اقلیتوں اورظہیرآباد اسمبلی کی ہمہ جہت ترقی کے لۓسابق وزیر الحاج محمد فریدالدین کی خدمات ناقابل فراموش

تازہ خبر تلنگانہ

تلنگانہ حکومت نے میڈیکل سیکٹر میں قابل قدر تبدیلیاں لائی ہیں۔ہریش راؤ
ظہیر آباد اسمبلی حلقہ میں مختلف ترقیاتی کاموں کا افتتاح وسنگ بنیاد
ظہیرآباد:30 جنوری
(ایجنسیز)
وزیرفینانس وصحت مسٹرٹی ہریش راؤ نے ریاست کےاقلیتوں اورظہیرآباد اسمبلی کی ہمہ جہت ترقی کے لۓ سابق وزیر الحاج محمد فریدالدین کی خدمات کو ناقابل فاموش قراردیا اور کہا کہ انہیں دکھ ہے کہ گوداوری کے پانی کی اسکیم اگلے دوتین دن میں افتتاح ہونے جارہی ہے جس کے لۓ مرحوم فریدالدین صاحب نے کافی محنت کی حکومت سے مسلسل نمایندگی کرتے رہے تاکہ ظہیرآباد حلقہ کی زرعی اراضی سیرآب ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ جب انہیں ظہیرآباد اسمبلی حلقہ کے پروگرام سے وقف کروایا گیا تو دل افسردہ ہوا اور آج صبح جب وہ ظہیرآباد آرہے تھے دل شکستہ ہوۓ اور آنکھوں سے آنسوں رواں ہوگۓ کہ ایک اپنے ساتھی کے بغیر یہاں کا دورہ کرنا پڑ رہا ہے ہلکہ جس کے پاس ان کا توقف ہوا کرتا آج ان کےچہلم میں شریک ہو نا پڑا۔انہوں نے فرید صاحب کے ارکان خاندان کے ساتھ ہر ممکنہ تعاون کر نے اور مرحوم کے فرزند محمد تنویر کی سیاسی سرپرستی کا یقین دلایا اور ان سے یہ امید کی کہ وہ بھی تمام طبقات کی خدمات ذریعہ اپنے والد کانام روشن کریں گے۔

وزیر موصوف ظہیر آباد اسمبلی حلقہ میں آج مختلف ترقیاتی کاموں کی افتتاحی وسنگ بنیاد تقاریب میں حصہ لیا اس موقع پر خطاب کرتے ہوۓکہا کہ تلنگانہ حکومت نے میڈیکل سیکٹر میں قابل قدر تبدیلیاں لائی ہیں۔ ایریا ہسپتال میں آکسیجن جنریشن پلانٹ کا افتتاح کرتے ہوۓ بتایا کہ یہ پلانٹ مہندرا اینڈ مہندرا کے زیر اہتمام 1.05 کروڑ روپے کی لاگت سے قائم کیا گیا ہے جس پر انہوں نے خوشی کااظہارکیااور بتایاکہ یہ ریاست کا 86واں آکسیجن جنریشن پلانٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ غریب عوام کےلۓ بہترین طبی خدمات کی فراہمی میں تلنگانہ کوملک کی فہرست میں تیسرا مقام حاصل ہے مگر ٹی ارایس حکومت کی یہ کوشیش ہے کہ ریاست کو پہلا مقام حاصل ہو۔

انہوں نے بتایاکہ کورونا کی دوسری لہر کو 500 میٹرک ٹن آکسیجن درکار تھی جس میں صرف 200 میٹرک ٹن آکسیجن دستیاب رہی۔کورونا جیسی مصیبت کی گھڑی میں اڑیشہ ،تمل ناڈو اور گوا سے ماباقی 300 میٹرک ٹن آکسیجن کو حاصل کیا گیا۔ اس کے لیے کافی تک ودو کرنی پڑرہی تھی۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھررابٶ نے آکسیجن کی پیداوار کو 500 میٹرک ٹن تک کرنے کا حکم دیا۔

وزیر نے کہا کہ فی الحال، ہم 300 میٹرک ٹن کی پیداوار تک پہنچ چکے ہیں اور مزید 200 میٹرک ٹن آکسیجن کی پیداوار کے لیے پاشامیلارم میں ایک پلانٹ کے قیام سے متعلق معاہدہ بھی کیا گیاامکان ہے کہ ہےپلانٹ بہت جلد کارکردہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر ریاست میں 27000 بستر ہیں ہر ایک بستر کو آکسیجن سے مربوط کیاجاۓگا اور کسی بھی حالت میں آکسیجن کی کمی کوحاٸل ہونے نہیں دیاجاۓ گا۔وزیر صحت نے پرزور لہجہ میں کہا کہ تلنگانہ حکومت نے طبی شعبہ میں معیاری تبدیلیاں لائی ہیں۔چیف منسٹر کی ہدایت پر کئے گئے فیور سروے کے مثبت نتائج برآمدہو رہے ہیں۔دو یا تین دن سے ریاست میں کووڈ پازیٹو کیسس کی شرح میں کمی دیکھی جارہی ہے لیکن اس سے خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہےہر ایک کو پابندی کے ساتھ ماسک پہنا چاہۓ اور ویکسین لیناچاہۓ۔

