پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں ووٹروں کی خاموشی نے بڑھادی امیدواروں کی دھڑکنیں

تازہ خبر قومی
رضوان سلمانی

سہارنپور کی ساتوں سیٹوں پر بدل رہے ہیں حالات
دیوبند، 12؍ فروری
(رضوان سلمانی)
مغربی یوپی میں 58سیٹوں پر پہلے مرحلے کی ووٹنگ ہوچکی ہے ، اس مرتبہ ووٹروں نے خاموشی سے اپنا فیصلہ ای وی ایم میں درج کرادیا ہے، ووٹروں کی یہی خاموشی امیدواروں کی دھڑکنوں میں اضافہ کررہی ہیں۔ خاص طو رپر سہارنپور میں 14فروری کو ہونے والے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کو لے کر سیاسی جماعتوں میں خاصی بے چینی نظر آرہی ہے۔ وہیں سیاسی مبصرین بھی یہ طے نہیں کرپائے کہ ہوا کا رخ کیا ہے۔

مغربی یوپی میں اکثر پہلے اور دوسرے مرحلے میں ووٹنگ ہوتی ہے ، تین ریاستوں سے لگے یوپی کے داخلی دروازے سہارنپور سے ہی اسمبلی سیٹوں کی گنتی شروع ہوتی ہے، اس مرتبہ سہارنپور میں دوسرے مرحلے میں 14فروری کو ووٹنگ ہونا ہے، جب کہ آس پاس کے سبھی اضلاع میں پہلے مرحلے میں ہی 10فروری کو ووٹنگ ہوچکی ہے ، اب تک سہارنپور کے سیاسی مبصرین اور اہم سیاسی جماعتوں کے امیدوار پہلے مرحلے کی ووٹنگ پر نظریں لگائے ہوئے تھے جس سے معلوم ہوسکے کہ سیاست کا رخ کیا رہے گا لیکن جس خاموشی سے ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا وہ حیران کرنے والا ہے۔

رائے دہندگان کی اس خاموشی نے امیدواروں کی دھڑکنوں میں اضافہ کردیا ہے۔ سہارنپور ضلع مغربی یوپی کے دیگر اضلاع سے الگ ہی رہا ہے، گزشتہ انتخاب میں پڑوسی اضلاع میں بی جے پی نے کلین سوئپ کیا تھا لیکن سہارنپور کی 7سیٹوں میں سے صرف 5سیٹوں پر ہی بی جے پی کامیاب ہوئی تھی ۔ اس مرتبہ حالات پوری طرح سے برسراقتدار جماعت بی جے پی کے حق میں نہیں ہیں۔ ضلع میں ہر روز اور ہر پل ہار جیت کے حالات بدل رہے ہیں جس کے سبب سیاسی مبصرین بھی شش وپنج میں ہیں ۔ تشہیر کے آخری روز تک حالات ایسے ہیں کہ کوئی بھی ابھی زیادہ کچھ کہنے کی حالت میں نہیںہے