریک چلای
1919میں جمعیۃ الانصار ایک تنظیم بنی جس کے ناظم مولانا عبید اللہ سندھی تھے
1919ہی میں دہلی میں خلافت کانفرنس کا اجلاس ہوا جس میں باقاعدہ جمعیۃعلماء ہند کی تشکیل عمل میں آی جس کے پہلے صدر مفتی کفایت اللہ صاحب تھے
1919ہی میں امرتسر کے جلیاں والا باغ میں انگریزوں کی جانب سے فائرنگ ہوی جس میں بے شمار ہندوستانی شہید ہوگےء
1920میں شیخ الہند نے ترک موالات کا فتوی دیا
1921میں شیخ الاسلام حسین احمد مدنی نے پوری جرات کے ساتھ یہ اعلان کیا کہ انگریزوں کہ ملازمت کرنا یا ان کی اعانت کرنا حرام ہے
1922میں ہندومسلم اتحاد کو ختم کرنے کے لےء شدھی اور سنگٹھن تحریکیں چلائیں جس کہ وجہ فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے
1926 کلکتہ میں جمعیت کے اجلاس میں مکمل آزادی کی قرارداد منظور ہوی
1935میں حکومت ہند کا ایک دستور بنایاگیا
1942میں انگریزوہندوستان چھوڑو تحریک چلای گیء
بالاخرحکومت برٹش گٹھنے ٹیکنے پر مجبور ہوگیء
اور
1947کو ملک آزاد ہوگیا
لیکن افسوس کہ آج وہ لوگ جن کا ملک کی آزادی میں کردار تو درکنار دوردورتک نام بھی شامل نہیں ہے
جن کے ہاتھ باباے قوم.مہاتما گاندھی کے قتل سے رنگے ہوے ہیں
جن کی پیشانیوں پر مذہبی تقدس کو پامال کرنے کا کلنک لگا ہوا ہے
جن کے سروں پر ہزاروں فسادات لاکھوں بے قصور انسانوں کے قتل اور اربوں کھربوں کی املاک کو نقصان پہونچانے کا معاملہ ہے
ج کی زبانوں سے صرف نفرت کی آگ ہی برستہ ہوں
وہی لوگ مسلمانوں سے محب وطن ہونے کا ثبوت مانگ رہے ہیں
آزادی کے معماروں اور وفاداران ملک وملت سے شہریت مانگی جارہی ہے
افسوس ہاے افسوس آج ملک کس رخ پر جارہا ہے
کاش یہ 26/جنوری کا جشن جمہوریت اس لےء منایا جاتا کہ ان وقت کے حکمرانوں کو آئین اور دستور کے تحفظ کا حلف دلایا جاتا
اےکاش
نفرت بھرے ماحول کو امن وبھای چارہ سے بدلنے کی بات کہی جاتی
اے کاش
مساویانہ آئینی حقوق کو یقینی بنایا جاتا
اےکاش
ملک دشمن طاقتوں اور عناصر کو کیفرکردار تک پہونچانے میں کوی امتیاز نہیں برتا جاتا
اےکاش
گنگاجمنی تہذیب کی لاج رکھ لی جاتی
اےکاش
اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف بولنے اور زہر اگلنے والی زبانوں پر لگام کسی جاتی
اےکاش
گاؤرکھشا کے نام.پر مسلمانوں کا قتل عام کرنے والوں کو طوق وسلاسل پہناے جاتے
اےکاش
لوجہاد اور گھر واپسی کا نعرہ لگاکر ظلم وتشدد بھڑکانے والوں کو خاطر خواہ سزا دلای جاتی
اےکاش
دہشت گردی اورآتنک پھیلانے والوں کو تختہ دار تک پہونچایا جاتا
اےکاش
سب کا ساتھ سب کا وکاس کے نعرہ کو عملی جامہ پہنایا جاتا
اےکاش
یوم جمہوریہ کے معماروں کو سچی خراج عقیدت پیش کی جاتی
اےکاش
شہیدان وطن کی قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوے ان کو سلام کیا جاتا
تو شاید شاعر مشرق علامہ اقبال کی یہ آرزو اور تمنا پوری ہوپاتی
سارے جہاں سے اچھا
ہندوستاں ہمارا ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی
یہ گلستاں ہماراہمارا
مذہب نہیں سکھاتا
آپس میں بیررکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہے
ہندوستاں ہماراہمارا