مذہب کی سیاست میں الجھا یوپی الیکشن

تازہ خبر مضامین
 آصف جمیل امجدی {انٹیاتھوک،گونڈہ}
رکن: تنظیم فارغین امجدیہ2010؁ء
فضاۓ سیاست رنگ برنگ سیاسی بادلوں کی گڑگڑاہٹ سے ہمہ وقت گونج رہا ہے۔جس قدر اسمبلی انتخابات قریب آ رہا ہے۔سیاسی لیڈران اپنے ووٹ بینک کو بھرنے کے لیے بے حد متحرک نظر آرہےہیں۔اب لیڈروں کو نیند آتی ہے، نا ہی عوام کو کوئی چین و سکون میسر ہے۔کیوں کہ اس وقت ہر طرف زیر بحث سیاست ہی چل رہی ہے۔ کوئی  سیکولر پارٹیوں کی خوبیوں کے نغمے گا رہا ہے اور اسی میں مست و مگن نظر آرہا ہے۔
تو کہیں ہوٹل اور قہوہ خانے پر سیکولر پارٹیوں کی خامیاں گنی جا رہی ہیں۔ گویا یوپی کی ایوان سیاست میں ہلچل سی مچی ہوئی ہے۔ لیڈر عوامی روابط کے درمیان بڑے بڑے وعدے کر رہےہیں‌۔ اور پلک جھپکتے ہی عوام الناس کو وعدوں کے شیش محل میں کھڑا کر دیتے ہیں۔ حالانکہ عوام کافی بیدار ہوچکی ہے۔ اب ان کے جھانسے میں آنے والی نہیں ہے۔ سیاسی حالات کے اعتبار سے قبل از وقت کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ آخر کس پارٹی کے ہاتھ میں یوپی کا زمام حکومت جاے گا۔
جب کہ لیڈروں میں اتھل پتھل چالو ہے۔ پارٹیوں کے تبادلے کے ساتھ،ذہنی و فکری تبادلے بھی کئے جا رہے ہیں تاکہ نئی پارٹی میں نئے اثر و رسوخ کے ساتھ اپنا مضبوط لائحۂ عمل تیار کیا جاسکے۔ایسا زیادہ تر بی جے پی میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔بی جے پی کے 14 ایم ایل اے اور وزراء نے پارٹی کو چھوڑا۔جب کہ بی یس پی کے 9 لیڈر اور کانگریس کے 5  اور یس پی کے 1 لیڈر نے اپنی سابقہ پارٹی چھوڑی۔ اور اپنی پسند کی پارٹی میں  پہنچ کر راحت کی سانس لے رہے ہیں۔ یہیں پہ بس نہیں بل کہ بی جے پی کے خفیہ راز کو بھی افشاں کرکے منظر عام پر لے آئیے ہیں۔ بی جے پی کے 14 ایم ایل اے  جنھوں
نے سابقہ پارٹی کو چھوڑا ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی میں چوٹی برادری جیسے دلت وغیرہ کی کوئی ویلو نہیں ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس وقت اس پارٹی میں کافی کھل بلی مچی ہوئی ہے۔ سپا سیکولر لیڈر اکھلیش یادو نے موقع کو غنیمت دیکھتے ہوئے بی جے پی کے باغی لیڈروں کو نا صرف اپنی پارٹی میں شامل کیا بل کہ ان تمام لیڈروں کو ٹکٹ دے کر بی جے پی کے خیمے میں زلزلہ برپا کردیا۔ جس کی بدولت سپا مضبوط نظر آرہی ہے۔