انہوں نے ظہیر آباد ایریا ہسپتال کی ہمہ جہت ترقی دینے کی یقین دہانی کر تے ہوۓ کہا کہ ہسپتال میں سہولتوں کے لیے 50 لاکھ روپے منظور کی منظوری کااعلان کیا۔بعدازاں وزیرموصوف نے ظہیر آباد ایریا ہسپتال کا دورہ کیااور مریضوں سے سہولتوں کے تعلق سے بت چیت کی۔انہوں نےایریا ہسپتال میں جلد ہی 50 بستروں پر مشتمل ایم سی ایچ سنٹر اسی طرح بلڈ بینک وبلڈ اسٹوریج یونٹ کےقیام کا وعدہ کیا۔مسٹرٹی ہریش راؤ نے بتایاکہکے سی آر کٹس کی وجہ سےسرکاری دواخانوں میں زچگیوں کاشرح تناسب 52 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور اسے بڑھا کر 75 فیصد کرنایے۔

وزیر نے اس موقع پر ڈاکٹروں اور عملہ کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ سنگاریڈی اور ظہیرآباد کے سرکاری اسپتالوں میں نارمل ڈیلیوریاں اطمینان بخش اندز میں چل رہی ہیں جس کاتناسب 60 تا 70 فیصد ہے۔ انہوں نےخدمات کو اسی جذبے سے جاری رکھنے پرزوردیااور کہاکہ بلاوجہ سرجری کرنے سے گریز کریں۔ نتیجے کے طور پر، بچے کو زچگی کے پہلے گھنٹے میں وہ امرت نہیں ملتی جس کی اسے ضرورت ہوتی ہے۔

اس سے شیر خوار بچوں کی قوت مدافعت کم ہوجاتی ہے۔ ہماری ریاست میں تقریباً 66 فیصد بچوں کو پہلے گھنٹے میں دودھ نہیں مل رہا ہے۔35 سالہ ماٶں کا کہنا تھا کہ غیر ضروری سرجریوں کی وجہ سے ان کی صحت بگڑ رہی ہے۔انہیں ہیلتھ شری آیوشمان بھارت کے تحت ایریا ہسپتال میں طبی علاج کرانے کی ہدایت دی گئی ۔انہوں نےمحکمہ کے کام کے بارے میں دریافت کیا۔وزیر نے عملہ کو ہدایت کی کہ حکومت کے پاس ادویات اور فنڈز کی کوٸ کمی نہیں ہے انہوں نے غریبوں کو جاطرخواہ طبی امداد فراہم کی ہدیت دی۔مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنے پر ذوردیا۔

انہوں نےڈاکٹروں سے بھی پیشہ وارانہ تقاضوں اور مفوضہ فرایض کی انجام دہی میں غفلت نہ برتنے کا مشورہ دیااور تجویز کیاکہ پرائیویٹ اسپتالوں کے مقابلے سرکاری اسپتالوں میں معیاری طبی خدمات فراہم ہونی چاہۓ۔اس کے بعد وزیر نے ظہیر آباد ٹاؤن میں 50 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کردہ ڈی سی ایم ایس آفس کی عمارت کا افتتاح کیا۔40 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی محکمہ زراعت کے دفتر کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔

اس موقع پر چیرپرسن ضلع پریشد مسز منجوشری جے پال ریڈی، ایم پی بی بی پاٹل، ظہیرآباد کے رکن اسمبلی مانیک راؤ، چیرمین ٹی ایس ایم آئی ڈی سی ایرولا سرینواس، ضلع کلکٹر ہنمنت راؤ، ایڈیشنل کلکٹر راجرشی شاہ، چیرمین ڈی سی ایم ایس کے شیوا کمار، محمد تنظیم احمد سابق نمایندہ چیرمین بلدیہ ظہیرآباد، شیخ فرید ریلوے بورڈ ممبر،سید محی الدین ٹاٶن صدر ٹی ارایس، محمد قطب الدین،محمد یونس،محمد عبداللہ،محمد مظہر،الاڑی ویریشم راملو،بابی،این روی کرن، ڈی ایم ایچ او ڈاکٹر گایتری دیوی، ڈاکٹرس، طبی عملہ، محکمہ کے افسران، سنگاریڈی کے سابق اراکین اسمبلی چنتا پربھاکر، مہندرا اینڈ مہندرا کمپنی کے نمائندے وی ایس رام، ایس۔ بالا مرلی، دلی وسنت ، منکال سھباش ، الاڑی نرسمہلو ،اے ویجناتھ، جابر پٹیل، عتیق احمد خرم، زین العابدین عابد (حیدرآباد)، محمد ایوب ایم پی جے ، صبورقاسمی جمیتہ علما۶، محمد یوسف مسلم ایکشن کمیٹی ،محمد ابراہیم ، محمد عارف غوری، محمد مرتضی ، سریکات ریڈی ،جی پردیپ گوڑ، کے۔ سدھاکر کے بشمول حیدرآباد ، غیر منقسم ضلع میدک اور ظہیرآباد اسمبلی حلقہ کے بلا لحاظ مذ ہب و ملت عوام کی بڑی تعداد نےچہلم میں شرکت کی۔