نئی دہلی 6؍جنوری
زین نیوزڈسک
سپریم کورٹ نے شادی کے نام پر تبدیلی مذہب پر امتناع سے متعلق قانون پر عمل آوری پر روک لگانے سے آج انکار کردیا البتہ حکومت اترپردیش اور جھار کنڈکے نام نوٹسیں جاری کی گئیں حکومت اتر پردیش کی جانب سے حالیہ دنوں میں لائے گئے آرڈنینس اور حکومت جھار کنڈ کی جانب سےزیرنفاذ قانون مذہبی آزادی بابت 2018کو چیلنج کرتے ہوئے داخل کردہ درخواست پر عدالت عظمی نے یہ فیصلہ لیا۔ وشال ٹھاکرے ایڈوکیٹ ‘ او رسماجی جہد کار تیستا سیتلواڈ کی زیر قیادت، سٹیزن فار جسٹس اینڈ پیس کی جانب سے دائرہ کردہ درخواستوں کی چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کی زیر قیادت تین رکنی آئینی بینچ پر مقدمہ کی سماعت ہوئی اور عدالت نے اس کی آئندہ سماعت کو چار ہفتوں تک کے لئےملتوی کردیا یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ حکومت اتر پردیش نے خالصتاً شادی کی خاطر ایک خاتون کو دوسرے مذہب میں شامل کرنے کی صورت میں ایسی شادی کی منسوخی کی سہولت کے ساتھ تبدیلی مذہب پر امتناعی آرڈنینس 22 کو منظوری دی تھی یہ آرڈنینس شادی کے بعد تبدیلی مذہب کے خواہش مند افراد کو تبدیلی مذہب سے ایک ماہ قبل رجسٹریٹ کے روبرو درخواست دینے کا لزوم عائد کرتا ہے درخواست گذاروںنے الزام لگایا کہ اترپردیش اور جھارکنڈ ریاستوں میں زیر عمل صراحت بالا قانون شخصی آزادی کو کچلنے کے مترادف ہے جس کی دستور ہند کی دفعہ21کی رو سے آزادی کی ضمانت دی گئی ہے۔