یہاں پر ایک بات قابل ذکر ہے کہ اکھلیش یادو نے بی جے پی کے تمام باغی لیڈروں کو ٹکٹ دے دیا۔ لیکن وہیں کانگریس سے آئے عمران مسعود اور مسعود اختر کو ٹکٹ نہیں دیئے۔ جوکہ اپنے آپ ایک بہت بڑا سوال ہے۔ کیا اکھلیش یادو مسلمانوں کو صرف استعمال کرنا چاہتے ہیں؟ کیا اکھلیش نہیں چاہتے کہ مسلمانوں کا کوئی  لیڈر بڑے عہدے پر فائز ہو۔ جو مسلمانوں کے لیے صداۓ حق بلند کرے ۔ کہیں اکھلیش بھی ہندوتوا کہ راہ پر نہیں چل رہے ہیں؟۔
کیوں کہ ان کی تقریب اور اسٹیج پر مسلمانوں کے ساتھ عصبیت برتتے ہوۓ دیکھا گیا ہے۔ یہیں پہ بس نہیں بل کہ کئی ایسے مسائل سامنے آئے جس میں مسلموں کو پریشان کیا گیا۔ لیکن نام نہاد مسلمانوں کے مسیحائی کا دم بھرنے والے چپی سادھے رہے۔ اور انہی کی آنکھوں کے سامنے مسلمانوں پر مظالم کی انتہا کی جا رہی تھی۔ کبھی مسلمانوں کو ٹارگیٹ بنایا گیا تو کبھی اسلامی قوانین کو توڑنے کی ناپاک کوشش کی گئی اور کافی حد تک وہ اس میں کامیاب بھی رہے۔
اس وجہ یہی رہی کہ جب جب الیکشن آتا ہے۔ تو برساتی مینڈک کی طرح ٹرٹر کرتے ہوئے لیڈر نکلیں گے اور کہیں گے کہ ہم ہی ہیں مسلمانوں کے سب سے بڑے مسیحا۔چناؤ ختم مسیحائی کا نعرہ ووٹ کے ساتھ بکسے میں بند۔ رہی بات بی جے پی کی تو وہ آر یس یس کے زہریلے خمیر سے اٹھنے والی اپنی شرمناک تگڑم بازیوں کے ذریعہ برسر اقتدار آئی تھی۔اسی وقت یہ یقین ہو چلا تھا کہ ہندو مسلم میں نفرتوں کی آبیاری کرنے والی یہ پارٹی مذہبی عداوتوں کی فصل ضرور کاٹے گی۔
لیکن وہ اس میں اتنی جلد بازی کرے گی۔ اس کا اندازہ ہرگز نہ تھا۔ اس حکومت کے آتے ہی اس کے ساۓ میں گؤ رکچھا کے نام پر بے قصور مسلمانوں کا قتل عام کیا جانے لگا۔ انہیں زندہ جلایا جانے لگا۔ لو جہاد کے نام پر نئی نسل کو جیل کے سلاخوں کے پیچھے دفن کیا جانے لگا۔ ہندو مسلم بھائی چارگی کی فضا کو منافرت کے زہر سے مسموم کرنے کی کوششیں ہونے لگیں۔ غرض کہ مسلمانوں کو ٹارگیٹ کرنے کے نئے نئے طریقے اپنائے جانے لگے۔
بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد بڑی سرعت کے ساتھ مساجد پر حملہ بولا گیا۔ناجانے کتنے ائمہ کرام کو شہید کردیا گیا۔ مسجدیں جلا دی گئیں، بسپا،سپا،عاپ وغیرہ یہ وہ پارٹیاں ہیں جو مسلمانوں کے ووٹ کے دم پر اپنا وجود باقی رکھے ہوئی ہیں۔ اس وقت ان پارٹیوں کو بھی مسلم مظلوم نہیں نظر آرہے تھے۔   دگر جو بھی پارٹیاں ہیں وہ سب یہیں سے ہندو مسلم منافرت کا آکسیجن لے کر فضاؤں میں گولا بارود کرتے ہیں۔
