ہندوستان اس کے تمام شہریوں کی ملکیت ہے۔ ایس ڈی پی آئی
نئی دہلی :12؍فروری
(پریس ریلیز)
سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ ہندوستان ایک تکثیری ملک ہے اور اس کا مفاد بھی تکثیری ہے۔ ہندوستان کا تعلق کسی مذہب، برادری یا گروہ سے نہیں ہے اور اگر کسی کو ہندوستان پر دعوی کرنے کا حق حاصل ہے تو وہ دراوڑین ہیں جنہیں اور دیگر مقامی باشندوں کو آریائی حملہ آوروں نے جنوبی ہندوستان سے بھگادیا تھا جو آریائی حملے سے پہلے اس ملک میں رہتے تھے۔
آر ایس ایس برہمنی تنظیم آریاؤں کی پیروکار ہے جس نے مقامی وادی سندھ کی تہذیب کو موقوف کیا اور ویدوں اور سنسکرت زبان کو متعارف کروایا جو اس وقت رہنے والے مقامی باشندوں کیلئے اجنبی تھیں۔آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کا یہ بیان کہ ہندو مفاد ہی قومی مفاد ہے ان کے آئیڈیالوگ گولوالکر کے قومی تصور کا تبدیل شدہ ورژن ہے، ان کا یہ بیان بلاشبہ اتر پردیش کے ووٹروں کیلئے ہے۔
موہن بھاگوت اس بیان کے ذریعے مذہبی تقسیم اور فرقہ وارانہ پولرائزیشن کو بھڑکا رہے ہیں جس نے مرکز میں آر ایس ایس کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک کا تقریبا گلا گھونٹ دیا ہے۔ مذہبی منافرت اور تعصب آر ایس ایس کا نظریہ ریا ہے اور اس کے نتیجے میں ملک کے تنوع کو نقصان پہنچا ہے۔ ہندوستان کے عوام کو خواہ وہ کسی بھی مذہب، ذات، نسل، زبان وغیرہ سے تعلق رکھتے ہوں، کسی خاص مذہب یا برادری کے مفاد کے ساتھ نہیں بلکہ ملک کے مفاد کے ساتھ کھڑے ہونا چاہئے۔
آر ایس ایس، جس کی قیادت موہن بھاگوت کررہے ہیں، وہ بالادست برہمنیت کی نمائندگی کرتی ہے جو نچلی ذاتوں کوانسان تک نہیں مانتی یا انسانی اقدار پر یقین نہیں رکھتی ہے، اور یہی برہمن ہندو”ہے جس کا حوالہ موہن بھاگوت دیتے ہیں۔اور اسی برہمنیت کے مفاد کو وہ قومی مفاد کہتے ہیں۔ جو آخر تک یقینی طور پر ایک خیالی پلاؤ ہی رہے گا۔ ہندوستان تمام ہندوستانیوں کا ہے، اور اس کا مفاد تمام شہریوں کا مفاد ہے۔ ہندوستان کے لوگ متحد ہوکر ملک کی ملکیت کا دعوی کرنے کی آرایس ایس کی کوشش کو یقینی طور پر شکست دیں گے۔