ہر سیاسی اسٹیج پر مسلمانوں کو کوئی وقار و منزلت نہیں دی جاتی ہے۔ کون سی ایسی پارٹی ہے جس میں مسلمانوں نے اپنی بے لوث محنتوں کی قربانیاں نہ دی ہوں۔ لیکن جب پارٹیاں اقتدار میں آتی ہیں تو مسلمانوں کو بے اقتدار کردیتی ہیں۔ اعظم خاں نے ملائم سنگھ کی بنائی پارٹی  کے لیے کون سی قربانی نہیں دی۔ لیکن آج بنام مسلم اعظم خاں کے ساتھ جو ہوا وہ جگ ظاہر ہے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ  مسلمان منصوبہ بندی کے ساتھ اسدالدین اویسی صاحب کا بھر پور ساتھ دیں۔ اور ان کا ووٹ بینک زیادہ سے زیادہ کرنے کی کوشش کریں۔
کیوں کہ جب بھی سیاست کی غلیظ چال نے قانون اسلام کو مٹانے کی ناپاک کوشش کی تو سب سے آگے اسی مرد آہن کی آواز پارلیمنٹ کے ایوانوں  میں گونجتی ہے۔ اور مسلمانوں کے رستے رگ پر مرہم کا کام کرتی ہے۔ اگر آج ہم نے اویسی کا ساتھ نہ دیا تو پھر مستقبل میں ہمارا حشر زمانہ دیکھ کر ہم پر ہنسے گا۔ اس بار ہمیں الیکشن میں ثابت کردینا ہے کہ واقعی ہم آپ کے ساتھ ہیں۔
جس طرح آپ  مسلمانوں کی فکر کرتے ہیں اسی طرح اب ہم آپ کی فکر کریں گے۔ اور آپ کے شانہ بشانہ رہیں گے۔اویسی ہندوستان کی سیاست میں مسلمانوں اور دلتوں کے لیے کیوں اہم ہیں؟ (1) اگر اویسی صاحب پارلیمنٹ میں نہ ہوتے تو ہمیں یہ بھی معلوم نہ ہوتا کہ سی ۓ ۓ، ین آر سی ، ین پی آر بل ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے اتنے خطرناک ہیں اور ہم سڑکوں پر نہ آتے۔ لیکن وہ بھی نیچے نہیں اترتے کیونکہ نام نہاد سیکولر پارٹی اور اس کے قائدین نے خاموشی سے اس بل کو پاس ہونے دیا ہوگا۔
 (2) جب مودی سرکار تین طلاق بل کے نام پر مسلمانوں کے جذبات سے کھیل رہی تھی، اسدالدین اویسی ہی تھے جنہوں نے اپنی بیٹی کی شادی چھوڑ دی۔ تین طلاق بل کی سخت مخالفت کی، اس وقت بھی نام نہاد سیکولر پارٹی خاموش تھی۔ (3) اسد الدین اویسی صاحب جب دوسری ریاستوں میں الیکشن نہیں ہوتے۔ جب وہ لڑتے تھے تو نام نہاد سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرتی تھیں، ووٹ لینے کے بعد مسلمانوں کے پیغام کو بھول جاتی تھیں، جب سے اویس صاحب نے دوسری ریاستوں میں الیکشن لڑنا شروع کیا تھا، تب سے نام نہاد سیکولر پارٹیاں تھیں۔ مسلمانوں سے ہمدردی شروع کردی۔ (4) نام نہاد سیکولر پارٹی بھی ملک میں مسلمانوں اور دلتوں کے ساتھ ہونے والے لنچنگ اور مظالم پر خاموش تھی، اگر کسی نے آواز اٹھائی تو وہ صرف بیرسٹر اسد الدین اویسی صاحب ہیں۔حکیم یکس ٹو کے نام سے قوم مسلم کی رہنمائی کرتی نایاب تحریر کو من و عن کورٹ کیا جارہا ہے اترپردیش الیکشن میں کچھ قابل غور باتیں:-(الف) اویسی کو ووٹ دینے کے نقصان
(۱) مسلم سماج ہمیشہ کے لئے تنہا ہوجائے گا، ہندومسلم کے درمیان کی خلیج مزید وسیع ہوگی.
(۲) نفرت کی سیاست کو فائدہ پہنچے گا(۳) جو کچھ سیکولروں کے ذریعہ حاصل ہوتا رہا ہے مسلمان اس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھینگے۔(۴) سیکولر پارٹیوں کی ہار ہوگی اور بھاجپا دوبارہ اقتدار حاصل کرکے مزید مضبوط ہوگی اور ظلم و ستم کا ننگا ناچ اور بڑھے گا۔(ب) اکھلیش کو ووٹ دینے کے نقصانات۔ (۱) مسلم ووٹ کی بے وقعتی مزید بڑھے گی۔(۲) مسلم مدعے سرد خانہ میں پڑے رہینگے
(۳) مسلم علاقوں سے غیر مسلموں کو کھڑا کیا جاتا رہے گا۔(۴) مسلم نیتاؤں کو اسٹیج سے بھگایا جاتا رہے گا، قد آور مسلم نیتاؤں کو سائڈ لگایا جاتا رہے گا۔(۵) پارٹی اپنے مفادات کو دیکھتے ہوئے کسی سے بھی سودے بازی کرلے گی چاہے اس میں مسلمانوں کا نقصان ہی ہو۔(۶) مسلمانوں کی کوئی ذاتی رائے نہیں ہوگی۔(ج) اکھلیش کو ووٹ دینے کے فائدے۔(۱) بھاجپا کی ہار ہوگی، اور سرکاری لیول پر ظلم و ستم کا جو ننگا ناچ ہوتا ہے وہ کچھ حد تک کم ہوگا. اور مسلمان وقتی طور ہر سکون کی سانس لے سکیں گے۔
(۲) سرکاری طور پر مسلم شرفا کو کچھ مراعات اور فوائد حاصل ہونگے۔(۳) شناخت کا مسئلہ، لنچنگ، مسلمانوں کا وجود وقتی طور پر محفوظ ہوجائے گا۔(۴) مسلمانوں کو اپنا وجود سمیٹنے اور مضبوطی سے کھڑے ہونے کا کچھ وقت مل جائے گا۔(د) اویسی کو ووٹ دینے کے فائدے۔(۱) مسلم قیادت کو فائدہ پہنچے گا، اور صوبے میں مسلم قیادت مضبوط ہوگی
(۲) مسلمانوں کا بکھرا ہوا ووٹ متحد ہوگا، اور مستقبل میں کسی فیصلے کی پوزیشن میں ہوگا۔(۳) سیکولر پارٹیاں مسلم قیادت سے سودے بازی اور معاہدہ کرنے کے لئے مجبور ہونگی کیونکہ ۲۰ فیصد ووٹ کو کوئی بھی پارٹی ضائع نہیں کرنا چاہے گی۔(۴) مسلم مدعے برابر اٹھتے رہینگے.
(۵) مسلم نیتاؤں کی غیر بھاجپائی اسٹیجوں پر وقعت بڑھے گی اور کوئی ان کی بے عزتی کرنے کی ہمت نہیں کرے گا.
خلاصہ: اکھیلیش کو ووٹ دینے میں ہمیں وقتی سکون و راحت ملنا طے ہے، لیکن یہ سکون بس وقتی ہوگا جیسے کانگریس کے دور اقتدار میں ہوتا تھا، لیکن مستقبل میں مستقل طور پر اس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا، جبکہ اویسی کو ووٹ دینے کی صورت میں وقتی نقصان ہوگا، جس ظلم و ستم کے ہم شکار ہیں اس میں اضافہ کے بھی امکانات ہیں، لیکن مستقبل میں مستقل فائدے حاصل ہونے کے امکانات ہیں.
لہذا میری رائے یہ ہے کہ لمبے اور مستقل فائدے کے حصول کے لئے تھوڑا اور ظلم برداشت کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ کیوں کہ یہی اچھی فکر ہمیں مستقبل میں سرخروئی دیں گی‌۔